Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ ملک بھر سے

کہیںاتحاد ہی انتشار کا شکار نہ ہو جائے !

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 18th Sept

کہا جاتا ہے کہ سیاست امکانات کا کھیل ہے، خاص طور پر ہندوستانی سیاست کے نقطہ نظر سے۔ایسا اس لئے کہا جاتا ہے کہ جب کوئی لیڈر اقتدار حاصل کرنے یا اسے برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہو تب کچھ بھی ممکن ہے۔ ویسےساحل پر بیٹھ کر تماشہ دیکھنے اور اپنے اپنے حساب سے تبصرہ کرنے والوں کی تعداد توکروڑوں میں ہے۔
پچھلے مہینے جے ڈیوکے رہنما اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے بی جے پی سے تعلقات توڑ کر راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ چلے گئے۔ نتیش کمار کے اس فیصلے پر بھی خوب الٹے سیدھے تبصرے ہوئے تھے۔ گری راج سنگھ جیسے کٹر ہندتو وادیوں سے لیکر بی جے پی کےآئی ٹی سیل سے بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر وابستہ ہزاروں،لاکھوں کارکنان کو راتوں رات بہار میں جنگل راج نظر آنے لگ گیا تھا۔جبکہ سماجوادی نظریہ اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لئے فکرمند لوگوں نے نتیش کمار کے اس قدم کی خوب ستائش کی تھی۔ اس کے بعد سے ہی زور و شور کے ساتھ یہ چرچا ہو نے لگا ہے کہ نتیش کمار 2024 میں اپوزیشن کی طرف سے وزیر اعظم کے امیدوار ہوںگے۔ ادھر دو تین دنوں سے توعوامی سطح پر یہ بات موضوع بحث بنی ہوئے ہے کہ نتیش کمار 2024 کا لوک سبھا چناؤ یوپی کے انتخابی حلقہ پھولپور سے لڑنے والے ہیں۔بی جے پی سے تعلقات توڑنے کے بعد سے، نتیش کمار نے راہل گاندھی، سیتارام یچوری، ڈی راجہ، اروند کیجریوال، اکھلیش یادو اور کے چندر شیکھر راؤ سمیت کئی غیر بی جے پی رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔ اس کوشش کو اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنے کی ایک پہل کے طور پر دیکھا جا ر ہے۔نتیش کمار کی اس پہل پر بھی مختلف ردعمل سامنے آرہے ہیں۔ جے ڈی یو اور آر جے ڈی کے بی جے پی کے خلاف اکٹھے ہونے کو ایک طبقہ بی جے پی کے خلاف منڈل سیاست کے احیاء کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ساتھ ہی کچھ لوگ نتیش کمار کو اپوزیشن کی سیاست کو متحد کرنے کی طاقت کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔ تیسرا طبقہ یہ پیشین گوئی کر رہا ہے کہ نتیش کمار وزیر اعظم نریندر مودی کے متبادل کے طور پر ابھریں گے۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو منڈل کی سیاست کو زندہ کرنے کی کوشش کے بجائے نتیش کمار کی اس پہل کو بی جے پی کے ساتھ سیدھی لڑائی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
بی جے پی کے خلاف نتیش کمار کی اس سیاسی پہل کے سلسلے میں کچھ بھی کہا جائے لیکن یہ ایک بات طے ہے کہ یکایک بی جے پی سے رشتہ توڑنے اور پھر بی جے پی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے سے متعلق لئے گئے سخت فیصلے نے بی جے پی مخالف سیاسی لیڈروں کے درمیان نتیش کمار کے قد کو بہت اونچا کر دیا ہے۔اس کے ساتھ ہی قومی سطح کی سیاست میں بہت کچھ بدل بھی گیا ہے۔ ذات پات، مذہب اور علاقائی شناخت کے ساتھ ساتھ اب عوام مندر مسجد یا مذہبی منافرت کی سیاست سے اوپر اٹھ کر پڑھائی، لکھائی، مہنگائی، بے روزگاری، سڑک ، بجلی ، پانی ، صحت ، قانون و انتظام اور دوسرے بنیادی مسائل پر چرچا کرنے لگے ہیں۔ بدلے ہوئے اس سیاسی منظر نامے میں کسی محصوص ایجنڈے کی بنیاد پر سیاسی دعوے کے جادوئی اثر کی کوئی امید پوری ہوتی ہوئی نظر نہیں آ رہی ہے۔ ویسے 2024 ابھی بہت دور ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے دن جیسے جیسے نزدیک ہو ں گے، ملک کی سیاست کیسے کیسے رنگ بدلیگی ، ابھی اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے۔
ملک کے موجودہ سیاسی تناظر میں،بی جے پی کے خلاف نتیش کمار کی سیاسی مورچہ بندی کی مضبوطی کا زیادہ انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ اور ان کا نیا اتحاد او بی سی کو اپنے حق میں کرنے کے لیے کتنی مضبوط منصوبہ بندی کرتا ہے۔ سماجوادی طاقتوں کو یہ نہیںبھو لنا چاہیے کہ بی جے پی اور اس کی معاون تنظیموں نے پچھلی چند دہائیوں میں پورے بھارت میں او بی سی کے ایک بڑے طبقے خاص طور پر او بی سی کے نوجوانوں میں ’’ہندتو‘‘ کا جنون بھر کر انھیں سناتنی نظریہ سے جوڑنے میں بڑی محنت کی ہے۔اس محنت کا پھل انھیں 2024 میں ملے گا، اس کا بی جے پی کو پورا یقین بھی ہے۔ایسی صورت میں اپوزیشن اتحاد کی کوشش کتنی بار آور ہوگی ، یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ ویسے کمر توڑ مہنگائی، بے روزگاری اور مذہبی منافرت یہ تین ایسے اہم ایشوز ہیں ، جن سےعوام کی نگاہوں کو ، آئندہ لوک سبھا انتخابات کے موقع پر ، بھٹکانے کی کوشش شاید کامیاب نہیں ہو سکے۔بی جے پی کی یہی کمزوری اپوزیشن اتحاد کی طاقت ثابت ہو سکتی ہے۔بس شرط صرف یہ ہے کہ چہروں کی سیاست میں الجھ کر کہیں وقت سے پہلے اپوزیشن اتحاد ہی انتشار کا شکار نہیں ہو جائے۔
***********

About the author

Taasir Newspaper