Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ملک بھر سے

خدا بخش لائبریری میںلائبریری سائنس کے طلبا اور ریسرچ اسکالرس کے لئے اورینٹیشن پروگرام کا انعقاد

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Patna | 21 NOv 2022

پٹنہ: ۲۱؍نومبر۲۰۲۲ء۔ قومی لائبریری ہفتہ کے موقع پر خدا بخش لائبریری میں۲۱؍نومبر ۲۰۲۲ کو Orientation programme کا انعقاد کیاگیا، جس میں ویر کنور سنگھ یونیورسٹی، آرہ کے پچاس طلبا اور طالبات نے شرکت کی۔طلباء کے لئے اورینٹیشن پروگراموں کا مقصد طلباء کو لائبریری کے ماحول، اس کے شعبہ جات اور انفراسٹرکچر سے واقف کرانا ہے۔ یہ انہیں مطالعہ کے ساتھ ضروری رابطہ قائم کرنے اور دوسرے ساتھیوں کے درمیان نیٹ ورک تیار کرنے کے قابل بناتا ہے۔ تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل بھی ایک لازمی جزو ہے تبھی تھیوری کارگر ہوتی ہے۔ پچھلے سال بھی خدا بخش لائبریری چالیس پچاس طلبا کے اورینٹیشن پروگرام منعقد کیا تھا۔ اس موقع پر اپنے خطاب میںڈاکٹر شائستہ بیدار، ڈائرکٹر، خدا بخش لائبریری نے کہا کہ لائبریری سائنس کے طلباء اور طالبات کو سب سے پہلے اس کی واقفیت ضروری ہے کہ جس موضوع کا انھوں نے انتخاب کیا ہے، اس کی غرض و غایت کیا ہے اور اس سے سماج اور معاشرہ پر کیسے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔چنانچہ ایک ترقی یافتہ سماج کے لئے ایک اچھی لائبریری کا ہونا بے حد ضروری ہے۔کیونکہ لائبریری ایک ایسا متحرک اور فعال ادارہ ہے جہاں زندگیاں سنورتی ہیں، نکھرتی ہیں۔کتاب ، تعلیمی ادارے اور لائبریریاں ، یہ تینوں چیزیں قوموں کی زندگی میں بڑی اہمیت کی حامل ہوا کرتی ہیں۔ ہر قسم کی ترقی کے دروازے انہیں کنجیوں سے کھْلا کرتے ہیں۔ یہ تینوں حصولِ علم و تعلیم کے بنیادی ذرائع ہیں۔ علم ہی سے دنیا کو سنوارا جاسکتا ہے۔ غرض کہ علم ، ترقی کا ذریعہ ، کامیابی کی کنجی اور دنیا کی حکومت و قیادت کا پہلا زینہ ہے۔ اگر ہمارے پاس علم ہے تو سب کچھ ہے اور اگر علم نہیں تو سمجھو کچھ بھی نہیں۔کتابوں سے دوستی ، علم سے محبت اور لائبریری قائم کر کے اسے آباد رکھنے کی فکری و عملی کوشش ، زندہ قوموں کی علامت ہے۔کتابوں کو اپنا دوست بنا کر تعلیمی ادارے اور لائبریری سے اپنا علمی وروحانی رشتہ جوڑکرزندگی کے ہر میدان میں کامیاب کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی ترقی یافتہ قوم لائبریری سے بے نیاز نہیں رہ سکتی۔ لائبریری کی اہمیت و افادیت سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔ خاص طور سے تعلیمی و تدریسی زندگی میں تو لائبریری کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس کے بغیر تعلیمی سفر کو منزل سے ہم کنار نہیں کیا جاسکتا۔لائبریرین شپ ایک بہت ہی مقدس کام ہے، یہ سماج سیوا کا ایک ذریعہ بھی ہے کہ ایک علم کے پیاسے کو علم کا امرت پلاتے رہیں۔ لائبریری ایک ایسا ادارہ ہے جہاں کتابوں کی شکل میں انسانی خیالات ، تجربات اور مشاہدات کی حفاظت کی جاتی ہے تاکہ ایک شخص کے خیالات سے نہ صرف اس کی نسل کے ہزاروں افراد بلکہ اس کے بعد آنے والی نسلوں کے افراد بھی استفادہ کرسکیں۔ کتب خانوں کا وجود یعنی کتابوں کو ایک خاص جگہ اس طرح محفوظ رکھنے کا انتظام کہ وہ محفوظ رہیں اور بوقت ضرورت بغیر کسی دشواری کے حاصل کی جا سکیں ، کسی نہ کسی شکل میں قدیم ترین زمانے سے ملتا ہے۔ خدا بخش لائبریری نے شروع سے ہی اِن مقاصد کو اپنے پیش نظر رکھا اور برابر اس مشن میں لگی رہی کہ کیسے آدمی کو انسان بنایا جائے اور تعلیم و علم کے ذریعہ سماج کو نہ صرف خواندہ بنایا جائے بلکہ اسے اس قابل بنایا جائے کہ انسانیت کی کھیتی ہمیشہ لہلہاتی رہے اور بنجر زمین میں گل بوٹے کھلتے رہے۔ خدا بخش لائبریری نے سماج اور اکیڈمک دنیا جو خدمت کی ہیں، ان پر بھی روشنی ڈالی گئی تاکہ آنے والی نسل ایسے کاموں کو بڑھاوا دیں اور سماج کو بہتر بنائیں۔ لائبریری طلبا اور ریسرچ اسکالرس کے لئے علم کی تشہیرپرمسلسل کام کر رہی ہے کہ علم کی روشنی جس قدر بانٹی جائے، بڑھتی ہی رہتی ہے۔

اس موقع پر متعدد طلبا اور طالبات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور خدا بخش لائبریری کی خدمات کو سراتے ہوئے اپنی زندگی پر اس قسم کے پروگرام سے جو اثرات مرتب ہوتے ہیں،کھل کر اس بارے میں اپنی باتیں رکھیں۔ آخر میں ڈائریکٹر نے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں سے جو فائدہ آپ کو پہنچ رہا ہے، اسے اپنے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کی تشہیر و اشاعت اپنی زندگی کا مقصد بنالیں۔جیسی استطاعت ویسا کام اپنے لئے مخصوص کر لیں اور اس عمل کے لئے ہر روز کچھ وقت متعین کر لیں۔ جو کام مستعدی سے اور بلا ناغہ کیا جاتا ہے، وہ بارور ضرور ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔

خدا بخش لائبریری میںایوارڈ تقریب کا انعقاد

پٹنہ: جلیانوالا باغ سانحہ ہندستانی تاریخ کا ایک دردناک واقعہ ہے۔۱۳؍ اپریل ۲۰۱۹ء کو اس واقعہ کو سو برس گزر چکا ہے۔ اس سانحہ کی یاد تازہ کرنے اور نئی نسل کو اس واقعہ کی گہرائی سے متعارف کرانے اور اس واقعہ کے رونما ہونے کے بعد جو خیر سگالی کا ماحول ہندستان میں قائم ہوا تھا، اسی ماحول کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے خدا بخش لائبریری میں متعدد پروگراموں کا انعقاد ہوا۔ اس میں ۲۸؍ مئی ۲۰۱۹ء کو تحریری مسابقہ اور ۲۹؍ مئی ۲۰۱۹ء کو تقریری پیشکش کی محفل سجائی گئی۔ اس مسابقہ میں ۵۲؍ طلباء و طالبات نے حصہ لیا۔ چونکہ جلیانوالا باغ سانحہ ۱۳؍ اپریل ۱۹۱۹ء کو واقع ہوا تھا، اس لئے ۱۳؍ تاریخ کا خیال کرتے ہوئے ۱۳؍ جون ۲۰۱۹ء کو مسابقہ میں حصہ لینے والے جملہ۵۲؍ طلباء و طالبات کی حوصلہ افزائی کے غرض سے پہلے مرحلے میں توصیفی سند اور اعزازیہ سے نوازا گیا۔ ۴۷؍ طلباء و طالبات نے تحریری اور زبانی دونوں مسابقوں میں حصہ لیا تھا اور ۵ٖ؍طلباء و طالبات نے صرف تحریری مسابقہ میں حصہ لیا تھا۔ اس تحریری اور زبانی مسابقے میں شامل امیدواروں کوڈائرکٹر خدا بخش لائبریری محترمہ ڈاکٹر شائستہ بیدار کے ہاتھوں سند اور اعزازیہ سے نوازا گیا۔
اس ایوارڈ تقریب کا افتتاح کرتے ہوئے ڈائرکٹر محترمہ نے فرمایا کہ چند برسوں کے تعطل کے بعد یہ لائبریری پھر سے اپنے اصل مقام کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ہماری کوشش یہی ہوگی کہ اس قسم کے پروگرام کا انعقاد بار بار ہو تا رہے تاکہ طلباء و طالبات کے اندر جو جمود کی کیفیت طاری ہے، اسے زائل کیا جائے اور ان کی بہترین رہ نمائی کی جائے۔ جلیانوالا باغ سانحہ جب رونما ہوا تو اس باغ میں اس وقت نہ کوئی ہندو تھا نہ مسلمان بلکہ سب کے سب ہندستانی تھے۔ جلیانوالا باغ نے جو پیغام دیا تھا، اس پیغام کو ہمیںجَن جَن تک پہنچانا ہے۔
اس موقع ڈاکٹر شاہد جمیل صاحب نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ پہلی بارش میں بھیگنے کا جو مزہ آتا ہے، آج وہی لطف ہمیں خدا بخش لائبریری میں آ رہا ہے۔ ہمیں قوی امید ہے کہ سابق ڈائرکٹر ڈاکٹر عابد رضا بیدار نے اس لائبریری میں جو صالح روایت قائم کی تھی، موجودہ ڈائرکٹر اس روایت کو مزید مستحکم کریں گی۔ اس طرح کی تقریبات سے نئی نسل کی بہتر آبیاری ہوتی ہے۔ نئی نسل کی کثیر تعداد میں یہاں موجودگی صالح روایت کی جیت ہے اور ہمیں اس جیت کو برقرار رکھنا ہے۔
سابق ڈائرکٹر ڈاکٹر عابد رضا بیدار نے سند اور اعزازیہ سے نوازے جانے والے طلباء و طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے فرمایا کہ پورے لگن اور حوصلہ اور اخلاص کے ساتھ ملک کی تعمیر میں حصہ لینا ہے۔
آخر میں ڈائرکٹر صاحبہ نے سامعین ، طلباء و طالبات اور خدا بخش لائبریری کے کارکنان کا شکریہ ادا کیااور کہا کہ کسی بھی پروگرام کی کامیابی کے لئے Participants اور کارکنان کا نمایاں حصہ ہوتا ہے۔

خدا بخش لائبریری میںجلیانوالا باغ سانحہ پر مختلف پروگرام کا انعقاد

پٹنہ: ۱۳؍ اپریل ۱۹۱۹ء کو ہندستانی تاریخ میں ایک ایسا اندوہناک واقعہ پیش ہوا، جس کی ٹیس اب تک ہندستانیوں کے دلوں میں شعلہ بن کر ابھرتی رہتی ہے۔۱۳؍ اپریل ۲۰۱۹ء کو اس واقعہ کو سو برس بیت گئے۔ مرکزی حکومت نے اس کے سو برس پورے ہونے پر متعدد پروگرام کو منعقد کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جلیانوالا باغ سانحہ جدید انسانی تاریخ اور آزادی کی تحریکوں کا سب سے دردناک اور المناک سانحہ ہے جو حکمرانوں کی سنگدلی اور تنک نظری کا مظہر بھی ہے۔ اس کی تاریخ لہو کی روشنائی سے لکھی گئی ہے۔ اس سانحہ کو سو برس بیت چکے ہیں۔ اسی یاد کو تازہ کرنے اور نئی نسل کو اس کی اندوہناک تاریخ سے باخبر کرانے کے لئے خدا بخش لائبریری میں۲۷؍ اپریل ۲۰۱۹ء سے ۲؍ مئی ۲۰۱۹ء تک جلیانوالا باغ سانحہ سے متعلق لائبریری میں موجود کتابوں کی نمائش لگائی گئی اور ۲۸؍ اپریل ۲۰۱۹ء کو ایک مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا۔ اس مذاکرہ کا آغاز کرتے ہوئے ڈاکٹر شائستہ بیدار، ڈائرکٹر خدا بخش لائبریری نے مہمان مقررین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انھوںنے اپنے افتتاحی خطاب میں فرمایا کہ نفرت کی لکیر چاہے کتنی ہی بڑی ہو جائے، محبت کی لکیر سے بڑی نہیں ہو سکتی ہے۔ اس لئے ہماری ذمہ داری ہے کہ اس محبت کی لکیر اتنی بڑی کی جائے کہ نفرت کی لکیر خود بخود چھوٹی ہو جائے۔ نفرت کس طرح محبت میں تبدیل ہو سکتی ہے، اس کے بارے میں بہت گہرائی سے سوچنا ہوگا۔جلیانوالا باغ سانحہ جو ہندستانیوں کی ایکتا اور آپسی میل جول کی ایک بہترین مثال ہے، ہمارے لئے مشعل راہ بن سکتا ہے۔ اس مذاکرہ میں ڈاکٹر امتیاز احمد، سابق ڈائرکٹر، خدا بخش لائبریری، ڈاکٹر اوم پرکاش پرساد، سابق ایسوسیٹ پروفیسر، شعبۂ تاریخ، پٹنہ یونیورسٹی اور پروفیسر رتنیشور مشرا، سابق پروفیسر، شعبۂ تاریخ، للت نرائن متھلا یونیورسٹی، دربھنگہ نے مقررین کی حیثیت سے شرکت کی اور اپنے قیمتی خیالات سے سامعین کو محظوظ کیا۔

