Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ملک بھر سے

گامبیا میں 66 بچوں کی موت کے بعد ہندوستانی ’کف سیرپ‘ کی جانچ شروع

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 6th Oct۔

بانجول؍نئی دہلی، 06 اکتوبر:افریقی ملک گامبیاں میں کم از کم 66 بچوں کی موت کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ہندوستان کے چار کھانسی کے سیرپ (کف سیرپ) کے حوالہ سے الرٹ جاری کیا ہے۔ جس کے بعد ہندوستان نے بھی اس معاملہ پر تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ویب پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا (سی ڈی ایس سی او) نے فوری طور پر ہریانہ ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ معاملہ اٹھایا اور تحقیقات شروع کر دیں۔ خیال رہے کہ کھانسی کا سیرپ سونی پت، ہریانہ میں میسرز میڈن فارماسیوٹیکل لمیٹڈ نے تیار کیا ہے۔صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے ذرائع نے بتایا کہ 29 ستمبر کو ڈبلیو ایچ او نے ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا (سی ڈی ایس سی او) کو کھانسی کے سیرپ کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ کھانسی کا سیرپ سونی پت، ہریانہ میں میسرز میڈن فارماسیوٹیکل لمیٹڈ نے تیار کیا ہے۔ اس معاملے پر دستیاب معلومات کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ فرم نے یہ مصنوعات صرف گامبیا کو ہی برآمد کی تھی۔ کمپنی نے ابھی تک ان الزامات کا جواب نہیں دیا ہے۔اس معاملے میں ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ سیرپ مغربی افریقی ملک کے علاوہ کہیں اور بھی تقسیم کئے گئے ہوں، اگر ایسا ہے تو اس سے عالمی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ تاہم ڈبلیو ایچ او نے ابھی تک اموات کے لئے کھانسی کے سیرپ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈرس ایڈنم گیبریسس نے گزشتہ روز کہا کہ یہ چار ہندوستانی کھانسی کے سیرپ گردوں کو نقصان پہنچانے والے اور گیمبیا میں 66 بچوں کی موت سے منسلک ہو سکتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے الرٹ کے مطابق اس کے پاس چار مصنوعات ہیں جن میں ’پرومیتھازائن‘ اورل سولیوشن، ’کوفیکسمالن‘ بیبی کف سیرپ، ’میکوفُ بیبی کف سیرپ اور ’میگریپ این‘ کولڈ سیرپ شامل ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper