Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

مقابلہ دلچسپ ہوگا

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 19th Nov.

بہار قانون ساز اسمبلی کی کڑھنی اسمبلی سیٹ کے ضمنی انتخاب کے لیے ، اب تک کی اطلاع کے مطابق کل چار امیدواروں نے پرچۂ نامزدگی داخل کیے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو کے منوج کشواہا، ریاست میں حکمراں عظیم اتحاد کے مشترکہ امیدوار ہیں۔ بی جے پی کے امیدوار کیدار پرساد گپتا نے بھی پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے۔ اس سیٹ پر تمام بڑی پارٹیوں کے امیدواروں کے ناموں کے اعلان کے ساتھ ہی سیاسی اکویشن پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
مظفر پور ضلع کےکڑھنی اسمبلی حلقہ میں ووٹروں کی تعداد 3,11,728 ہے۔ یہاں مرد 1,64,474 خواتین 1,46,507 ​ تیسری جنس کے چھ اور سروس الکٹرس کی تعداد 741 ہے۔اس حلقہ میں کشواہا ذات کے ووٹرز کی تعداد سب سے زیادہ تقریباً 40 ہزار ہے۔شاید اسی تعداد کو دھیان میں رکھتے ہوئے جے ڈی یو نے منوج کمار سنگھ عرف منوج کشواہا کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ دوسرے نمبر پر ویشیہ برادری کے لوگ آتے ہیں، جن کے ووٹرز کی تعداد 33 ہزار کے قریب ہے۔ بی جے پی کی نظر اسی برادری پر ہے۔اس نے ایک بار پھر کیدار گپتا کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ اس کےبعد سہنی سماج کے 25 ہزار ووٹررز ہیں،جنھیں وی آئی پی سر براہ مکیش سہنی اپنا ووٹرز مانتے ہیں۔ لہٰذا،ا نھوں نے سہنی سماج کے لوگوں کے بھروسے وی آئی پی پارٹی کے امیدوار کے طور پراونچی ذات سے تعلق رکھنے والے نیلابھ کمار کو میدان میں اتارا ہے۔اس حلقے میںتقریباً 23 ہزار ووٹروں کے ساتھ چوتھے نمبر پر یادو برادری کے لوگ آتے ہیں۔ اس کے علاوہ کوئیری اور کرمی ذات کے لوگ بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ دوسری طرف درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے ووٹروں کی تعداد تقریباً 19 فیصد ہے، جن پر چراغ پاسوان کی نظر ٹکی ہوئی ہے۔وہ ان کو بی جے پی کی جانب موڑنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ کڑھنی سیٹ پر مسلم ووٹروں کی تعداد بھی تقریباً 22 ہزار ہے، جس پرایم پی اسد الدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے ضلع کونسلر مرتضیٰ انصاری کو اپنا امیدوار بنایاہے۔اس حلقے میں تقریباً 45000 اونچی ذات کے ووٹر ہیں، جن میں بیشتر بی جے پی سے ناراض نظر آ رہے ہیں۔وہ آر جے ڈی سے بھی دور ہیں۔شاید اسی وجہ سے آر جے ڈی نے اپنی سیٹ جے ڈی یو کو دے دی ہے۔ اب وہ نتیش کمار کے ساتھ جائیں گے یا مکیش ساہنی کے ساتھ،یہ دیکھنا کافی دلچسپ ہوگا۔ لیکن اس سے زیادہ دلچسپی کا سبب بنے گی بی جے پی اور جے ڈی یو کے درمیان اس مقابلے میں اے آئی ایم آئی ایم اور وی آئی پی کی موجودگی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے امیدوار غلام مرتضیٰ انصاری نے جے ڈی یو اور وی آئی پی کے امیدوار نیلابھ کمار نےبی جے پی کو ابھی سے پریشانی میں ڈال دیا ہے۔یہ دونوں بڑی پارٹیاں اس لئے خائف ہیں کیوں کہ یہاں جیت اور ہار کا فیصلہ بہت کم مارجن سے ہوتا رہا ہے۔2020 کے اسمبلی انتخابات میںبی جے پی کے کیدار گپتا آر جے ڈی کے انل ساہنی سے محض 712 ووٹوں سے ہار گئے تھے۔ کیدار گپتا نے 2015 کے اسمبلی انتخابات میں 11570 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی اور منوج کشواہا ہار گئے تھے۔اس بار ضمنی ا نتخابات میں ایک بار پھر دونوں آمنے سامنے ہیں۔
سابق ضلع کانسلر اور اے آئی ایم آئی ایم کے امیدوار غلام مرتضیٰ انصاری گرچہ لڑائی میں نہیں ہیں،لیکن وہ گوپال گنج کی طرح عظیم اتحاد( جے ڈی یو ) کا کھیل بگاڑنے کی پوزیشن میں ضرور ہیں ۔مرتضیٰ کو جتنے زیادہ ووٹ ملیں گے،عظیم اتحاد کے سامنے اتنی ہی بڑی مصیبت کھڑی ہو سکتی ہے اور اسی تناسب سے بی جے پی کو راحت ملے گی۔ اسی طرح وی آئی پی کے امیدوار نیلابھ کمار کو جتنے ووٹ ملیںگے، وہ بی جے پی کے لئے پریشانی کا سبب بنیں گے۔ نیلابھ کمار بھومیہار برادری سے ہیں۔ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بی جے پی کے ساتھ ہیں۔لہٰذا، انھیں جتنے زیادہ ووٹ ملیں گے، بی جے پی کی مصیبت کو بڑھائیں گے۔ جیت اور ہار کا مارجن بھی کم ہوگا۔ فیصلہ کس کے حق میں ہوگا، یہ کہنا بہت آسان نہیں رہ جائے گا۔
واضح ہو کہ مظفر پور ضلع کی کڑھنی اسمبلی سیٹ کے ضمنی انتخاب کے لیے 5 دسمبر کو ووٹنگ ہونی ہے۔ اس کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 17 نومبرتھی، جبکہ امیدوار 21 نومبر یعنی کل تک کاغذات نامزدگی واپس لے سکتے ہیں۔ اس سیٹ پر ووٹوں کی گنتی 8 دسمبر کو ہوگی۔ اس اسمبلی سیٹ کی نمائندگی پہلے آر جے ڈی کے انیل کمار سہنی کر رہے تھے۔ سی بی آئی کی عدالت نے سہنی کو دھوکہ دہی کے ایک معاملے میں قصوروار ٹھہرایا اور انہیں تین سال قید کی سزا سنائی اس کے بعد اس نشست پر ضمنی انتخاب ضروری ہو گیا تھا۔اس بار یہ سیٹ بی جے پی کے کھاتے میں جائے گی یا جے ڈی یو کے، یہ تو 8 دسمبر کو ہی معلوم ہوگا۔لیکن اس فیصلے میں اے آئی ایم آئی ایم اور وی آئی پی کا جو رول رہے گا، وہ ابھی سے موضوع بحث بناہوا ہے۔سب کی زبان پر ایک ہی بات ہے کہ مقابلہ دلچسپ ہوگا۔
*********

About the author

Taasir Newspaper