ڈاکٹر امتیاز احمد نے اپنے خطاب میں ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا کہ اس سانحہ سے گاندھی جی کو گہرا صدمہ پہنچا۔ وہ اب تک انگریزوں سے مصالحت کی پالیسی پر چل رہے تھے۔ اس واقعہ نے گاندھی جی کی سوچ کو بدل دیا اور اب وہ انگریزوں کے شدید مخالف ہو گئے اور انگریزوں کی حکومت کو شیطانی طاقت سے تعبیر کیا۔
ڈاکٹر اوم پرکاش پرساد نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جلیانوالا باغ سانحہ تحریک آزادی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ جنرل ڈائر کی خواہش تھی کہ ہندستانیوں سے آزادی کا خواب چھین لیا جائے لیکن اس کا الٹا اثر ہوا اور ہندستانیوں کے دلوں میں آزادی کا شعلہ اور زوروں سے بھڑکنے لگا اور بچے بچے کے سینوں میں یہ آگ بھڑک اٹھی۔
پروفیسر رتنیشور مشرا نے اس سانحہ کے اہم پہلو کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جس وقت جلیانوالا باغ کا سانحہ پیش آیا، اس وقت گاندھی جی چمپارن میں تھے۔ لوگوں کا اصرار بڑھتا جارہا تھا کہ گاندھی جی کچھ دن اور چمپارن میں قیام فرمائیں۔ لیکن گاندھی جی نے کہا کہ اس وقت یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ جلیانوالا باغ ہمیں پُکار رہا ہے۔ چنانچہ وہ بلا تاخیر جلیانوالا باغ پہنچ گئے۔ وہاں کا نظارہ دیکھ کر انھیں بہت ٹھیس پہنچی۔ وہاں سے ان کی سوچ میں تبدیلی آئی اور آزادی کی تحریک زور و شور سے چلائی گئی۔ جلیانوالا باغ سانحہ کے بعد بہار میں بیداری کی لہر دوڑ گئی اور ہندو مسلم ایک ہو کر آزادی کے کاموں میں لگ گئے۔ اسی دوران بہارمیں نئے نئے لیڈر ابھرے۔ اسی سانحہ نے عدم تعاون تحریک کی راہ ہموار کی۔
اس مذاکرہ میں سوال و جواب کا بھی دور چلا اورپروفیسر اعجاز علی ارشد، پروفیسر شرف عالم، ڈاکٹر عطیہ بیگم،ڈاکٹر ریحان غنی اور جاوید حیات اور دیگر حضرات نے اپنے خیالات سے سامعین کو نوازا۔
جلیانوالا باغ سانحہ کے تحت منعقد کئے گئے پروگرام کی آخری کڑی کے طور پر ایک تحریری؍ زبانی مقابلہ کا انعقاد کیا گیا۔ ۲۸؍ مئی ۲۰۱۹ء کو تحریری مقابلہ برائے مضمون نویسی کا انعقاد ہوا جس میں کُل ۵۲؍ طالبات و طلبہ نے حصہ لیا، اس میں ۲۱؍ لڑکیاں اور ۳۱؍ لڑکے شامل تھے۔ اس مقابلہ میں جن طالبات اور طلبہ نے شرکت کی، ان کے نام حسب ذیل ہیں:
