Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

آرٹیکل

کامیابی کی کہانیاں لکھتی جموں کے دیہی علاقوں کی خواتین

Written by Taasir Newspaper
Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 21ST Oct.
جموں کشمیر کا نام آتے ہی لوگوں کے ذہن میں دو ہی خیالات آتے ہیں، پہلا وہاں کی خوبصورتی اور دوسرا بندوق کے سائے میں زندگی گزار رہے لوگوں کے مسائل۔لیکن ان مسائل کے علاوہ ایک کامیابی کی کہانی بھی ہے جسے وہاں کی دہی خواتین سنہری حروف سے لکھ رہی ہیں۔سبرینا خالق، رخسانہ چوہدری اور نصرت خاتون جیسی بہت سی خواتین ہیں جو دور دراز دیہی علاقوں میں رہ کر نہ صرف خاموشی سے اپنی کامیابی کی داستان لکھ رہی ہیں بلکہ خواتین کو بااختیار بنانے کی ایک بہترین مثال بھی بن رہی ہیں۔ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والی سبرینا خالق تین بچوں کی ماں ہیں۔ ان کے دو بچے اسکول بھی جاتے ہیں۔سبرینا نے حال ہی میں دسویں جماعت کے بائی اینول امتحانات میں93فیصد نمبرات حاصل کر کے ٹاپ کیا ہے۔ سبرینا کے جذبے سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ امتحانات کو پاس کرنے کیلئے کوئی عمر کی حد نہیں ہوتی ہے۔ بس آپ میں جوش و جذبہ ہونا چاہئے ،کامیابی آپ کے قدم چومنے کو تیار ہے۔ جموں وکشمیر میں ایسی خواتین کی کوئی کمی نہیں ہے جو اپنے آپ میں مثال ہیں۔ فلمی دنیا سے لیکر تعلیم اور کاروبار میں یہاں کی خواتین آئے روز کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ان کی ترقی کو رفتاردینے کیلئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں بھی ’’امید‘‘ اسکیم کے علاوہ کئی فلاحی اسکیمیں چلا رہی ہیں۔ جن کے بہتر نتائج دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
جموں کے سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کی پنچائت اعظم آباد سے تعلق رکھنے والی رخسانہ چوہدری حکومت کی ـ’’امید‘‘ اسکیم کے تحت سات سو سے زائد خواتین کو با اختیار بنانے کا بیڑہ اٹھائے ہوئے محنت و لگن سے کام کر رہی ہیں۔واضح رہے کہ یہ اسکیم جموں و کشمیر اسٹیٹ رورل لاوئلی ہڈز مشن (امید) کے طور پر چلائی جا رہی ہے۔اس کے اغراض و مقاصد میں سابقہ 125 بلاکس میں دیہی آبادی کے 66 فیصد آبادی تک پہنچناہے۔ انہیں پائیدار معاش کے مواقع سے جوڑنا اور ان کی اس وقت تک پرورش کرنا جب تک کہ وہ غربت سے باہر نہ آجائیں۔ اس سے علاوہ اچھے معیار زندگی سے لطف اندوز ہونا بھی اس میں شامل ہے۔اس اسکیم کی بنیادی اقدارمیںغریبوں کی شمولیت، اور تمام عمل میں غریب ترین افراد کو بامعنی کرداردینا ہے، تمام عمل اور اداروں کی شفافیت اور احتساب لانا ،تمام مراحل میں غریبوں اور ان کے اداروں کی ملکیت اور کلیدی کردار، منصوبہ بندی، نفاذ اور نگرانی کے ساتھ ساتھ کمیونٹی کی خود انحصاری بھی شامل ہے ۔امید اسکیم سے جُڑکررخسانہ ابھی تحصیل منڈی کے اعظم آباد،جھالیاں، فتح پور،بائلہ اور برنوٹ وغیرہ میں سرکاری اسکیموں کے تحت خواتین کو کاروبارچلانے اور با اختیار بنانے میں ان کی مدد کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ اس اسکیم کے تحت خواتین خود مددگار گروپس کی تشکیل دیکر چھوٹے چھوٹے کاروبار چلاتی ہیں۔
