Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ ملک بھر سے

درونِ خانہ مچی ہے ہلچل ؟

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 3rd Oct۔

بےر وزگاری کے معاملے پر اب تک صرف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ہی مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا جا رہا تھا، لیکن اب اس معاملے میںآر ایس ایس ( راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ) نے بھی تشویش کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسابولے نے ملک میں بے روزگاری اور آمدنی میں بڑھتی عدم مساوات پر تشویش کا اظہار کیاہے۔ ہوسابولےکے مطابق ملک کے سامنے غربت ایک عفریت کی طرح چیلنج بن کر ابھر رہی ہے۔گرچہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کئی سالوں میں کئی اقدامات کیے گئے ہیں، لیکن غربت کے علاوہ عدم مساوات اور بے روزگاری دو ایسے چیلنجز ہیں،جن سے ترجیحی بنیاد پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔ہمیں دکھ ہونا چاہئے کہ 200 ملین لوگ خط غربت سے نیچے ہیں اور 23 کروڑ لوگ یومیہ 375 روپے سے بھی کم کما رہے ہیں۔ ملک میں تقریباََ چار کروڑ بے روزگار ہیں، جن میں سے 2.2 کروڑ دیہی علاقوں میں اور 1.8 کروڑ شہری علاقوں میں بے روزگار ہیں۔ لیبر فورس کے سروے میں بے روزگاری کی شرح 7.6 فیصد بتائی گئی ہے۔ایسے میں حکومت کو اس سمت میں اعلان سے زیادہ کوششیں کرنی ہوں گی۔
دتاتریہ ہوسابولے گزشتہ روز سنگھ سے وابستہ سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) کے زیر اہتمام ایک پروگرام میں ملک میں بے تحاشہ بڑھی ہوئی بے روزگاری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ اس آسیب کا خاتمہ ضروری ہو گیا ہے۔ ہوسابولےنے کاٹیج صنعتوں کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں ان کی رسائی کو بڑھانے کے لیے ہنر مندی کے شعبے میں مزید اقدامات کی تجویز بھی دی۔ آمدنی میں عدم مساوات پر ہوسابولے نے سوال کے لہجے میں پوچھا کہ کیا یہ اچھی بات ہے کہ دنیا کی چھ معیشتوں میں سے ایک ہونے کے باوجود ملک کی نصف آبادی کو کل آمدنی کا صرف 13 فیصد حصہ ملتا ہے ؟
واضح ہو کہ اس سے قبل کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بھی، گزشتہ پانچ سالوں میں 20 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح کو مبینہ طور پر دوگنا کرنے پر وزیر اعظم نریندر مودی پر طنز کیا تھا۔ سینٹر فار مانیٹرنگ آف انڈین اکانومی (سی ایم آئی آئی) کے اعداد و شمار کا حوالہ کے تحت ایک گراف شیئر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا تھاکہ مالی سال 2017-18 میں 20 سے 24 سال کی عمر کے درمیان بے روزگاری کی شرح نوجوانوں کی تعداد 21 فیصد تھی جو مالی سال 2021-22 میں بڑھ کر 42 فیصد ہو گئی۔ حال ہی میں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے مدھیہ پردیش کے کونو نیشنل پارک میں نمیبیا سے لائے گئے چیتوں کو چھوڑنے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ راہل گاندھی نے پوچھا تھا کہ آٹھ سالوں میں 16 کروڑ نوکریاں کیوں نہیں آئیں؟ مانسون اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ میں بھی اس معاملے پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی تھی ۔مہنگائی اور بے روزگاری کے مسئلہ پر کالا کپڑا پہن کر احتجاج کرنے کے لئے راہل گاندھی سمیت کئی دیگر کانگریسی اراکین لوک سبھا پہنچے تھے۔ تب بے روزگاری کے مسئلہ پر اپوزیشن ارکان کے علاوہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی نے بھی اپنی حکومت کو نشانہ بنایا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ اس سال جون کے مہینے میں مرکزی حکومت کی طرف سے کہا گیا تھا کہ اگلے ڈیڑھ سال میں 10 لاکھ نوکریاں دی جائیں گی۔ اس امر کا اعلان خود وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ تمام محکموں اور وزارتوں میں خالی آسامیوں کا جائزہ لینے کے بعد انہوں نے اگلے ڈیڑھ سال میں 10 لاکھ لوگوں کو بھرتی کرنے کی ہدایت دی ہے۔اس سلسلے میں مشن موڈ میں کام چل رہا ہے۔
ادھرسرکاری محکموں میں لاکھوں اسامیاں خالی پڑی ہیں۔اس سلسلے میں ،پارلیمنٹ میں حکومت کی طرف سے دیے گئے بے روزگاری کے اعداد و شمار کو نشانہ بناتے ہوئے ورون گاندھی نے کہا تھا کہ حکومت کی طرف سے دیے گئے اعداد و شمار، ملک میں بے روزگاری کی صورتحال بتا رہے ہیں۔ گزشتہ 8 سالوں میں 22 کروڑ نوجوانوں نے مرکزی محکموں میں نوکریوں کے لیے درخواست دی تھی، جن میں سے صرف 7 لاکھ کو ہی روزگار ملا ہے۔ ورون نے حکومت سے سوال پوچھا تھا کہ جب ملک میں تقریباً ایک کروڑ منظور شدہ آسامیاں خالی ہیں توپھر ملک میں اس قدر پھیلی بے روزگاری کے لئے کون ذمہ دار ہے ؟
مرکز میں این ڈی اے کی حکومت کے دوران شایدیہ پہلا موقع ہے کہ آر ایس ایس کی جانب سے، ملک میں بڑھتی بے روزگاری اور آمدنی میں عدم مساوات پر کھل کر تشویش اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ساتھ ہی بے جے پی رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی نے بھی اپنی پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔بی جے پی کا اپنے ہی گھر میں تنقید کانشانہ بننا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔اس واقعہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گھر کے اندر کس قدر ہلچل مچی ہے۔
***********************

 

 

About the author

Taasir Newspaper