مصطفٰے ﷺجانِ رحمت پہ لاکھوں سلام

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 8th Oct۔

 

 

 

رازدان شاہد، آبگلہ، گیا ،بہار

بِسْمِ اﷲِالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ،
نَحمَدْہٗ وَنُصَلّیْ عَلٰی رَسُوْلِہ الکَرِیم
آپ سب کو معلوم ہے کہ سرور کائنات فخر موجودات ختم المرسلین رحمتہ اللعالٰمین احمد مجتبٰے محمد مصطفٰے ﷺکی سیرت لکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے ،آج تک نہ کسی نے مکمل لکھاہے نہ کوئی لکھ سکے گا ،اس دنیا کے تمام درخت کے قلم بنا دیئے جائیں چاہے تمام سمندر کو نیچوڑکر روشنائی بنائی جائے ،یہ سب ختم ہو سکتے ہیں لیکن پھر بھی آپ کی سیرت مکمل نہیں لیکھی جا سکتی ۔یہ تو ایسا ہی ہے جیسے آفتاب کو چراغ دیکھا نا ،پھر بھی ایک کوشش کر رہا ہوں۔
رخے نبی کی طرح ماہتاب کیا ہوگا،وہ لا جواب ہیں ان کا جواب کیا ہوگا۔
ماہ ربیع اول شریف ایسا مبارک مہینہ ہے جس میںدنیا کو وہ نعمت ملی جس کا کوئی نعمت مقابلہ نہیں کر سکتی یعنی اس مہینہ میں سرور کائنات فخر موجودات ختم المرسلین رحمتہ اللعالٰمین احمد مجتبٰے محمد مصطفٰے ﷺکی ولادت باسعادت ہوئی ۔دنیا انوار اقدس سے منور ہوگئی اور ہدایت ونجات اور تہذیب و برکات کی روشنی تمام عالم میںپھیل گئی۔
آپ ﷺکی ولادت مبارک اسی مہینہ کی بار ہویں تاریخ کو ہوئی ،ولادت کے وقت حضرت آمنہ ؓکا تمام مکان نور الٰہی سے منور ہو گیا تھا ۔آپ ﷺنے پیدا ہوتے ہی سجدہ کیا اور آسمان کہ طرف کلمہ کی انگلی اٹھائی ۔یہ وہ روز سعید تھا جس کی دنیا عرصہ سے منتظر تھی۔غرض کہ جب آپ ﷺکے ولادت باسعادت کی اطلاع آپ ﷺکے دادا عبدالمطلب ؓ کو دی گئی تو وہ بہت خوش ہوئے آپ کے دادا عبدالمطلبؓنے آپﷺ کا نام محمد ؐاور ماں آمنہ ؓ نے آپ کا نام احمد ؐ رکھا ۔آپ ﷺجس زمانہ میں پیدا ہوئے تھے اُس وقت تمام دنیا پرگمراہی چھائی ہوئی تھی۔ شرک کا دور تھا ،انسانوں کے بنائے ہوئے معبود وں کی پرستش ہوتی تھی ۔عرب میں بھی یہی حالت تھی ۔لیکن پھر بھی قبیلہ قریش اپنے عمدہ اخلاق کہ وجہ سے دیگر قبائل سے ممتاز تھا ۔وہاں خداپرستی تھی اورمہمان نوازی ،خیرات صلہ رحمی ،صداقت ،غریبوں کی مدد ،عورتوں کی عزت ایسی صفات تھیں جن کی قدر کی جاتی تھی۔
قبیلہ بنی سعد جس میںآپؐﷺنے پرورش پائی فضا حت و بلاغت میں بے نظیر تھا ،حلیمہ سعدیہؓ جب آنحضرت ﷺکو اپنے گھر لے کر گئیں توان پر اور ان کے قبیلہ پرآپ کی ذات برکات کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے برکت دی آپ ؐﷺحضرت حلیمہ سے بے انتہا محبت کرتے تھے ۔آپ ﷺکی عمر پانچ سال ہوئی تو آپﷺؐ حضرت آمنہ کہ پاس مکہ میں رہنے لگئے ۔چھٹے سال آپ ﷺکے ساتھ حضرت آمنہؓ مدینہ منورہ تشریف لے گئیں ۔واپسی کہ وقت بی بی آمنہؓ کا راستہ میں انتقال ہو گیا،آپﷺ کے دادا نے آپ ﷺ کی تربیت اپنے ذمہ لے لی۔آپﷺؐ کے داداآپ ؐکو کعبہ کی دیوار کے نیچے لیکر بیٹھا کر تے تھے۔
