Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

جمہوریت مخالف نظریات کی مخالفت ضروری

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 18th Nov.

ایکناتھ شندےگروپ کے رکن پارلیمنٹ راہل شیوالے نے آر ایس ایس اور بی جے پی کے سیاسی ہیرو ونایک دامودر ساورکر کے بارے میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے بیان کی سخت الفاظ میں تنقید کی ہے۔ بال ٹھاکرے کی یاد میں ممبئی میں منعقد ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے شیوالے نے راہل گاندھی کے بیان کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے راہل شیوالے نےوزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے مہاراشٹر میں راہل گاندھی کی’’ بھارت جوڑو یاترا‘‘ کو روکنے اور انہیں قانون کی حکمرانی دکھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ چونکہ ساورکر کی توہین برداشت نہیں کی جا سکتی ہے، لہٰذا راہل گاندھی کو’’ چپل مارو تحریک ‘‘ شروع کرنی چاہیے۔شیوالے پورے غصے میں تھےاور غصے کی حالت میں بک بک کرتے ہوئے وہ یہاں تک کہہ گئے کہ ہمیں یہ دکھا دیناچاہئے کہ مہاراشٹر قانون اور ساورکر کی ریاست ہے۔ راہل شیوالے کے اس غیر ذمہ دارانہ بیان پر کانگریس لیڈر یشومتی ٹھاکر نے راہل ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا کسی کو’’ بھارت جوڑو یاترا ‘‘کو روکنے کا اختیار دیا گیا ہے؟ انہوں نے پر اعتماد لہجے میں یہ بھی کہا ہے کہ راہل گاندھی کی ’’بھارت جوڑو یاترا ‘‘کو کوئی نہیں روک سکتاہے۔
اِدھرکانگریس لیڈر راہل گاندھی کی قیادت میں ’’بھارت جوڑویاترا‘‘ گزشتہ بدھ کو مہاراشٹرا کے 10ویں دن واشم ضلع سے ایک بار پھر شروع ہوئی۔ جمبھرون پھاٹا سے صبح 6 بجے شروع ہونے والی پد یاترا شام کو میدشی گاؤں پہنچی اور رات کو اکولا ضلع کے پٹور میں رکی۔وہ ’’بھارت جوڑویاترا کا 70 واں دن تھا، جو 7 ستمبر کو تمل ناڈو کے کنیا کماری سے شروع ہوئی تھی۔اپنی ’’بھارت جوڑویاترا‘‘ کے دوران راہل گاندھی نے منگل کو یہ الزام عائد کیا تھا کہ بی جے پی ہر روز آئین پر حملہ کرتی ہے کیونکہ وہ یہ قبول نہیں کرنا چاہتی کہ دلتوں، قبائلیوں اور غریبوں کو حقوق ملنے چاہئیں۔ کانگریس کے سابق صدر نے جی ایس ٹی اور 2016 میں نوٹ بندی کو نافذ کرنے کے فیصلے پر بھی پی ایم نریندر مودی کو نشانہ بنایا تھا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ دونوں اقدامات چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں، دکانداروں اور کسانوں کو ختم کرنے کے لیے ہتھیارکے طور پر استعمال کیے گئے تھے۔
واضح ہو کہ راہل گاندھی نے کرناٹک کے ٹمکور میں’’ بھارت جوڑو یاترا ‘‘کے دوران خطاب کرتے ہوئےراشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور ونایک دامودر ساورکر کی زبردست تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا’’”ساورکر بی جے پی اورآر ایس ایس کے آئیکان ہیں۔ وہ دو تین سال انڈمان کی جیل میں کیا رہے، انہوں نے رحم کی درخواستیں لکھنا شروع کر دیں اور پھر تاحیات انگریزوں سے بھتہ لیتے رہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ انگریزوں کی مدد کر رہاتھا، جب کہ ساورکر انگریزوں سے بھتہ لے رہے تھے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ وہ جدوجہد آزادی میں کہیں نظر نہیں آئے۔ بی جے پی لیڈروں کو اس حقیقت کو قبول کرنا چاہیے۔ کانگریس پارٹی نے آزادی کی جدوجہد میں انگریزوں کے خلاف جنگ لڑی۔ کئی لیڈروں کو برسوں جیل میں رہنا پڑا۔ مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو، ولبھ بھائی پٹیل اور مولانا ابوالکلام آزاد سمیت کئی رہنما انگریزوں کے خلاف لڑے، جیل کی صعوبتیں برداشت کیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آج ملک نفرت پھیلانے والے کون ہیںاور وہ کس کمیونٹی سے آتے ہیں۔ نفرت اور تشدد پھیلا نے والے خواہ جو بھی ہیں، ملک کے دشمن ہیں۔ہم نفرت پھیلانے والوں کے خلاف لڑیں گے۔
دوسری جانب مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہےکہ و ہ ساورکر کے بارے میںبالکل جھوٹ بول رہے ہیں۔ مہاراشٹر کے لوگ’’ ہندوتو‘‘کے نظریہ کی توہین کا منہ توڑ جواب دیں گے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما نے کہا کہ دیگر کانگریس لیڈروں کی طرح راہل گاندھی وی ڈی ساورکر کے بارے میں روزانہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ مہاراشٹر کے لوگ مناسب وقت پر انہیں مناسب جواب دیں گے۔قابل ذکر ہے کہ ان دنوںکانگریس کی ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ مہاراشٹر سے گزر رہی ہے۔
معلوم ہونا چاہئے کہ 7 ستمبر،2022 سے شروع ’’ بھارت جوڑو یاترا‘‘ کے دوران راہل گاندھی عموماََ آر ایس ایس اور بی جے پی کی پالییوں کوتنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی حقیت ہے کہ ’’ بھارت جوڑو یاترا‘‘ کی عوامی مقبولیت نے بھی مخالفین کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ اب جب کہ یاترا مہاراشٹر سے گزر رہی ہے، مہا راشٹر میںآر ایس ایس اور بی جے پی کے کارکنان کافی سرگرم ہیں۔چنانچہ وہاں اس اندیشے سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ راہل گاندھی کے پروگرام میں خلل ڈالنے کی بھرپور کوشش ہو سکتی ہے۔ایسے میں ’’ بھارت جوڑو یاترا‘‘ اپنے مقررہ پروگرام کے مطابق آگے بڑھتی رہے، اس سلسلے میں کانگریس رہنماؤں کو حد درجہ محتا ط رہنے کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ ملک کے ذی شعور لوگوں کے لئے جمہوریت مخالف نظریات کی اعلانیہ مخالفت بھی ضروری ہےتاکہ بھارت کے جمہوری اقدار کا تقدس پامال کرنے کی کوشش کرنے والے کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

About the author

Taasir Newspaper