۱۔ ابھیلوک کمار ، ۲۔ابھیناش شکلا، ۳۔ اجے کمار، ۴۔ اکھلیش کمار کیسری، ۵۔ آلوک کمار سنگھ، ۶۔ اننتا سنہا، ۷۔ انکت راج، ۸۔ اپوروا ورما،۹۔ بھاسکر، ۱۰۔ بھاؤنا کماری، ۱۱۔چندر بھوشن کمار، ۱۲۔ گورو کمار، ۱۳۔ جے لال کمار، ۱۴۔ کرشنا شاؤ، ۱۵۔ منیش کمار، ۱۶۔ منیش کمار پاسوان، ۱۷، محمد تبریز اختر، ۱۸۔ مسکان کماری، ۱۹۔ نندنی سنہا، ۲۰۔ نازیہ پروین، ۲۱۔ پنکج کمار، ۲۲۔ پکسی کماری، ۲۳۔ پرفل کمار سنہا، ۲۴۔ پرنسی کماری، ۲۵۔ پوجا کماری، ۲۶۔ راہل رنجن سنگھ، ۲۷۔ راجا سنگھ، ۲۸۔ روی کمار، ۲۹۔ روہت کمار، ۳۰۔ ردر پرتاپ، ۳۱۔ روپیش کمار، ۳۲۔ روپیش کمار، ۳۳۔ ایس کے جگیاسو، ۳۴۔ صالحہ ناز، ۳۵۔ ساجد علی، ۳۶۔ سمریدھی کرن، ۳۷۔ سنکیت کمار جھا، ۳۸۔ سیجل راج، ۳۹۔ شبنم کماری، ۴۰۔شگوفا ناز، ۴۱۔ شیل سنگھ، ۴۲۔ سمبھوی رانی، ۴۳۔ ششی کمار، ۴۴۔ شیوانی، ۴۵۔شریا سوگندھ، ۴۶۔ شوبھم آریا، ۴۷۔ شوبھم کمار، ۴۸۔سونی پانڈے، ۴۹۔سوکمار مہتو، ۵۰۔ تبریز انصاری، ۵۱۔ ام سلمی، ۵۲۔ وندنا کماری۔
۲۹؍ مئی ۲۰۱۹ء کو تحریری مقابلہ میں شامل لڑکے اور لڑکیوں کو زبانی طور پر جلیانوالا باغ سانحہ پر اظہار خیال کرنے کا موقع دیا گیا۔ اس موقع پر ہر امیدوار کو پانچ منٹ کا موقع دیا گیا۔ اس کو جج کرنے کے لئے ڈاکٹر امتیاز احمد، ڈاکٹر اوم پرکاش پرساد اور ڈاکٹر جاوید حیات کی خدمات لی گئیں۔ اس زبانی مقابلہ میں کچھ امیدواروں نے بہترین جملوں کا استعمال کیا جو حسب ذیل ہیں:
جے لال کمار: اس واقعہ پر آسمان بھی رویا تھا، میں بھی جان دینے کو تیار ہوں۔
بھاونا کماری: ہزاروں انسان کی قربانی کے بعد تاریخ بنتی ہے۔
شبنم کماری: ایک ایسا دکھ جو ملک کی تعمیر کرتا ہے۔
تبریز انصاری: یہ حادثہ قربانی کے لئے للکارتا ہے۔
پروگرام کے اختتام پر سابق ڈائرکٹر ڈاکٹر عابد رضا بیدار نے بڑے پتے کی بات کہی کہ آج دل بانٹے جا رہے ہیں، اس کے خلاف کہیں سے کوئی آواز نہیں اٹھ رہی ہے۔ اس نفرت کے خلاف ہندستان کے ایک چھوٹے سے شہر کے ایک چھوٹے سے حصے خدا بخش لائبریری میں اس کے خلاف آواز بلند کی جارہی ہے۔ اس موقع پر پچاس نوجوان جمع ہو گئے ہیں۔ یہاں یہ بچے ایک آواز اٹھا رہے ہیں جس میں اودھم سنگھ، ستیہ پال اور سیف الدین کچلو تین نہیں ایک تھے۔ گاندھی کبھی مرتا نہیں، وہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ مستقبل میں ان میں سے کئی گاندھی نکلے گا۔ ہم سب ایک رہیں گے اور جو بھارت بٹ گیا وہ بھی ایک ہوگا۔

