Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

منتشر اپوزیشن بنام بی جے پی

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 1st Oct.

اگلے لوک سبھا انتخابات میں دو سال سے بھی کم مدت باقی ہے۔لیکن اس کے لئے ابھی سے بساط بچھنی شروع ہو گئی ہے۔بی جے پی جیت کی ہیٹ ٹرک کے لیے حکمت عملی تیار کر رہی ہے، تنظیم اور حکومت میں شامل رہنماؤں کو اہم ذمہ داریاں بانٹ رہی ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن پارٹیاں کسی بھی قیمت پر پی ایم مودی کی جیت کو روکنا چاہتی ہیں۔ راہل گاندھی، ممتا بنرجی، نتیش کمار، اکھلیش یادو، کے سی آریعنی اپوزیشن کے سبھی بڑے چہروں جی جان سے اس کوشش میں لگ گئے ہیں۔ملا جلا کر 2019 کے مقابلے اس بار صورتحال کچھ بدلی ہوئی نظر آرہی ہے اوربی جے پی کے لیے 2024 کا راستہ اتنا آسان نہیں دکھ رہاہے۔ اس لیے بی جے پی ہر سیٹ کے لیے حکمت عملی تیار کر نے میں جٹ گئی ہے۔ امت شاہ نے بذات خود مورچہ سنبھال لیا ہے۔
بی جے پی کے بھی کچھ لوگ اب دبی زبان میں یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ اس بار صورتحال بدل گئی ہے۔ پچھلے تین سالوں میں این ڈی اے کے کئی اتحادیوں نے الگ راستہ اختیار کر لیا ہے۔لیکن بی جے پی کے لیے اس سے بھی بڑا چیلنج اپنی ماضی کی کارکردگی کو برقرار رکھنا ہے۔ بیشتر ریاستوں میں بی جے پی سیچوریشن سطح پر پہنچ چکی ہے، یعنی زیادہ سے زیادہ سیٹوں پر قبضہ کر چکی ہے۔ راجستھان، گجرات، ہریانہ، دہلی، اتراکھنڈ، ہماچل، تریپورہ، اروناچل جیسی تمام 8 ریاستوں میں بی جے پی کے پاس تمام سیٹیں ہیں۔ ووٹ شیئر بھی 50 فیصد سے زیادہ رہا ہے۔ مدھیہ پردیش میں 29 میں سے 28 سیٹیں بی جے پی کے حصے میں آئیں۔ این ڈی اے کو مہاراشٹر میں 48 میں سے 39 سیٹیں ملی ہیں۔ یعنی ان ریاستوں میں بی جے پی کی سیٹیں بڑھتی رہیں۔ یہ صحیح ہے کہ پارٹی ان چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے ایک طویل عرصے سے زمین پر کام کر رہی ہے اور 2024 میں سیٹوں کی تعداد میں اسی طرح اضافہ کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے، جس طرح اس نے 2019 میں 2014 کی کارکردگی کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
ویسے بی جے پی کے خلاف متحد ہونا خود اپوزیشن کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ نریندر مودی کے مقابلے میں اپوزیشن کا چہرہ کون ہوگا، یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا ہے۔حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس خود کو نریندر مودی کےفطری متبادل کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ 4ستمبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں منعقدہلہ بول ریلی میں راہل گاندھی دو ٹوک الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ نریندر مودی کا مقابلہ صرف اور صرف کانگریس ہی کر سکتی ہے۔ یہ باقی اپوزیشن جماعتوں کے لیے ایک واضح پیغام تھا کہ اگر بی جے پی کو ہرانا ہے تو انہیں کانگریس کی قیادت میں متحد ہونا پڑے گا۔ دوسری طرف، بنگال میں فتوحات کی ہیٹ ٹرک کے بعد، ممتا بنرجی نے براہ راست خود کو وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر بغیر کسی اف بٹ کے پیش کر چکی ہیں۔ این ڈی اے سے الگ ہونے کے بعد سے ہی نتیش کمارنے اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کا مشن شروع کر دیا ہے۔ بھلے ہی وہ کھل کرنہیں کہہ رہے ہیں، لیکن ان کی پارٹی کے ساتھ ساتھ آر جے ڈی کے رہنما یہ مانتے ہیں کہ نتیش کمار پی ایم میٹیریل ہیں۔ ان کے علاوہ اکھلیش یادو اورکے سی آر جیسے مخالف حلقے بھی مواقع کی تلاش میں ہیں۔ مجموعی طور پر اس وقت اپوزیشن بکھری ہوئی نظر آرہی ہےحالانکہ اتحاد کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔
اسے بی جے پی کی سیاست کی میچیوریٹی ہی کہا جائے گا کہ اپوزیشن جماعتوں کی تمامتر کمزوریوں کے باوجود وہ مقابلے کو غیر سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔لہٰذا، جیتی ہوئی نشستوں کو برقرار رکھنے کے علاوہ ان نشستوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جہاں گزشتہ انتخابات میں پارٹی دوسرے یا تیسرے نمبر پر تھی۔ تمام بڑے مرکزی وزراء کو 144 سیٹوں کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ان 144میں سے زیادہ تر سیٹیں وہ ہیں جہاں گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کو شکست ہوئی تھی۔بی جے پی نے ان سیٹوں کو کسی بھی قیمت پر جیتنے کے لئے بہت پہلے ہی روڈ میپ تیار کر لیا ہے۔ مرکزی وزیر ان سیٹوں پر ہر ذات اور طبقے کے لوگوںتک رسائی کو بڑھانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بوتھ سطح پر پارٹی کو مضبوط کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ بی جے پی کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی آج کے دور میں واحد ایسے لیڈر ہیں، جن کا پورے ملک میں زبردست اثر ہے۔ وزیر اعظم کی مقبولیت کے زیر اثر بی جے پی پی ایم آواس، کسان سمان ندھی، آیوشمان بھارت، اجولا، غریبوں کے لیے مفت راشن، مفت کورونا ویکسین سمیت مرکزی حکومت کی تمام فلاحی اسکیموں کے کروڑوں استفادہ کنندگان تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔مرکزی وزیر داخلہ اور پارٹی کے چانکیہ کہے جانے والے امیت شاہ وقت وقت پر وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔انھوں تمام ذمہ داروں کو متنبہ کر دیا ہے کہ پارٹی کے کام میں کسی بھی طرح کی لا پروائی نہیں ہونی چاہئے۔اب دیکھنا یہی ہے کہ پی ایم کے چہرہ کے ایشو پر ابھی تک بکھری ہوئی ا پوزیشن جماعتیںبی جے پی کی اس منصوبہ بند کوشش کا مقابلہ کرنے کے لئے کون سی حکمت عملی مرتب کرتی ہیں۔

 

About the author

Taasir Newspaper