Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

پی کے کی ’’جن سوراج یاترا‘‘

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 30th Sept.

بہار کی سیاست میں انتخابی حکمت عملی ساز کے طور پر مشہور پرشانت کشور ، کل 2 اکتوبر یعنی گاندھی جینتی کے موقع پر ’’جن سوراج یاترا‘‘ شروع کرنے والے ہیں۔پی کے کی اس یاترا کے سلسلے میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کے بہانے وہ ریاست میں اپنی سیاسی زمین تلاش کر رہے ہیں۔ پی کے اپنی یہ ’’جن سوراج یاترا‘‘ ریاست کےضلع مغربی چمپارن تاریخی سر زمین بھیتی ہروا گاندھی آشرم سے شروع کر نے والے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ اس یاتراکے دوران وہ بہار کے مختلف علاقوں میں 3 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کریں گے۔ پرشانت کشور آنے والی دہائی میں بہار کو ٹاپ ٹن ریاستوں میں سے ایک بنانے کے عزم کے ساتھ اپنا سفر شروع کریں گے۔ پی کے نے لوگوں سے اس یاترا میں بڑی تعداد میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔پی کے کی اس’’ جن سورج یاترا‘‘ کوبڑے پیمانے پرعوامی حمایت ملنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ واضح ہو کہ پرشانت کشور، جو کئی سیاسی جماعتوں کے ساتھ وابستہ ہو کر ان کے لئے انتخابی حکمت عملی مرتب کرتے رہے ہیں۔انھیںانتخاب کے میدان کو سر کرنے کی مہارت حاصل ہے۔
’’جن سوراج یاترا‘‘ کے سلسلے میںغیر سیاسی لوگوں کے الگ الگ خیالات ہیں۔ بیشتر لوگوں کی رائے یہ ہے کہ جیسا کہ سننے میں آرہا ہے، اگر ویسا ہو تو یہ بہار کی سیاست کے لئے اچھی پہل ہو سکتی ہے۔حالانکہ بہت سارے لوگوں ، بالخصوص سوشل میڈیا سے دور کے لوگوں کو ابھی تک یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ پرشانت کشور کون ہیں، لیکن وہ اس بات کوتسلیم کر رہے ہیں کہ جس طرح راہل گاندھی کی ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ کے توسط سے کانگریس خود کو عوام سے جڑنے میں کامیاب ہو رہی ہے، اسی طرح پرشانت کشو ر کی اس ’’جن سوراج یاترا‘‘ کے ذریعہ بہار کی سیاست میں ایک نئی سوچ پیدا ہو سکتی ہے، جس کا فائدہ بہار کو حاصل ہو سکتا ہے۔
مغربی چمپارن میں واقع بھارت نیپال کی سرحدی سرزمین بھیتی ہروا کے آس پاس رہنے والے لوگ ’’جن سوراج یاترا‘‘ سے بہت کچھ بدل جائے گا، یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ بہار کی روایتی سیاست اور اس کے روایتی رہنماؤں سے ایک طرح سے لوگ بیزار ہو چکے ہیں۔ لوگ ایسے لیڈروں کی تلاش میں ہیں جو بہار کے بارے میں اچھی سوچ رکھتے ہوں۔ بھیتی ہروا گاندھی آشرم سے عقیدت رکھنے والے لوگوں کا الزام ہے کہ پرشانت کشور سے قبل بھی کئی سیاسی رہنما اپنی سیاسی پد یاترا کے آغاز کے لئے اس جگہ کا انتخاب کرتے رہے ہیں ،لیکن کامیابی حاصل کرنے کے بعد کسی نے بھیتی ہروا کی جانب مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔حالانکہ جو لوگ پرشانت کشور کو جانتے ہیں، انھیں امید ہے کہ اس یاترا کا اچھا اثر ریاست کی سیاست پر پڑے گا۔
ادھر پرشانت کشور بہت پہلے سے یہ کہتے رہے ہیںسماج کی مدد سے نچلی سطح پر صحیح اور کام کے لوگوں کی تلاش بہت ضروری ہے۔ اچھے اور با شعور لوگوں کو سیاست میں لانا بہت ضروری ہے۔ سماجی مسائل کو زمینی سطح پر سمجھنے اور انھیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے قصبوں اور پنچایتوں کی فہرست تیار کرنی ہوگی۔ مسائل کے حل اور علاقے کی ترقی کے لیے بلیو پرنٹ تیار کرنا ہوگا۔ پرشانت کشور پہلے بھی یہ واضح کر چکے ہیں کہ ان کی اس پد یاترا کا مقصد کافی مقدس ہے۔ وہ بہار میں تعلیم، صحت، روزگار اور اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ زراعت، صنعت اور سماجی انصاف پر کام کریں گے۔ جن سوراج یاترا کے ذریعے وہ بہار کے 10 اہم مسائل پر ماہرین اور لوگوں سے تجاویز لیں گے۔ اس کے علاوہ 15 سالہ وژن بھی تیار کیا جائے گا۔
دریں اثنا، سچیدانند رائے، جنہوں نے بی جے پی سےرشتہ توڑ کر آزاد ایم ایل سی کا انتخاب جیتا ہے، یہ اعلان کیا ہے کہ وہ ریاست میں پی کے کی حمایت کریں گے اور ان کی یاترا میں شامل ہوں گے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس مہم کے بعد 2025 میں سیاسی تانے بانے میں تبدیلی آئے گی۔ آزاد ایم ایل سی یہ مانتے ہیں کہ بہار کے لوگ ذات پات سے اوپر اٹھ چکے ہیں۔ پرشانت کشور کی سوچ بہار کی بہتری کے لیے ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ بہار کے اگلے اسمبلی نتخابات میں’’ جن سوراج‘‘ نام کی سیاسی جماعت ریاست کے شہریوں پہلا آپشن ہوگا اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات میںبھی اس پارٹی کا دبدبہ رہے گا۔آزاد ایم ایل سی سچیدانند رائے پرشانت کشور کی یاترا میں اپنے 100 کے قریب حامیوں کے ساتھ شامل ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہار کو پچھلے 35 سالوں سے ایک صحت مند متبادل کی ضرورت ہے۔ پرشانت کشور بہار کی ترقی کے بارے میں اچھی سوچ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی حکمت عملی کی وجہ سے کئی ریاستوں میں کئی پارٹیوں کو الکشن میں کامیابی دلائی ہے۔ فی الحال پرشانت کشور کی ٹیم بہار میں پنچایت سطح پر کام کر رہی ہے، جس کے مثبت نتا ئج جلد ہی ہمارے سامنے آئیں گے۔

 

About the author

Taasir Newspaper