Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ملک بھر سے

سریمد بھگوت گیتا، رامائن اور مہابھارت کا فارسی میں ترجمہ کیا گیا ہے

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 3rd Oct۔

اسلامی ملک ایران میں ہندو صحیفے پڑھائے جاتے ہیں
نئی دہلی، 03 اکتوبر: کسی کو یہ جان کر حیرت ہو سکتی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی بہت سی یونیورسٹیوں میں ہندو مذہب کے مقدس متون جیسے شریمد بھگوت گیتا، رامائن اور مہابھارت کو صحیح طریقے سے پڑھایا جاتا ہے۔ ایرانی حکومت نے ان تینوں کتابوں کے فارسی زبان میں ترجمے بھی شائع کیے ہیں۔ ایران نے یہ قدم دوسرے مذاہب کو جاننے اور سمجھنے کے لیے اٹھایا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور ایران کے درمیان تعلقات ہمیشہ بہت اچھے رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلے کا عمل صدیوں پرانا ہے۔ اس کا اثر وہاں کی تعلیم پر نظر آتا ہے۔ اس حوالے سے نور انٹرنیشنل مائیکرو سنٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مہندی خواجہ پیری جو کہ بھارت میں ایران کلچر ہاؤس سے پرانی کتابوں اور ریکارڈ وغیرہ کو محفوظ کرنے کے کام سے منسلک ہیں، نے بتایا کہ ایرانی حکومت نے بھگود گیتا کے ترجمے شائع کیے ہیں، فارسی زبان میں رامائن اور مہابھارت کر چکے ہیں۔ یہ تمام مذہبی کتابیں وہاں کی کئی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان مذہبی کتابوں کو پڑھانے کا مقصد ایشیا، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے مذاہب کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنا ہے۔
ڈاکٹر مہدی خواجہ پیری نے بتایا کہ ایران کا ماننا ہے کہ ہندومت ایک قدیم سناتنی مذہب ہے، جس کے بارے میں معلومات جمع کرنا بہت ضروری ہے۔ ایرانی ہندو مت، ثقافت اور تہذیب سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔ اسی لیے ایران میں لوگ ہندو مذہب کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ بھگود گیتا، رامائن اور مہابھارت کا فارسی میں پہلی بار ترجمہ کیا گیا تھا، بلکہ ہمیں ہندوستان میں مسلم حکمرانوں کے دور میں ان مذہبی کتابوں کے فارسی تراجم کے 70 نمونے ملے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اکبر، جہانگیر اور شاہ جہاں جیسے مغل بادشاہوں کے دور میں بھی یہ کتابیں فارسی زبان میں ترجمہ کرکے شائع کی گئیں۔ درحقیقت مغلیہ دور حکومت میں فارسی کام کی سرکاری زبان تھی اور اس وقت ہندوستان کے قدیم ترین ہندو مذہب کو سمجھنے کے لیے حکمران طبقے کے لیے مذہبی کتابوں کا فارسی میں ترجمہ کرانا بہت ضروری ہو گیا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کسی بھی مذہبی کتاب کا ایک ہی زبان میں 70 مرتبہ ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس سے ان مذہبی کتابوں کی اہمیت بھی معلوم ہوتی ہے۔ ایران کا ماننا ہے کہ ہندومت جنوبی ایشیا کا ایک بڑا مذہب ہے۔ ہر ایک کو اس مذہب کے بارے میں کم از کم عام معلومات ضرور ہونی چاہئیں۔ اس لیے ہم اس دین کو سمجھنے اور سکھانے کے لیے ان کتابوں کا ترجمہ اور مطالعہ کر رہے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper