Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

آرٹیکل

گوریّا اور کوّے کی لڑائی کا فائدہ کہیں بندر تو نہیں اٹھا رہا ہے !؟

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 22ND Sept

محمد نور عالم، پٹنہ

یہ ایک پرانی کہانی ہے۔ ایک کوّے کی اپنی پڑوسی گوریّا سے لڑائی ہوگئی۔ لڑائی ختم نہیں ہوئی۔ کوّا انتقام کی آگ میں جلتا رہا۔ ایک بندرجو گوریّا اور کوّا دونوں سے حسد کرتا تھا، نے لڑائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک منصوبہ بنایا اور کوّے کو گوریّے کے گھونسلے کو جلا دینے پر اکسایا۔ جب گوریّا کہیں چلی گئی تو کوّے نے اس کے گھونسلے میں آگ لگا دی اور پھرمارے سکون کے دیر تک آنھیں بند رکھیں۔حالانکہ چند لمحوں کے بعد آگ قریبی شاخوں میں پھیل گئی اور گوریّے کے ساتھ ساتھ کوّے کا گھونسلہ بھی تباہ ہوگیا۔ کوّا اور گوریّادونوں بے گھر ہو گئے۔یہ منظر دیکھ کر بندر کی خوشی کا ٹھکانہ نہیںرہا۔ بچوں کے لئے لکھی گئی یہ کہانی بھلے ہی کافی پرانی ہو گئی ہو ، لیکن اس کی معنویت آج بھی برقرار ہے۔ شاید مستقبل میں بھی بر قرار رہے گی۔اس طرح کی سچی کہانیاں اکثر و بیشتر دیکھنے یا سننے میں آتی رہتی ہیں۔کچھ اسی طرح کا واقعہ ساحلی کرناٹک کے ضلع دکشن کنڑا میں پیش آیا۔واقعہ 21 جولائی سے 28 جولائی 2022 کے درمیان پیش آیا تھا۔گرچہ ابھی تک کی تحقیقات میں یہ بات پوری طرح صاف نہیں ہو پائی ہے کہ اس میںہونے والی تین اموات کے پیچھے کی حقیقت کیا ہے ، لیکن یہ سب کو معلوم ہے کہ یہ سب فرقہ وارانہ کشیدگی کا ہی نتیجہ تھا، جو آج بھی کرناٹک کے ساحلی علاقوں میں کسی نہ کسی شکل میں بر قرار ہے۔ فرقہ وارانہ کشیدگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی انسانی مشکلات سے تمام امن پسند اور سنجیدہ لوگ واقف ہیں۔انھیں یہ بھی معلوم ہے کہ اس طرح کے واقعات کے پیچھے عموماَ سیاست باز قسم کے لوگوں کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔وہی لوگ سیدھے سادے اور معصوم لوگوں کو لڑاکر اپنے مفاد کی کھیتی کرتے ہیں۔اس طرح کی لڑائی سے عیار اور مکار لوگوں کا فائدہ تو ہو جاتا ہے، لیکن سماج کو کتنا بڑا نقصاناٹھانا پڑتا ہے، اس کا اندازہ تب ہوتا ہے جب سب کچھ تباہ و برباد ہوچکا ہوتا ہے۔
21 جولائی سے 28 جولائی 2022 کے درمیان ہوئی ان ہلاکتوں کے حقائق سے باخبر لوگوں، جن میں تقریباََ تمام مذاہب اور رنگ و نسل کے لوگ شامل ہیں، کا صاف صاف یہی کہنا ہے کہ پر امن سماج کی جڑوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہے فتنہ گروںنے ہی بھارتی معاشرے کے کچھ حصوں میں، عوامی شعبوں کے ساتھ ساتھ نجی شعبوں کو بھی ہائی جیک کر لیا ہے۔ ایسے میں کچھ لوگ یہ سمجھنے سے عموماََ قاصر رہتے ہیں کہ انہیں اس طرح کے جھگڑوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ فرقہ وارا نہ کھیل سے صرف نفرت کی کھیتی کرنے والے (مثلاََکہانی کا بندر) ہی فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں۔ وٹل داس، جو پروین کی چکن شاپ سے ملحق ایک جنرل اسٹور چلا تے ہیں ، کا کہنا ہے کہ مسعود (ہلاک ہونے والے تین افراد میں سے ایک)کے مارے جانے کے بعد، کسی کو شک نہیں تھا کہ پروین کو بھی نشانہ بنا دیا جائے گا ،کیونکہ علاقے کے مسلمانوں کے ساتھ اس کے بڑے بڑے اچھے مراسم اور تھے۔ جب علاقے میں کشیدگی بڑھی تھی تو اس نے اپنے تمام ہندو دوستوں سے رابطہ کیا تھا اور انہیں متنبہ کیا تھا کہ وہ فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکانے سے گریز کریں۔لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ وہ خود ہی فرقہ وارانہ تصادم کا شکار ہو جائے گا۔ اس موقع پر انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے مسعود کے والد عمر فاروق نے کہا کہ ’’یہ قتل اور تشدد بند ہونا چاہیے۔‘‘ انھوں نے دست بدستہ کہا کہ ’’میری صرف یہی درخواست ہے کہ ایسا کسی کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے کیوں نہ ہو۔ آج میں جس تکلیف سے گزر رہا ہوں ، اس سے کسی باپ کو نہیں گزرنا چاہئے۔‘‘
ظاہر ہے کہ اس طرح کے تمام لرزہ خیز واقعات انفرادی و عوامی دونوں طرح کی زندگیوں کو درہم برہم کردیتے ہیں اور عام لوگوں کے سماجی تعلقات کو مشکوک اورپیچیدہ بنا دیتے ہیں۔اب تو یہی ہوگا کہ متاثرہ خاندان کے لوگ اردگرد کے لوگوں کے ساتھ احتیاط اور شکوک سے کام لیں گے۔انھیں یہ بھولنے میں ایک نسل درکار ہوگی کہ فرقہ واریت نے ان کی ہنستے کھیلتے گھروں کو کس طرح متاثر کیا ہے۔ دریں اثنا، دوسری طرف،کہانی کے بندر والے کردار کے لوگ سیدھے سادے معصوم عوام کو بہلا پھسلا کر انھیں اپنا آلۂ کار بناتےرہتےہیں۔ اپنی اپنی برادریوں اور اپنے اپنے مذہب کے ماننے والوں کے درمیان اپنی جگہ بنانے اور دوسرے مذہب کے ماننے والوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اکثر کامیاب بھی ہو تے ہیں۔ایسے میں جب تک عام لوگ سماجی ہم آہنگی کے پرانے کلچر کو زندہ نہیںرکھیں گے اور پرامن بقائے باہمی پر توجہ نہیں دیں گے تب تک نفرت پھیلانے والے جیتتے رہیں گے اور امن، محبت اور آپسی بھائی چارہ کی شکست ہوتی رہے گی۔چنانچہ نہ صرف مسعود اور پروین جیسے معصوم لوگوں کے پس ماندگان بے موت قسطوں میں مرتے رہیں بلکہ کوّے اور گوریّے کی طرح ہمارا پورا معاشرہ عدم رواداری ،بد گمانی اور شکوک و شبہات کی جڑوں سے اگنے والے مذہبی منافرت کی قیمت ادا کرتا رہے گا۔
******************
مضمون نگار روزنامہ’’ تاثیر ‘‘ کے ایگزیکیوٹیو ایڈیٹر ہیں۔
mybestindia.mbi@gmail.com

About the author

Taasir Newspaper