جس کیلئے مشن کی جانب سے انہیں مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔اس اسکیم کے تحت رخسانہ بڑی تعداد میں خواتین کو بیدار کرتے ہوئے انہیں کاروباری بنانے میں ان کی مدد کر رہی ہیں ۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر میں اسکیم سے فائدہ اٹھا کر اپنا بہترین کاروبار چلا سکتی ہوں تو دیگر خواتین بھی ایسا کر سکتی ہیں ۔رخسانہ بذات خود بھی کاروبار کر رہی ہیں ۔ان کے کاروبار میں اچار بنانے کے ساتھ ساتھ جیم بنانا بھی شامل ہے۔ انہوں نے اسی اسکیم سے قرض لیکر اپنا کاروبارشروع کیا ہے ۔ ان کا ماننا ہے کہ وہ اپنے اس کاروبار سے نہ صرف ماہانہ چار ہزار روپئے کی آمدنی کر لیتی ہیں بلکہ اس کاروبار کو آئے روز بڑھا بھی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مختلف محکمہ جات کی اسکیموں کو زمینی سطح پر نافذ کرنے میں محکمہ کی مدد بھی کر رہی ہیں ۔وہ مختلف اسکیموں کے تحت عام لوگوں کو فائدہ پہنچا رہی ہیں ۔اپنے کاروبار کے ساتھ ساتھ رخسانہ کسانوں کو مختلف اسکیموں کے تحت زراعت سے متعلق جانکاری بھی فراہم کر رہی ہیں۔اپنی پنچائت میںمحکمہ زراعت سے کھاد،بیج اور سبزیاں وغیرہ عام لوگوں تک پہنچانے میںان کا قلیدی کردار رہا ہے۔
رخسانہ کہتی ہیں کہ میں نے 2016 میں ـ’’امید‘‘ اسکیم میں شمولیت کی۔ہم لڑکیوں نے مل کر سیلف ہیلپ گروپ بنائے ۔ میرے گروپ کو مشن کی جانب سے ریوالونگ فنڈ کے طورپر پندرہ ہزارروپئے آئے اور میں نے ان رپیوں سے اپنے گھر پر مرغی فارم کھولا ۔اس کے بعد جب میرے گروپ کو چھ مہینے ہوئے تو مجھے مشن کی طرف سے چالیس ہزار روپئے آئے تو میں نے سوچا میں اپنے روزگار کو تھوڑا اور بڑھائوں۔ میں نے اس رقم سے چھوٹی سی دوکان کھولی ،جب مجھے اپنے بزنس میں فائدہ ہونے لگا تو میں نے امید سکیم سے مزید لون لیا۔ پھر میں نے اپنے ہی گھر میںسلائی سنٹر کھولا۔ جس میں پانچ لڑکیوں کو بھی اپنے ساتھ جوڑا، تاکہ ان کے گھر بھی چل سکیں۔رخسانہ کا کہنا ہے کہ اس کے بعد میں نے اپنے گھر کے اندر ڈیری فارم بھی کھولااور جب مجھے کاروبار کی مزید جانکاری ہونے لگی تو میں نے ایک اچار ،جیم کا یونٹ لگایا جس کیلئے میں نے مشینری سری نگر سے منگوائی۔ آج میں اپنے گھر کے اندر جیم اور اچار بناتی ہو ںاور مارکیٹ میںفروخت کرتی ہوں۔جس سے ماہانہ اچھے پیسے کما لیتی ہوں۔اس سلسلے میں21سال کی تعظیم اختر کہتی ہیں کہ رخسانہ چوہدری بلاک منڈی پنچایت اعظم آباد کے علاوہ دیگر کئی پنچائتوں میں خواتین کو با اختیار بنانے کابہترین کام کر رہی ہیں ۔