آپﷺ کی عمر سات سال کی ہوئی تو آپ ﷺکے دادا کا انتقال ہو گیا۔اب ابو طالب آپ ﷺکے کفیل اور محافظ ہو گئے ،ابو طالب کو آپ ﷺ کے ساتھ اتنی محبت تھی کہ وہ آپ ؐ ﷺکو اپنے سگے بیٹوں سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔آپ ﷺابھی عالم طفولیت میں ہی تھے کہ تمام مکہ والوں پر آپﷺکے اخلاق کا اتنا گہرااثر چھا گیا کہ سب آپ ﷺکی عزت ایسی کرتے تھے جیسے کسی بڑے سے بڑے بزرگ کی کی جاتی ہے۔آپ جب بارہ برس کی عمر میں پہنچے تو آپ کو سب نے آمین کا لقب دیا۔
آپﷺ کا نکاح حضرت خدیجہ ؓ سے ہوگیا،جو عقلمند ی و شائستگی اور حسن وجمال میں ممتاز خاتون تھیں۔نکاح کے وقت حضرت خدیجہ ؓکی عمر ۴۰ سال اور آپﷺ کی عمر ۲۵سال تھی حضرت خدیجہ ؓکے دل پر آپ ﷺ کا اثر ہوا کہ انہوں نے اپنا تمام مال و متاع آپ پر نثار کر دیا اورآپ ﷺکی خوشی کے لئے ہر چیز قربان کر دی۔
آپﷺ تنہائی اور گوشہ گزینی کو پسند کر تے تھے اور غار حرا میں جا کر عبادت میں مصروف رہتے تھے ۔ غرض اسی طرح پندرہ سال کی مدت گزری اور چالسویں سال آپﷺ پر اول بار وحی نازل ہوئی یعنی آپ ﷺ چالس سال کی عمر میں نبی ہوئے ۔۳سال تک اسلام کا کام پوشیدہ حالات میں رہا اس کے بعد اﷲتعالیٰ نے اظہار کا حکم دیا ۔تب آپﷺنے سب سے پہلے اپنے خاندان اپنے ملک وقوم میں تبلیغ اسلام کرنے کی طرف توجہ فرمائی۔
پھر حضرت جبریل نے آپﷺ کو وضواور نماز کا طریقہ بتایا ۔پھر آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ ؓ کو نماز اور وضو اور نماز کی تعلیم کی آپ ﷺ برابر اسلام کی تعلیم فرماتے رہتے تھے ،سب سے پہلے حضرت علی ؓ حضرت ابوبکر صدیق نے اسلام لایا۔حضرت علی اپ ﷺکے چچازاد بھائی تھے اور ابوبکر آپﷺ کے پڑوسی تھے۔
غرض آنحضرت ﷺ کی د عوت اسلام اور شاعت تو حید سے قریش کے دلوں میں عداوت جاگزین ہوگئی تھی آپ کوﷺاور آپ ؐکے حمایتیوں کو سخت سے سخت تکلیفیں پہچا تے تھے۔وہ برداشت کرتے تھے اور کبھی بھی اسلام کی محبت سے جدا ہونے کا خیال تک نہ لاتے تھے۔اﷲ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو مراج جیسے اعلیٰ مرتبہ سے نوازا حضور کے اس مبارک سفرکو آپ نے مسجد اقصیٰ سے اﷲ کے دربار عالیٰ تک طے فرمایا۔اسی دوران ابوطالب کا انتقال ہو گیا۔وفات ابوطالب کے فوراً بعد حضور ﷺ کی چہتی بیوی حضرت خدیجہؓکا بھی انتقال ہوگیا۔ ان تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے مدِنظر رسو ل اکرم ﷺ نے اشاعت دین حق کے لئے طائف کا سفر اختیارکیا۔مگر بار سوخ لوگوںنے حضور اکرمﷺ کے ساتھ بے رخی اور سرد مہری کا مظاہرہ کیا ۔حضور اکرمﷺ نے شہر کے باہر ایک باغ میں پناہ لی۔ جب آپ طائف سے مکہ مکرمہ تشریف لائے تو کفار مکہ نے آپ ﷺکو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیا کئی بار کی کوششوں کے بعد آپﷺ کو مکہ میں داخلے کی اجازت ملی ،لیکن یہاں مسلمانوں کو زیادہ تکلیف میں پایا۔
