Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

آرٹیکل

سر سید کی تعلیمی معنویت

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 16th Oct۔

 

 

 

 

انجینئر ا بو رضوان (علیگ)

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
ہندوستان کی سرزمین قدیم زمانے سے علم کے معاملے میں بہت زرخیز رہی ہے۔ یہاں کے علمی تاریخ کے اوراق کو پلٹنے سے یہ حقیقت آشکارہ ہوتی ہے کہ یہاں کی کئی علمی شخصیات عہد ساز رہی ہیں اور کئی تاریخ ساز رہی ہیں۔ سرسید احمد خاں کا شمار انہیں شخصیات میں ہوتا ہے جو عہد ساز اور تاریخ ساز دونوں خصوصیات کی حامل تھی۔ سرسید انیسویں صدی کے ان عبقری شخصیات میں سے تھے جنہوںنے اپنے منفرد علمی وفکری نظریات کے ذریعہ تاریخ کے دھارے کو موڑدیا۔ یہی وجہ ہے کہ انیسویں صدی کی علمی شخصیات میں مشاہیر کی حیثیت سے سرسیّد سرفہرست نظر آتے ہیں۔ سرسید کی شخصیت کثیر الجہات تھی۔ اگر ایک طرف وہ ماہرتعلیم تھے دوسری طرف اپنے وقت کے دور بین سیاست داں بھی تھے۔ اگر وہ ایک طرف قومی مفکر تھے تو دوسری طرف اردو ادب کے شہسوار بھی تھے۔ اگر ایک طرف اردو کے صاحبِ طرز ادیب تھے تو دوسری طرف مفسر قرآن بھی تھے۔ مختصر یہ کہ سرسید اپنے آپ میں ایک انجمن تھے۔ وہ اپنے عہد کے انتہائی ذہین اور دوربین انسان تھے۔ جس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ 1834ء کے آس پاس جب وہ تعلیم سے فارغ ہوئے تو ملازمت کے سلسلے میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور دلّی کے مغلیہ دربار دونوں جگہ سے انہیں پیش کش ہوئی۔ لیکن انہوںنے ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمت کو اختیار کیا ۔چونکہ ان کی بصیرت افروز نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ انگریزوں کا مستقبل ہندوستان میں روشن ہے جبکہ مغلیہ حکومت کاچراغ گل ہونے والا ہے۔ حالانکہ مغلیہ دربار سے انہیں ’’جوادالدولہ‘‘ کاخطاب بھی ملا تھا۔ بعد کے اوقات میں غدر 1857ء کے واقعات نے سرسید کی فکر کو صحیح ثابت کیا۔
غدر 1857ء میں تمام تر کوششوں کے باوجود ہندوستان سے مغلیہ حکومت کا چراغ ہمیشہ کے لئے گل ہوگیا اور پورے ملک پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا تسلط پورے طورپر قائم ہوگیا۔ چونکہ انگریزوںنے حکومت مسلمانوں سے طاقت کے زور پر حاصل کیا تھا۔ اس لئے فاتح کی حیثیت سے ان کے عتاب کا شکار اکثر وبیشتر مسلمان ہی ہوتے۔بہادر شاہ ظفر کو قید کرکے رنگون بھیج دیا گیا جہاں دیارِ غیر میں بے بسی کے عالم میںبہادر شاہ ظفر کی وفات ہوگئی۔ انگریزوں نے غدر 1857کا ذمّہ دار مسلمانوں کو ہی قرار دیا۔ ایسے ناموافق حالات میں سرسید نے مسلمانوں کی طرف سے صفائی کے طورپر ’’اسباب بغاوت ہند‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی جس میں مدلّل اندازمیں نہایت جرأ ت کے ساتھ یہ ثابت کیاکہ غدر 1857ء کے ذمہ دار مسلمان نہیں تھے۔اس طرح سرسید بہت حد تک انگریزوں کی غلط فہمی کو دورکرنے میں کامیاب رہے۔
لیکن 1857ء کے بعد ملک میں جو سیاسی وتہذیبی منظرنامہ سامنے آیا ہے وہ خصوصاً ملّت اسلامیہ کے لئے بہت مایوس کن تھا۔ مذہبی ،معاشی اور تہذیبی ہر سطح پر مسلمانوں کے لئے تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ ایسے مایوس کن حالات میں سرسید قندیل رہبانی بن کر سامنے آئے اور مسلمانوں کو تسلّی دی۔ وہ مسلمانوں کے لئے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مانند تھے۔ اس کے لئے سرسید نے یوروپ کا سفر کیا وہاں کے تعلیمی اداروں کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور اپنے ذہن میں تعلیمی ادارہ کھولنے کا ایک خاکہ تیار کرلیا۔ وطن واپس آکر علی گڑھ میں ’’مدرسۃ العلوم ‘‘ کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا۔ جسے چند سالوں میں ہی ایم۔اے۔ اوکا لج کی شکل میں اسے تبدیل کردیا۔ جو سرسید کی زندگی میں روزبروز ترقی کے منازل طے کرتا رہا۔ سرسید یہیں تک نہیں رُکے بلکہ مسلمانوں کو دیگر شعبوں مثلاً تہذیبی، تعلیمی اور ادبی محاذوں پر بیدار کرنے کے لئے ، محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس ، ’’سائنٹفک سوسائٹی‘‘ کے نام سے تنظیمیں قائم کیں۔ ایم ۔اے۔او۔ کالج سے ایک رسالہ ’’تہذیب الاخلاق ‘‘ کے نام سے جاری کیا جو آج بھی جاری ہے۔ مذکورہ تمام اقدام سے ملّت اسلامیہ کے درمیان ماحول سازی ہوئی اور مسلم معاشرے کا تعلیم یافتہ طبقہ سرسید کی طرف متوجہ ہوا۔ اور کالج کا تعلیمی سفر تیزی سے گامزن ہوگیا۔اس پورے مرحلے کا ایک افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ سرسید قومی ترقی کے لئے شب وروز متفکر رہتے تھے لیکن خود اپنے قوم کے بڑے طبقہ کی طرف سے سرسید کو شدید مخالفت کابھی سامناکرنا پڑا۔ مخالفین کی سوچ یہ تھی کہ جدید عصری تعلیم حاصل کرنے سے نئی نسل کا ایمان ضائع ہوجائے گا۔یہاں تک کہ اکبرالٰہ آبادی جیسے شاعر بھی سرسید کی مخالفت پر اُتر آئے اور کہا ؎
