Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

ملک کی سالمیت ہماری اولین ترجیح

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 28th Sept.

مرکزی حکومت نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) پر 5 سال کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔ اس تنظیم پر دہشت گردانہ اور تخریبی کارروائیوں ، حوالہ کاروبار، فسادات برپا کروانے، فرقہ وارانہ خیر سگالی کو ٹھیس پہچانے اور اہم شخصیتوں کے قتل کی سازش کرنے کا الزام ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پی ایف آئی پر پابندی عائد کرنے کی تیاری دو ماہ قبل تبھی سے شروع ہو چکی تھی جب ماہ جولائی میں پی ایم مودی کی پٹنہ میں منعقد ایک ریلی کو مبینہ طور پر دھماکے سے اڑانے کی سازش کا پردہ فاش ہوا تھا۔اس کے بعد سےہی ایجنسیوں نے اسےلگام دینےکا ارادہ کر لیا تھا۔اس ماہ 22 ستمبر کو نیشنل انویسٹی گیشن اور ای ڈی نے ریاستی پولیس کے ساتھ مل کر پی ایف آئی کے خلاف ملک بھر میں سب سے بڑی مہم ’’آپریشن آکٹوپس‘‘ چلایا تھا ۔ 15 ریاستوں میں پی ایف آئی لیڈروں اور دفاتر پر چھاپے مارے گئے۔ 100 سے زیادہ مشکوک لوگوں کی گرفتاریاں ہوئیں۔ 27 ستمبر کو آپریشن آکٹوپس۔ 2 شروع کیا گیا ،جس کے تحت اس پر پانچ برسوں کے لئے پا بندی عائد کر دی گئی ہے ۔27 ستمبر کی دیر رات اس امر کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) اقلیتوں، دلتوں اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے لیے لڑنے والی تنظیم ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔سرکاری رپورٹ کے مطابق پی ایف آئی کی پیدائش 17 فروری، 2007 کو جنوبی ہند کی تین مسلم تنظیموں کے انضمام سے ہوئی تھی۔بتایا جاتا ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد وجود میں آئی اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) کے کچھ سابق ارکان نے 1993 میں نیشنل ڈیولپمنٹ فرنٹ (این ڈی ایف) کے نام سے ایک تنظیم کی تشکیل کی تھی۔اسی این ڈی ایف اور دوسری مسلم تنظیموںنے مل کر پی ایف آئی کو کھڑا کیا۔شروع میں اس کا ہیڈ کوارٹر کیرالہ کے کوجھی کوڈ میں ہوا کرتا تھا۔بعد میں تنظیم نے اپنا ہیڈکوارٹر دہلی منتقل کر دیا۔ اوایم اے سلام پی ایف آئی کے قومی صدر ہیں۔
پی ایف آئی پرہاتھرس میں ذات پات کے تشدد کو پھیلانے، سال 2020 میں شہریت قانون (سی اے اے) کے خلاف ماحول کو بگاڑنے، بنگلورو میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث ہونے ، کرناٹک میں حجاب تنازعہ کھڑا کرنے اور پھر اسے تحریک کی شکل دینے، بار بار پرتشدد اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ر ہنے، کالج کے ایک پروفیسر کا ہاتھ کاٹنے، دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والی تنظیموں سے وابستہ لوگوں کو بے دردی سے قتل کرنے ، اہم لوگوں اور مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے دھماکہ خیز مواد حاصل کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچا نے جیسے کئی الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ پی ایف آئی کے مبینہ دعویٰ کے حوالہ سے بتایا جاتا ہے کہ اس کی جڑیں ملک کی 23 ریاستوں میں ہیں۔کیرالہ، کرناٹک اور تمل ناڈو میں پی ایف آئی سب سے زیادہ سرگرم تھا۔اس نے ملک کی 12 ریاستوں میں ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دیا ہے۔کیرالہ میں، پی ایف آئی پر قتل، فسادات، دھمکی اور دہشت گرد تنظیموں سے تعلق کا الزام لگایا گیا ہے۔ پی ایف آئی پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ اس کا خفیہ ایجنڈا بھارت کو اسلامی اسٹیٹ بنانے کا تھا۔دو ماہ قبل جولائی میں پاپولر فنڈ آف انڈیا کے مشتبہ افراد کو پٹنہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت ان کے پاس سے برآمد ہونے والی دستاویزات میںپی ایف آئی کا ایک کتابچہ بھی شامل تھا ،جس کا نام انڈیا 2047تھا۔اس میں 2047 تک بھارت کو ایک مسلم ملک بنانے اور طالبان مارکہ حکومت قائم کرنے کے لیے دہشت گردی کا بلیو پرنٹ تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ پی ایف آئی نے پچھلے کچھ سالوں میں 120 کروڑ روپے صرف اس لیے اکٹھے کیے ہیں تاکہ وہ ملک بھر میں فسادات اور دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دے سکے۔وہ معاشرے میں تقسیم کے احساس اورمسلمانوں میں مذہبی جنون کو بڑھاوا دینا اس کا مقصد ہے۔اس نے تربیت یافتہ رضاکاروں کی ایک فوج تیار کی ہے، جو ضرورت پڑنے پر اپنی کارروائیاں انجام دے سکتی ہے۔
دوسری طرف ملک کے چند غیر جانبدار اور سیکولر ذہن کے لوگوں کا الزام ہے کہ آر ایس ایس اور پی ایف آئی دونوں کا نظریہ انتہا پسندی پر مبنی ہے۔ایک ’’ہندتو‘‘ کی وکالت کرتا ہے تو دوسرا ’’اسلام ‘‘ کی نمائندگی کا دعویٰ کرتا ہے۔پی ایف آئی کی طرح آر ایس ایس پر بھی جمہوری اقدار کو پامال کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ دونو ں براہ راست الکشن نہیں لڑتے ہیں،لیکن آر ایس ایس کی سیاسی ونگ’’ بی جے پی‘‘ کی طرح پی ایف آئی نے بھی 2009 میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے نام سے اپنا سیاسی ونگ تشکیل دیا تھا۔ آر ایس ایس کی سرگرمیوں پر بھی بھارت کے امن پسند اور جمہور نواز لوگ ہمیشہ انگلی اٹھاتے رہے ہیں۔اب جب کہ پی ایف آئی پر 5 برسوں کے لئے پابندی عائد کر دی گئی ہے ایسے میںملک کے سیاسی و سماجی حلقوں سےایک بار پھر یہ بازگشت سنائی دینے لگی ہے کہ ان تما م تنظیموں اور ان کی معاون اکائیوں پر پابندی کیوں نہیں، جن سے ملک کی سالمیت کو خطرہ ہے۔ کیوں کہ ملک کی سالمیت ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
********************

About the author

Taasir Newspaper