Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ملک بھر سے

روپے نے کمزوری کا نیا ریکارڈ قائم کیا ، ڈالر کے مقابلے میں 81.23 روپے

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 23rd Sept

نئی دہلی، 23 ستمبر:ہندوستانی کرنسی مارکیٹ میں روپے نے جمعہ کو مسلسل دوسرے دن گراوٹ کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔ ہندوستانی کرنسی روپیہ آج پہلی بار ڈالر کے مقابلے 81 روپے کی سطح سے نیچے گر کر کھلا اور کچھ ہی وقت میں گر کر 81.23 روپے فی ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا۔ ڈالر کے مقابلے روپے کی یہ اب تک کی کم ترین سطح ہے۔ تاہم بعد میں روپے کی صورتحال میں بھی بہتری آئی جس کی وجہ سے دوپہر 12 بجے کے قریب بھارتی کرنسی ڈالر کے مقابلے 80.85 روپے کی سطح پر بحال ہوئی۔
انٹر بینک فارن سیکیورٹیز ایکسچینج میں، ہندوستانی کرنسی نے آج 23 پیسے کے خسارے کے ساتھ 81.09 روپے فی ڈالر پر تجارت شروع کی۔ عالمی دباؤ کے باعث ابتدائی مرحلے میں ڈالر کی مانگ میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے روپے کی قدر میں تیزی سے کمی کا رجحان شروع ہوا۔ تھوڑی ہی دیر میں ہندوستانی کرنسی تاریخی گراوٹ کے ساتھ 81.23 روپے فی ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی۔
روپے کی قدر میں اس زبردست گراوٹ کے بعد کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کا بہاؤ بڑھنے لگا۔ دوپہر 12 بجے تک، ڈالر کی آمد میں اضافے اور اس کی طلب میں معمولی کمی کی وجہ سے روپیہ نچلی سطح سے 38 پیسے بڑھ کر 80.85 روپے فی ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس ریکوری کے باوجود روپیہ مارکیٹ میں مسلسل دباؤ میں ہے جس کی وجہ سے ایک بار پھر ہندوستانی کرنسی میں گراوٹ کا امکان ہے۔ اس سے قبل جمعرات کو روپے نے مضبوط کمزوری دکھائی اور 80.86 روپے فی ڈالر پر تجارت ختم ہوئی۔
مارکیٹ ایکسپرٹ مینک موہن کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے بعد سے بیشتر ممالک کی مارکیٹوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ امریکی فیڈرل ریزرو کے علاوہ بینک آف انگلینڈ اور سوئس نیشنل بینک نے بھی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے رواں ہفتے شرح سود میں اضافہ کیا ہے۔ بینک آف انگلینڈ نے مسلسل ساتویں مرتبہ شرح سود میں اضافہ کیا ہے۔ ان بینکوں کے علاوہ کئی ممالک کے مرکزی بینکوں نے بھی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے شرح سود بڑھانے کا طریقہ اپنایا ہے جس کی وجہ سے عالمی معیشت پر منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔

About the author

Taasir Newspaper