آپﷺ اور حضرت ابوبکر ایک اونٹ پر سوار ہوئے اور عبداﷲ اور عمر بن فبیرہ دوسرے پر سوار ہو کر ایک غیر مشہور راستہ سے مدینہ روانہ ہوے۔یہاں آپ ﷺکا پہلا کام مسجد کی تعمیر کرنا تھا ۔تو آپ ﷺنے مسجد کی بنیاد ڈالی اور تعمیر مسجد میں آپﷺ خودبھی کام کرتے تھے۔لوگوں کو جب آپ ﷺکے تشریف آوری کی خبر معلوم ہوئی تو ہر طرف سے لوگ جوش مسرت سے پیش قدمی کے لئے دوڑے ۔مدینہ شریف میں سولہ سترہ ماہ تک قبلہ بیت المقدس کی طرف رہا مگر انحضرت ﷺکی خواہش یہ تھی کہ قبلہ خانہ کعبہ کی طرف ہو ۔پھر شعبان ۲ـــ ؁ ہجری کا مہینہ ختم ہوتے ہی روزہ رمضان فرض ہوا اور آپﷺ نے صدقئہ فطر کی ہدایت فرمائی ۔پھر بدر کی لڑائی ہوئی تاریخ اسلام میں یہ بہت مشہور واقعہ ہے ۔جنگ بدر کی فتح سے یہودیوں کے دل میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی اور وہ بغاوت پر آمادہ ہوگئے ۔اس کے بعد بہت سے واقیہ پیش آئے ۔پھر آپ نے عرب اور عجم کے بادشاہوں کے پاس تبلیغ کے اسلام کے لئے خطوط روانہ کیا۔فتح مکہ کے بعد بہت سے عرب مسلمان ہوگئے تھے ۔ اسلامی لشکر آپﷺ کی قیادت میں مسجد حرام کی طرف بڑھا۔ رسول اکرم ﷺمسجد حرام میں داخل ہوئے آپ نے حجر اسود کو بوسا دیا اور پھر اپنی اُنٹنی پر خانہ کعبہ کا طواف کیا ۔آپ ﷺ نے بیت اﷲشریف سے تین سو ساٹھ بت کو اپنی کمان سے ٹھوکر لگاکر منہ کے بل گر ا دیا۔رسول اکرم ﷺ نے طلحہ بن عشمان سے خانہ کعبہ کی کنجی لے لی اور بیت اﷲ شریف کے اندر داخل ہوئے ۔آپﷺ نے بیت اﷲ شریف کو بوتوں سے پاک کر دیا ،پھر بیت اﷲ شریف سے باہر تشریف لائے آپ ﷺنے کعبے کے داروازے کو پکڑا اور قریش سے خطاب فرمایا ۔جب ظہر کی نماز کا وقت آگیا تو آپ ﷺ نے حضرت بلال ؓکو اذان دینے کا حکم دیا ،حضرت بلالؓ خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ گئے اور بلند آواز سے آذان دی۔مکہ مکرمہ اور اس کے گردا ﷲ کا دین غالب آگیا۔قریش کے دو ہزار مرد وں اور عورتوں نے صفا پہاڑی پر رسول اکرم ﷺ کے ہاتھ پر بیت کی اور دیگر عرب قبائل سے بھی لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے ۔
آپ ﷺ نے اپنی زندگی کا آخری حج سن 10ھ؁ میں کیا۔ اسے حجتہ الوداع کہتے ہیں۔ آپ 25 ذی القعدہ 10ھ؁ کو مدینہ سے روانہ ہوئے۔ آپﷺ کی ازواج آپ ﷺکے ساتھ تھیں۔ مدینہ سے 9 کلومیٹر دور ذوالحلیفہ کے مقام پر آپﷺنے احرام پہنا۔ دس دن بعد آپ ﷺ مکہ پہنچ گئے۔ حج میں مسلمانوں کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ تھی۔ عرفہ کے دن ایک خطبہ دیا اور اس سے اگلے دن منیٰ میں ایک یادگار خطبہ دیا جو خطبہ حجتہ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ اس خطبہ میں انہوں نے اسلامی تعلیمات کا ایک نچوڑ پیش کیا اور مسلمانوں کو گواہ بنایا کہ انہوں نے پیغامِ الٰہی پہنچا دیا ہے۔ اور یہ بھی تاکید کی کہ یہ باتیں ان لوگوں کو بھی پہنچائی جائیں جو اس حج میں شریک نہیں ہیں۔ اس خطبہ میں انہوں نے یہ فرمایا کہ شاید مسلمان انہیں اس کے بعد نہ دیکھیں۔ انہوں نے فرمایا کہ مسلمان پر دوسرے مسلمان کا جان و مال حرام ہے۔ اور یہ بھی کہ نسل کی بنیاد پر کسی کو کسی پر فوقیت نہیں ہے۔ انہوں نے اسلام کے حرام و حلال پر بھی روشنی ڈالی۔ خطبہ کے آخر میں انہوں نے تاکید کی کہ جو حاضر ہے وہ غائب تک اس پیغام کو پہنچائے۔ ان دو خطبات کے علاوہ آپﷺ نے غدیرِ خم کے مقام پر بھی خطبہ دیا جو خطبہ غدیر کے نام سے مشہور ہے۔ اس حج کے تقریباًتین ماہ بعد آپﷺ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ [سیرت ابن ھشام جلد 3 صفحہ603 ]
حجتہ الوداع کے فوراً بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ بیمار ہوئے پھر ٹھیک ہو گئے مگر کچھ عرصہ بعد حضرت محمدﷺ پھر بیمار پڑ گئے اورکئی روز تک ان کے سر میں درد ہوتا رہا۔ بالاخر روایات کے مطابق حضرت محمد ﷺ انتقال کر گئے۔ انتقال کے وقت آپ کی عمر 63 برس تھی۔ حضرت علی نے غسل و کفن دیا اور اصحاب کی مختلف جماعتوں نے نمازِ جنازہ ادا کی اور حضرت محمد ﷺ کو مسجد نبوی کے ساتھ ملحق ان کے حجرے میں اسی جگہ دفن کیا گیا جہاں ان کی وفات ہوئی تھی۔( یہ اور اس کے اردگرد کی تمام جگہ اب مسجدِ نبوی میں شامل ہے)
آپ ﷺکو منگل کے روز کپڑے اتارے بغیر غسل دیا گیا۔ رسول اللہ کو غسل دینے والے افراد میں سیدنا عباس ،حضرت اسامہ،اوس بن خولیٰ، حضرت عباس کے دو صاحبزادے قثم اور فضل اور رسول اللہ کے آزاد کردہ غلام شقران شامل تھے۔ حضرت عباس اور ان کے دونوں صاحب زادے رسول اللہ کی کروٹ بدل رہے تھے، حضرت اسامہ اور شقران پانی بہا رہے تھے۔ حضرت علی غسل دے رہے تھے اور حضرت اوس نے آپ کو اپنے سینے پر ٹیک رکھا تھا۔[سنن ابن ماجہ،الکتاب الجنائز،حدیث 1628]
رسول اللہﷺ کو پانی اور بیری کے پتوں سے تین بار غسل دیا گیا۔ پانی عرس نامی قباء میں واقع حضرت سعد بن خثیمہ کے کنویں کا تھا۔ آپﷺاپنی حیات مبارکہ میں بھی پینے کے لئے اس کنویں کا پانی استعمال فرماتے تھے۔[ طبقات ابن سعد] پھر آپﷺ کو تین سفید سوتی یمنی چادروں میں کفنایا گیا۔ ان میں کرتا اور پگڑی نہ تھی بس آپ کو صرف چادروں میں لپیٹا گیا۔[صحیح البخاری،حدیث :1264]
حضرت ابوطلحہ نے آپ کی قبر اسی جگہ کھودی جہاں آپ نے وفات پائی تھی۔ قبر لحد والی کھودی پھر آپ کی چارپائی قبر کے کنارے رکھ دی گئی اور پھر دس دس صحابہ اندر داخل ہوتے جاتے اور فرداً فرداً نماز ادا کرتے، کوئی امام نہ تھا۔ سب سے پہلے آپ کے خانوادے نے نماز پڑھی، پھر مہاجرین نے، پھر انصار نے اور پھر بچوں نے، پھر عورتوں نے یا پہلے عورتوں نے پھر بچوں نے۔[ و طبقات ابن سعد 292-298] نماز جنازہ پڑھنے میں منگل کا پورا ہی دن اور منگل کی بیشتر رات گزر گئی جس کے بعد رات کے اواخر میں رسول اقدسﷺ کو سپرد خاک کردیا گیا۔[ مسند احمد 6/62 و 274] (جنازے میں شریک افراد کے بارے اختلاف ہے۔)