یوروپ نے دکھا کر رنگ اپنا سید کو مرید بنا ہی لیا
سب پیروں سے تو وہ بچ نکلے اس پیر کے آگے چل نہ سکا
لیکن وہ سرسید کاہی جگر تھا کہ تمام تر مخالفت کی پرواہ کئے بغیر اپنی تعلیمی تحریک کو جاری رکھاجسے مجموعی طورپر علی گڑھ تحریک کے نام سے جانا جاتاہے۔ ایم۔اے۔او۔ کالج کے قیام کے بعد سرسید کا خواب کالج کو یونیورسٹی کی شکل دینے کا تھا۔ لیکن 1898ء میں سرسید کا انتقال ہوگیا اور ان کی زندگی میں یونیورسٹی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکا۔ لیکن انکی وفات کے بعد 1920ء میں حکومت برطانیہ نے قانون کے ذریعہ اسے یونیورسٹی کی شکل دے دی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اس کا نام رکھا۔ سرسید کی وفات سے چند ماہ قبل علی گڑھ کے ایک جلسہ میں علامہ حالیؔ نے سرسید کی خدمات پر انہیں چند اشعار میں خراج عقیدت پیش کیا ؎
یہ تیری خوش نصیبی تھی کہ ثمرہ تیری محنت کا
خدا نے زندگانی میں ترے تجھ کو دکھایا ہے
بہت جھکّڑ چلے اور آئیں اکثر آندھیاں لیکن
رہا گلزار ہوکر باغ جو تو نے لگایا ہے
آج سے ڈیڑھ صدی قبل سرسید کے ذریعہ لگایا گیا تعلیمی پودا علی گڑھ یونیورسٹی کی شکل میں ایک تناوردرخت کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ اسے سنٹرل یونیورسٹی کا درجہ مل چکا ہے۔ اپنے اعلیٰ معیار اور تاریخی خدمات کی و جہ سے اسے بین الاقوامی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ملک کے علاوہ بیرون ملک کے طلباء کثیر تعداد میں یہاں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں ڈاکٹر ، انجینئر ، جج اور سوِل افسران دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلے ہوئے ہیں اور ملک وقوم کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے جس گوشے میں علیگ برادران موجود ہیں خصوصاً یوروپ اور امریکہ میں علیگ برادران سرسید کے مشن کو جاری رکھنے کے لئے تنظیمیں قائم کئے ہوئے ہیں۔ ۱۷؍اکتوبر سرسید کی یوم پیدائش ہے۔اس تاریخ کو پوری دنیا میں سرسید ڈے کا جشن منایا جارہاہے۔ بظاہر یہ جشن بہت ہی خوشگوار معلوم ہورہاہے۔ اہل علم ودانش یہ دیکھ کر خوش ہوجاتے ہیں کہ سرسید کا نام تاریخ میں زندہ ہے۔ لیکن اس جشن کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایک المناک پہلو سامنے آتاہے۔ اکثر وبیشتر حالات میں اس جشن کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ’’نشستند و خوردند و برخاستند‘‘ یعنی سرسید کے نام پر چند علیگ برادران جمع ہوئے، دعوتیں اُڑائیں اور مجلس برخاست کرکے اپنے اپنے منزل کی طرف رواں دواں ہوگئے۔ مذکورہ صفحات میں سرسید اور ان کی تعلیمی خدمات کے حوالے سے جو پس منظر پیش کئے گئے ہیں وہ جشن سرسید میں کچھ اور چیزوں کا متقاضی ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ترانہ جس کے شاعر مجاز لکھنوی ہیں۔انہوں نے علی گڑھ کے تعلیمی ماحول کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد اس ادارہ کی عظمت کو ترانے کی شکل میں خراج عقیدت پیش کیاہے ۔ایک شعر ملاحظہ ہو ؎
جو طاق حرم میں روشن ہے وہ شمع یہاں بھی جلتی ہے
اس دشت کے گوشے گوشے سے اک جوئے حیات ابلتی ہے
علیگ برادری پر یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تعلیم کے میدان میں قوم وملّت کو آگے بڑھانے کے لئے جو بھی کرسکتے ہیں انہیں یہ فریضہ ادا کرنا چاہئے۔ آج ملت جس طرح علمی اور تہذیبی طورپر انحطاطی دور سے گزر رہی ہے اس کی روشنی میں ہر علیگ کو آگے آنا چاہئے اور ذاتی طور پر بھی اورعلی گڑھ مسلم اولڈ بوائز ایسو سی ایشن کے پلیٹ فارم کے زیر نگرانی بھی کوئی ایسا جامع لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے جس کے تحت ملت کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لئے عملی طورپر کچھ کیا جاسکے اور ملت کی عظمتِ رفتہ کوبحال کرنے میںیہ کوشش ایک مثبت رول ادا کرسکے۔
اللہ رب العزت ہمیں عملی اقدام لینے کی توفیق عطا کرے ۔(آمین)
Mob: 9835642459

About the author

Taasir Newspaper