Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

کانگریس کی ضرورت : اشوک گہلوت ؟

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 22ND Sept

اکثر خاندان پروری کے الزامات میں گھری رہنے والی کانگریس میں 24 سال کے بعد ایک بار پھر گاندھی خاندان سے باہر صدر کا انتخاب تقریباً طے سمجھا جا رہا ہے۔ پارٹی نے یہ واضح کردیا ہے کہ راہل گاندھی صدر کے عہدے کے لیے انتخاب نہیں لڑیں گے۔ کانگریس صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل ، کل 22 ستمبر کو جاری نوٹیفکیشن کے ساتھ شروع ہو چکا ہے۔ اس کے لیے امیدواروں کی نامزدگی 24 سے 30 ستمبر تک ہوگی، انتخابات 17 اکتوبر کو ہوں گے اور نتیجے کا اعلان دو دن بعد یعنی 19 اکتوبر کو ہوگا۔ دریں اثنا، راجستھان کے سی ایم اشوک گہلوت، جو صدر کے عہدے کے مضبوط دعویدار ہیں، بدھ کے روز دہلی پہنچ کر سونیا گاندھی سے دو گھنٹے تک ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی مضبوطی کے لیے جہاں کہیں میری ضرورت ہوگی میں وہاں کھڑا ملوں گا۔انھوں نے یہ بھی کہاکہ اگر پارٹی کے لوگ مجھے چاہتے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ پارٹی کے صدر کےعہدے یا وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لئے میری ضرورت ہے تو میں انکار نہیں کروں گا۔
کانگریس صدر کے لیے نامزدگی شروع ہونے سے ٹھیک ایک دن پہلے یعنی آج 23 ستمبر کو راہل گاندھی ’ ’بھارت جوڑو یاترا ‘‘ کےآرام کے دن سونیا گاندھی سے ملنے دہلی پہنچنے والے ہیں۔ ان کے پروگرام میں نامزدگی شامل نہیں ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش کے مطابق، راہل نامزدگی کے دوران 24 سے 30 تک یاترا میں رہیں گے۔اس درمیان دہلی میں سینئر لیڈروں سے ملاقات کے بعد گہلوت کو کانگریس کے صدر کے عہدے کا امیدوار بننا تقریباََ طے ہے۔تاہم گہلوت اب بھی کہہ رہے ہیں کہ راہل کے ساتھ کوچی میں بات چیت میں وہ اسپیکر کی باگ ڈور انہیں سونپنے کی آخری کوشش کریں گے۔ دوسری طرف سابق مرکزی وزیرششی تھرور نامزدگیوں اور ریاستوں کے نمائندوں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے سینٹرل الیکشن اتھارٹی کے چیئرمین مدھوسودن مستری سے ملاقات کر چکے ہیں۔فی الحال ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اگر اشوک گہلوت کو کانگریس صدر کی ذمہ داری مل جاتی ہے تو پھر راجستھان کا وزیر اعلیٰ کون ہوگا۔ ویسے مستقبل میں سی ایم راجستھان کی کرسی خالی دیکھ کر سچن پائلٹ نے اپنے حساب سے فیلڈنگ تیز کر دی ہے۔ وہ منگل کو ہی راہل سے ملنے کوچی پہنچ گئے تھے۔ گہلوت بھی بدھ کو دہلی سے ہوتے ہوئے کوچی پہنچے۔ پائلٹ اب راجستھان کی باگ ڈور سنبھالنا چاہتے ہیں۔ دراصل گہلوت صرف گاندھی خاندان کا انتخاب ہیں۔ ایسی صورت حال میں ایسا نہیں لگتا ہے کہ وہ پائلٹ سی ایم بنانے کی تجویز کی حمایت کرنے کے لئے آسانی سے راضی نہیں ہوں گے۔ جب پائلٹ نے کانگریس میں ایک شخص اور ایک عہدے کا مسئلہ اٹھایا تو گہلوت نے اسے سرے سے خارج کر دیا۔ اس کے بعد دگ وجے سنگھ کو کہنا پڑا کہ گہلوت کو سی ایم کا عہدہ چھوڑنا پڑے گا۔ گہلوت نے سونیا سے ملاقات کے بعد کہا کہ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ میں کہاں رہوں گا۔ میں وہیں رہوں گا جہاں میرے رہنے سے پارٹی کو فائدہ ہو گا۔ عہدے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک عہدہ، ایک شخص کا اصول صرف نامزد عہدے کے لیے ہے۔ کوئی بھی شخص الیکشن لڑ کر دو عہدے کی ذمہ داریاں سنبھال سکتا ہے۔ ادھر کانگریس کی تلنگانہ ، پڈوچیری اور پنجاب اکائیوں نے بدھ کو ایک قرارداد منظور کی، جس میں راہل گاندھی سے پارٹی صدر کا عہدہ سنبھالنے کی درخواست کی گئی۔ خیال رہے کہ کانگریس کی راجستھان، چھتیس گڑھ، بہار، تمل ناڈو سمیت کچھ دیگر ریاستوں کی کانگریس اکائیوں نے پہلے ہی راہل کو پارٹی صدر بنانے کی قرارداد پاس کر چکی ہے۔
بہر حال یہ حقیقت ہے کہ آج کانگریس کی گرفت کافی کمزور پڑ چکی ہے۔ آج وہ ٹھیک اسی دوراہے پر کھڑی ہے، جہاں وہ ساٹھ کی دہائی میں کھڑی تھی۔اُس وقت کامراج منصوبہ کام آیا تھا۔آج پھر کانگریس کو اسی طرح کی ٹانک کی ضرورت آن پڑی ہے۔ گاندھی خاندان نے توگیند کو اچھال کر دوسرے گول پوسٹ کی جانب پھینک دیا ہے۔ اس کو پکڑنے کی دوڑ میں گہلوت آگے ہوں گے یا ششی تھرور، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔لیکن کانگریس کے بہت سارے رہنما ؤں کو اشوک گہلوت میں ہی وہ طاقت نظر آتی ہے، جسے پارٹی کو آج ضرورت ہے۔
*****************

About the author

Taasir Newspaper