خدا بخش لائبریری میں’تقسیم توصیفی اسناد برائے اسٹاف‘ پروگرام کا انعقاد

پٹنہ: ۱۴؍جنوری ۲۰۱۹ء۔خدا بخش لائبریری میںآج ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔جس میں ڈائرکٹر موصوف کی جانب سے ان اسٹاف کو توصیفی اسناد سے نوازا گیا، جنھوں نے نیشنل میوزیم، نئی دہلی میں منعقد ازبکستان سے متعلق نادر اور قدیم مصوری کی نمائش کی تیاری میں خدمت انجام دی۔ واضح ہو کہ گذشتہ ۲۵؍ستمبر تا ۲۵؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء کو نیشنل میوزیم، نئی دہلی میں ازبکستان سے متعلق نادر اور قدیم مصوری کی ایک بین الاقوامی نمائش کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع سے خدا بخش لائبریری نے بھی اپنی بھر پور موجودگی درج کرائی۔اس لائبریری میں مصوری کا بھی ایک بہترین ذخیرہ موجود ہے، جس میں ازبکستان سے متعلق مصوری بہت ہی نادر ہیں۔ اس موقع سے خدا بخش لائبریری نے ایک اور اہم کام کیا۔اس لائبریری میں مخطوطات کی شکل میں ازبکستان سے متعلق چاہے ہو ازبکستان کی تاریخ ہو یا وہاں کے مصنفین کی کتابیں ہوں، اس کا توضیحی کیٹلاگ بھی تیار کرایا۔ اس کیٹلاگ کی ازبکستان سے آئے دانشوروں نے کافی تعریف کی اور خدا بخش لائبریری کو کافی سراہا۔اس کیٹلاگ میں تقریباً تین سو مخطوطات شامل ہیں، جو عربی، فارسی اور ترکی زبان میں ہیں۔ گذشتہ پچیس برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب اس لائبریری کے اسٹاف کو ان کی خدمات کے اعتراف میں توصیفی اسناد سے نوازا گیا۔اس کے لئے خدا بخش لائبریری کے تمام اسٹاف اپنے محترم ڈائرکٹر جناب رابرٹ ایل چونگتھو صاحب، کمشنر پٹنہ ڈویزن کا تہہِ دل سے شکر گزار ہیں۔ساتھ ہی جناب پروین کمار، آر ڈی او، پٹنہ کمشنری اور ایڈمنسٹریٹو آفیسر خدا بخش لائبریری کا بھی شکریہ ادا کرنا ضروری ہے، جن کی تحریک پر یہ پروگرام منعقد کیا گیا۔

About the author

Taasir Newspaper