Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

فن فنکار

کامیڈی کنگ راجو سریواستو کی آخری رسوم ادا، کئی اداکار الوداعی پروگرام میں شریک ہوئے

Written by Taasir Newspaper

تاثیر نیوزنیٹورک
محمد شاہنواز عالم،22؍ستمبر،2022

راجو سریواستو 42 دن تک زندگی سے جنگ لڑنے کے بعد بدھ کو اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔ ان کی آخری رسومات جمعرات کو دہلی کے نگم بودھ گھاٹ پر ہوئیں۔الوداعی پروگرام میں پہنچنے والے ساتھی اداکار :ان کے ساتھی اداکار کامیڈین سنیل پال، احسان قریشی سمیت کئی مشہور شخصیات راجو کو آخری الوداعی پروگرام میں شامل تھے۔ اسی دوران ان کے چاہنے والے بھی اپنے محبوب فنکار کی آخری جھلک دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں پہنچے۔بھائی نے مکھ اگنی دی:راجو شریواستو کے بھائی دیپو راجو سریواستو نے مکھ اگنی دی ۔ اس سے پہلے راجو شریواستو کی لاش دشرتھ پوری میں ان کے بھائی کے گھر رکھی گئی تھی۔ بتا دیں کہ راجو کے دو بچے ہیں۔ بیٹی کا نام انترا سریواستو اور بیٹے کا نام آیوشمان شریواستو ہے۔ورچوئل پوسٹ مارٹم ہوا :اس سے قبل بدھ کو راجو شریواستو کا ورچوئل پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا۔ اس عمل میں جسم کی سرجری نہیں ہوتی ۔ لاش کا پوسٹ مارٹم مشین اسکیننگ کے ذریعے ہی کیا جاتا ہے۔ اس میں بہت کم وقت میں لاش لواحقین کے حوالے کردی جاتی ہے۔بالی ووڈ سوگ میں ڈوبا :راجو شریواستو کے اتنی جلدی دنیا سے چلے جانے سے بالی ووڈ میں بھی سوگ کی لہر ہے۔ ان کی موت پر بالی ووڈ کی مشہور شخصیات نے انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے خراج عقیدت پیش کیا جب کہ ریت کے فنکار سدرشن پٹنائک نے اپنے مخصوص انداز میں ریت سے راجو شریواستو کا مجسمہ تراش کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ راجو شریواستو کو 10 اگست کو ورزش کے دوران دل کا دورہ پڑا، جس کے بعد انہیں دہلی کے ایمس اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ جہاں ان کی اسی روز انجیو پلاسٹی کی گئی۔ ایک یا دو بار راجو شریواستو کی صحت میں قدرے بہتری آئی تھی لیکن وہ دوبارہ ہوش میں نہ آسکے۔ 42 دن تک زندگی اور موت کے درمیان لڑتے ہوئے راجو کو بالآخر شکست ہوئی اور اس دنیا کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ دیا۔

 

About the author

Taasir Newspaper