وہ گاؤں اعظم آباد کے اندر اپنے چھوٹے چھوٹے روزگار شروع کرنے کے ساتھ ساتھ بہت ساری لڑکیوں کو روزگار کے قابل بھی بننے میں ان کی مدد کررہی ہیں ۔انہوں نے مزیدکہاکہ جیسے رخسانہ چوہدری خود روزگار چلارہی ہیںویسے ہرایک لڑکی کو اپنی مدد آپ کرتے ہوئے روزگار کرنے چاہئے ۔اسی ضمن میں اعظم آبادپنچایت کے سرپنچ منظور حسین کہتے ہیں کہ رخسانہ حکومت کے کئی شعبہ جات کے ساتھ مل کر عوام تک سرکاری اسکیموں اور ان کے فوائد کو پہنچا رہی ہیں۔ہم سب کواس پر فخر ہے جو مقامی خواتین کو با اختیار بنانے میں ان کی مدد کر رہی ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ میںرخسانہ کے کام میں ان کا تعاون بھی کرتا ہوں اور ان کی نمایاں خدمات کی وجہ سے میری پنچائت میں ترقی ہو رہی ہے اور میری پنچایت کا نام اونچا ہورہا ہے۔
تحصیل منڈی کی پنچائت اعظم آباد کی نصرت خاتون بھی اپنے علاقع میں ایک بااختیار خاتون کے طور پر پہچان بنا چکی ہیں۔وہ بھی حکومت کی’’ امید‘‘ اسکیم کے تحت اپنا کاروبار چلا رہی ہیں۔اپنے کاروبار کے ساتھ ساتھ وہ اپنی تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نصرت اپنی بہن کے ساتھ اس اسکیم کے تحت قائم کردہ خود مددگار گروپ کی ممبر بنی۔اپنی بہن سے سیکھتے ہوئے وہ اب اس گروپ کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میںنصرت کا کہنا ہے کہ میری بہن کی شادی کے بعد اس گروپ کی بھاگ دوڑ میں نے سنبھالی اور اب احسن طریقے سے اپنے گروپ کو چلا رہی ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے کاروبار میں بیگ ،سویٹر، مفلر،بے بی سیٹ بنانا شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم اس کام کو اپنے ہاتھوں سے انجام دیتی ہیں ۔ یہ سارا کام میرے ساتھ میرا گروپ کر رہا ہے اور اپنے کاروبار سے ماہانہ اچھی آمدنی کر لیتی ہوں۔نصرت کا ماننا ہے کہ اگر ہمارے گروپ کے تیار کردہ سامان کی مارکیٹنگ اچھی ہوجائے تو ہماری آمدنی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے ۔بے شک، نہ صرف رخسانہ او ر نصرت اس گائوں کی مثال ہیںبلکہ ان کی طرح اس گائوں کی کئی اور خواتین ہیں جوحکومت کے’’ امید‘‘ اسکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے کاروبار کر رہی ہیں۔ جموں وکشمیر میں ایسی خواتین کی کوئی کمی نہیں جو روزگار کرنا چاہتی ہیں۔
لیکن انہیں صحیح وقت پر صحیح پلیٹ فارم اور رہنمائی کی ضرورت ہے ۔حکومت کی جانب سے شرو ع کی جانے والی تمام فلاحی اسکیم کے اغراض و مقاصد ہوتے ہیں اور اگر زمینی سطح پر ان اسکیموں کا مکمل نفاذ ہو جائے تو یقینا رخسانہ اور نصرت جیسی کئی خواتین خود روزگار کر کے اپنے اخراجات پورے کرتے ہوئے با اختیار بن سکتی ہیں۔اسے میں متعلقہ محکمہ جات کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ ان اسکیموں کو زمینی سطح پر نافذ کرنے کے لئے مزید اقدام اٹھائے تاکہ عوام تک ان کا بھرپور فائد ہ پہنچایا جاسکے۔
(چرخہ فیچرس)

About the author

Taasir Newspaper