Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

فن فنکار

حنا خان نے اکشرا کا کردار ادا کر ناظرین کے دلوں میں خاص جگہ بنائی

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 1st Oct.

ممبئی :ٹیلی ویژن کی دنیا سے بالی ووڈ تک کا سفر طے کرنے والی خوبصورت اداکارہ حنا خان اپنی اداکاری کے ساتھ ساتھ اپنے لْکس، اسٹائل اور فیشن سینس کی وجہ سے بھی اکثر خبروں میں رہتی ہیں۔ 2 اکتوبر 1987 کو پیدا ہونے والی حنا خان نے اپنے اداکاری کیرئیر کا آغاز 2009 میں اسٹار پلس کے مشہور سیریل ‘ یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے’ سے کیا۔ اس سیریل میں انہوں نے اکشرا کا کردار ادا کرکے ناظرین کے دلوں میں اپنی خاص جگہ بنائی۔ اس کے بعد وہ ٹیلی ویژن کی ’سنسکاری بہو ‘میں شمار ہونے لگیں۔ تاہم حنا حقیقی زندگی میں کافی بولڈ ہیں۔
حنا نے سونی ٹی وی کے گانے پر مبنی شو انڈین آئیڈل میں بطور کنٹسٹنٹ اپنی قسمت آزچکی ہیں، لیکن اس شو میں صرف ٹاپ30 کنٹسٹنٹمیں ہی جگہ بنا سکی تھیں۔ انہیں اپنی اصل پہچان سیریل ‘یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے’ سے ملی۔ اس کے بعد وہ ریئلٹی شوز ‘خطروں کے کھلاڑی’ اور ‘بگ باس’ میں نظر آئیں۔وہ ‘بگ باس 11’ میں شو کی رنر اپ تھیں۔ اس کے علاوہ وہ ب’ہو ہماری رجنی کانت، بھاگ بکل بھاگ، بے پناہ، ناگن 4، کسوٹی زندگی کی 2 وغیرہ جیسے سیریلز میں بھی نظر آ چکی ہیں۔ سال 2020 میں، حنا نے وکرم بھٹ کی ‘ہیکڈ’ سے بالی ووڈ میں قدم رکھا۔ اس کے بعد وہ وش لسٹ اور لائنز فلموں میں بھی نظر آئیں۔ ان فلموں میں اداکاری کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں پروڈیوس بھی کیا۔
حنا ویب سیریز اور کئی میوزک البمز میں بھی نظر آ چکی ہیں۔ سال 2022 میں حنا خان کانز فلم فیسٹیول 2022 کا بھی حصہ تھیں، جس میں انہوں نے اپنے انداز سے سب کا دل جیت لیا۔
حنا خان نے بہت کم وقت میں ناظرین کے دلوں میں اپنی خاص جگہ بنا ئی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کے مداحوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ذاتی زندگی کی بات کریں تو وہ 2014 سے سیریل ‘یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے’ کے پروڈیوسر راکی جیسوال کے ساتھ ریلیشن شپ میں ہیں۔ دونوں کو اکثر کئی مواقع پر ایک ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper