Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ریاست

جنوبی کشمیر میں عصمت دری کے الزام میں ایک اور صحافی گرفتار

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 3rd Oct۔

سرینگر، 03 اکتوبر: :پولیس نے جموں و کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں جنسی استحصال کے معاملے میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔حکام نے پیر کو بتایا کہ عصمت دری اور جبری وصولی کی شکایت کے بعد ایک اور حافی” کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس معاملے میں پہلی گرفتاری ندیم احمد گنائی عرف ندیم ناڈو کے “خود ساختہ صحافی” کے طور پر ہوئی ہے،جس پر ایک خاتون نے اس پر عصمت دری اور جبری وصولی کا الزام لگایا تھا۔ ایک پولس افسر نے بتایا کہ اس کیس میں دوسرے گرفتار شخص کی شناخت سلمان شاہ کے طور پر کی گئی ہے جو کہ گنائی کا قریبی دوست ہے۔ اطلاعات کے مطابق، شاہ ایک مقامی ہفتہ وار اخبار میں بطور صحافی کام کر رہا ہے۔ افسر نے مزید کہا کہ جنوبی کشمیر کے ضلع میں چند مقامات پر چھاپے مارے جانے کے بعد گرفتاری رات کے وقت عمل میں لائی گئی ہوئی۔ واضح رہے خاتون کی شکایت کے مطابق، ملزم نے متاثرہ کو اپنے واٹس ایپ گروپ کے ذریعے مدد کے طلب گار لوگوں کے لیے لالچ دیا اور اسے دھوکہ دہی کے بعد جنسی تعلقات پر مجبور کیا۔ایک پولیس ترجمان نے ہفتہ کو بتایا کہ “سرینگر پولیس نے ایک خود ساختہ صحافی ندیم احمد گنائی عرف ندیم ناڈو، جو قاضی باغ، اننت ناگ کے رہنے والے ہیں، کو ایک لڑکی کی جانب سے موصول ہونے والی شکایت پر عصمت دری کے معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ متاثرہ نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ ملزم نے اسے بے ہوش کرنے کے بعد اس کی قابل اعتراض تصویریں کھینچیں اور ان کا استعمال کرکے اسے کئی بار جبری جنسی تعلقات پر بلیک میل کیا۔ملزم نے اسے بلیک میل کرنے کے دوران اس کے سونے کے زیورات بھی چھین لیے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ خاتون اس جرم کی واردات کے وقت وسطی کشمیر کے ایک ادارے میں طالب علم تھی۔پولیس نے خواتین پولیس اسٹیشن سری نگر میں 376 آئی پی سی ( عصمتدری) سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا اور معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper