Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

ایل جے پی کے دونوں گروپ ایک ہو گئے ؟

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 24 th Nov.

اتر پردیش ریاستی الیکشن کمیشن نے لوک جن شکتی پارٹی کو بنگلہ انتخابی نشان الاٹ کیا ہے۔ حالانکہ لوک جن شکتی پارٹی کا ابھی تک کوئی وجود نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے پارٹی کا نام اور انتخابی نشان دونوں ضبط کر لیے ہیں۔ اس کے بعد بھی ریاستی الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ تسلیم شدہ جماعتوں کی فہرست میں ایل جے پی کا نام اور بنگلہ انتخابی نشان حیران کن ہے۔ تسلیم شدہ پارٹیوں کی بات کریں تو شیوسینا بھی ریاست میں اپنے ہی نشان کے ساتھ الیکشن لڑتی رہی ہے۔ لیکن، ایکناتھ شندے گروپ کی بغاوت کے بعد شیوسینا کا نام اور نشان دونوں ضبط ہو گئے ہیں۔ اسے ریاستی الیکشن کمیشن نے بھی تسلیم شدہ جماعتوں میں شامل نہیں کیا ہے۔ ایسے میں ایل جے پی کے نام اور نشان کو حاصل کرنے پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔
دراصل، ایل جے پی سربراہ اور سابق مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان کی موت کے بعد لوک جن شکتی پارٹی دو حصوں میں بٹ گئی تھی۔ ایل جے پی سربراہ اور سابق مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان کے بھائی پشوپتی کمار پارس نے ایل جے پی کے ایک بڑے حصے کو ساتھ لے کر بھائی کی موت کے بعد بغاوت کردی تھی ۔ درحقیقت، بہار اسمبلی انتخابات 2020 کے دوران، رام ولاس پاسوان کے بیٹے چراغ پاسوان نےاین ڈی اے کی حلیف جماعت جے ڈی یو کی مخالفت کی تھی اور تقریباََ ہر اس سیٹ پر اپنے امیدوار اتارے تھے، جہاں سے جے ڈی یو کے امیدوار میدان میں تھے۔ چراغ پاسوان کی وجہ سے جے ڈی یو کو بہت نقصان ہوا تھا۔حالانکہ ایل جے پی کو بھی صرف ایک سیٹ ہاتھ لگی تھی۔
بہاراسمبلی انتخابات کے بعد ایل جے پی کے سامنے ایک مختلف صورت حال پیدا ہوگئی۔ پشوپتی کمار پارس نے چراغ سے الگ ہو کر خود کو حقیقی ایل جے پی کا قومی صدر قرار دیا اور این ڈی اے کی حمایت شروع کردی۔ وہیں چراغ پاسوان بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی مخالفت کی سیاست کرتے رہے۔ چراغ سے الگ ہونے کے بعد پشوپتی کمار پارس نے لوک سبھا میں ایل جے پی کے 6 میں سے 5 ممبران پارلیمنٹ کو اپنے ساتھ لے کر ا یک لگ گروپ بنایا۔ اس کے بعد پارٹی اور نشان کی لڑائی میں معاملہ الیکشن کمیشن تک پہنچ گیا۔ کمیشن نے لوک جن شکتی پارٹی کا نام اور انتخابی نشان بنگلہ دونوں ضبط کرلئے۔ چراغ پاسوان کی قیادت والی پارٹی کا نام لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) رکھا گیا۔ ان کی پارٹی کا انتخابی نشان ہیلی کاپٹر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پشوپتی پارس کی پارٹی کا نام راشٹریہ لوک جن شکتی پارٹی ہو گیا۔ الیکشن کمیشن نے انہیں سلائی مشین کا انتخابی نشان دیا۔
اس وقت بہار میں ایل جے پی کے دو گروپ موجود ہیں۔ دونوں گروپ کی سیاست بھی الگ الگ ہے۔ تاہم، بہار میں نتیش کمار کے بی جے پی سے علیحدگی کے بعد چراغ پاسوان کا لہجہ بدل گیا ہے۔ وہ بی جے پی کے قریب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔اس بیچ چراغ پاسوان مسلسل اپنے ماس بیس کو برقرار رکھنے اور بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایل جے پی ریاستی سطح کی پارٹی رہی ہے۔ بہار اس کا سینٹر رہا ہے۔ ایسے میں یہ مانا جا رہا ہے کہ اگر اسے یوپی میں اسے ایک تسلیم شدہ سیاسی پارٹی کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے تو شاید کچھ گڑبڑ ی ضرور ہوئی ہے۔ ضبط شدہ پارٹی کا نام اور نشان اسیٹ الیکشن کمیشن کی سطح پر جاری کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ یوپی ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے پرانی پارٹی اور پرانے انتخابی نشان کو تسلیم کئے جانے پر سیاست گرم ہے۔ لوگ طرح طرح کے سوالات اٹھاہے ہیں۔ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا ایل جے پی کے دونوں گروپ آپس میں مل گئے ہیں۔ کیا الیکشن کمیشن نے ایل جے پی کے پرانے نام اور نشان کو پھر بحال کر دیا ہے؟ تاہم جواب یہ ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ کمیشن جلد ہی صورتحال واضح کر سکتا ہے۔
بہار کی سیاست میں چراغ پاسوان اور پشوپتی کمار پارس بھلے ہی دوستونوں پر نظر آئیں، لیکن دہلی کی سیاست میں دونوں ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ بہار میں، جب سے بی جے پی نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جے ڈی یو سے علیحدگی اختیار کی ہے، چراغ پاسوان کی بی جے پی سے قربت کافی بڑھ گئی ہے۔ اس سے پہلے بھی انہوں نے کھل کر بی جے پی پر کبھی حملہ نہیں کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی مرکز میں وزیر بننے والے پشوپتی کمار پارس آج بھی اس عہدے پر فائز ہیں۔دوسری جانب چراغ پاسوان کی بی جے پی سے بڑھتی ہوئی قربت سے یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ چچا اور بھتیجہ جلد ہی ایک ہو کر رام ولاس پاسوان کی سیاسی وراثت کو مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھا سکتے ہیں۔سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ رام ولاس پاسوان کی ایل جے کے دونوں گروپ ایک ہوجاتے ہیں تو چچا اور بھتیجہ دونوں مضبوط ہو ں گے ، ساتھ ہی بی جے پی کا ہاتھ بھی مضبوط ہوگا۔اس سے بہار کی سیاست میں کیا تبدیلی آئے گی، یہ دیکھنے کی بات ہوگی۔ تاہم دونوں پارٹیوں کےانضمام کے بارے میں ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
*********************

About the author

Taasir Newspaper