Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

!مقدّر کا رول بھی اہم ہو سکتاہے

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 23rd Nov.

بہار کے مظفر پور ضلع کی کڑھنی اسمبلی سیٹ پر ضمنی انتخاب ہونے جا رہا ہے۔ اس سیٹ کے لئےبی جے پی کے علاوہ عظیم اتحاد ، وی آئی پی اور اویسی کی پارٹی نے بھی اس الیکشن میں اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے تمام متعلقہ سیاسی جماعتوں نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ گوپال گنج اور مکامہ سیٹوں کے ضمنی انتخابات کے برابری والے نتائج کے بعد کڑھنی کے لئے ہو رہے اس ضمنی انتخاب کا رزلٹ ہی بتائے گا بہار کی سیاست کا رخ کیا ہوگا۔ماہرین کا ماننا ہے کہ گوپال گنج میں بی جے پی کو اسدالدین اویسی کی پارٹی کی وجہ سے کامیابی ملی۔ مکامہ میں اننت سنگھ فیکٹر نے کام کیا۔اب کڑھنی کے نتیجہ سے ہی یہ صاف ہو سکے گا کون کتنے پانی میں ہے۔
بی جے پی سے جڑے ذرائع کی مانیں تو ریاستی قیادت کو مرکزی قیادت سے یہ ہدایت ملی ہے کہ بی جے پی کے روایتی ووٹ میں کوئی خلل نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے لیے بہار بی جے پی کے تمام بڑے لیڈروں کے لئے کڑھنی کی سیٹ وقار کا مسئلہ بن گئی ہے۔ اِدھروکاسیل انسان پارٹی(وی آئی پی) کے سربراہ مکیش صہنی نے بی جے پی کے کھیل کو خراب کرنے کے لئے کمر کس لی ہے۔ بی جے پی کڑھنی ضمنی انتخاب میں بھومیہار ووٹروں کو اپنا کور ووٹر سمجھ کر چناؤ جیتنے کے لئے حکمت عملی مرتب کر رہی تھی۔ اسی بیچ وی آئی پی نے بھومیہار برادری سے آنے والے ایک مقامی نوجوان نیلابھ کمار کو ٹکٹ دے کر بی جے پی کے سیاسی ایکویشن کو زیرو زبر کر دیا ہے۔کڑھنی کے بیشتر سنجیدہ ووٹر ز نیلابھ کمار کی حمایت میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ جس طرح ایم پی اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم گوپال گنج میں آر جے ڈی امیدوار کی ہار کا سبب بن گئی تھی ٹھیک اسی طرح لگتا ہے کہ کڑھنی میں وی آئی پی بی جے پی کے لیے وبال جان ثابت ہونے والی ہے، جس کا احساس بی جے پی کو بھی ہے۔ بھومیہار ووٹروں کے کھونے کی وجہ سے سیٹ ہاتھ سے نکل نہیں جائے ، اس اندیشے نے بی جے پی کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔
اِدھر نیلابھ کمار نے عوامی رابطہ مہم تیز کر دی ہے۔کڑھنی کے بیشتر بھومیہار رائے دہندگان کا کہنا ہے کہ انہوں نے سب کو ووٹ دیکر دیکھ لیا۔کسی نےحلقےکے لیے کچھ نہیں کیا۔اس بار وہ نیلابھ کمار کو آزمائیں گے۔بھومیہار رائے دہندگان کی اس طرح کی رائے سے بی جے پی کا خوفزدہ ہونا فطری ہے۔لیکن وہ کسی بھی قیمت پر ’’بی‘‘ فیکٹر کو چھوڑنا نہیں چاہتی ہے۔چنانچہ حالات پر قابو پانے کے لئے بی جے پی نے تمام بھومیہار لیڈروں کو میدان میں اتار دیا ہے۔انھیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ کڑھنی چھوڑ کر کہیں نہ جائیں۔بھومیہار ووٹروں کو پھسلنے سے روکنے کے لیے مقامی سطح کے بی جے پی رہنما 24 گھنٹے علاقے میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔مظفر پور سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر سریش شرما بھی مسلسل کڑھنی کے دیہی علاقوں میں کیمپ کئے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ وجے سنہا کو تعلقات عامہ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ بوچہاں اسمبلی حلقہ کی غلطی سے سبق حاصل کرتے ہوئے بی جے پی نے بھومیہار کے ساتھ ساتھ ویشیہ سماج کے لیڈروں کو بھی رائے عامہ ہموار کرنے کے کام میں لگا دیا ہے۔پارٹی کے ریاستی صدر سنجے جیسوال، جیویش مشرا ، رندھیر سنگھ اور بی جے پی ضلع صدر رنجن کمار سنگھ 24 گھنٹے الرٹ موڈ میں نظر آ رہے ہیں۔بی جے پی کسی بھی قیمت پر بھومیہار اور ویشیہ سماج کے ووٹروں کو بھاگنے نہیں دینا چاہتی ہے۔
دوسری جانب عظیم اتحاد گوپال گنج کی تاریخ کو دہرائے جانے سے خائف ہے۔ عظیم اتحاد نے بھی کڑھنی کی سیٹ کو 2024 کے لوک سبھا اور 2025 کے اسمبلی انتخابات کے لئے ٹسٹ میچ مان کر چناؤ جیتنے کی حکمت عملی مرتب کی ہے۔ جے ڈی یو کے قومی صدر للن سنگھ ڈپٹی سی ایم تیجسوی یادو کے ساتھ کڑھنی میں میٹنگ کرنے والے ہیں۔2 دسمبر کووزیر اعلیٰ نتیش کمار اور نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو انتخابی ریلی سے خطاب کریں گے۔کہا جا رہا ہے کہ عظیم اتحاد کی حکومت بننے کے بعد چچا بھتیجا پہلی بار انتخابی جلسے کے اسٹیج پر نظر آئیں گے۔ تاہم یہاں بھی اسد الدین اویسی کی پارٹی کے امیدوار مرتضی انصاری عظیم اتحاد کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔ اس اندیشے نے عظیم اتحاد کے لیڈروں کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔چنانچہ اس بار عظیم اتحاد کی پوری توجہ علاقے کے مسلم، یادو اور انتہائی پسماندہ ووٹروں کو راغب کرنے پرہے۔واضح ہو کہ کڑھنی اسمبلی حلقہ میں تقریباً 22 ہزار مسلم اور تقریباً 23 ہزار یادو ووٹرز ہیں۔ اس کے علاوہ انتہائی پسماندہ طبقات کے ووٹرز کل آبادی کا تقریباً 19 فیصد ہیں۔ سب سے زیادہ آبادی اعلیٰ ذات کے ووٹروں کی ہے،جن میں بھومیہار اور برہمن شامل ہیں۔ایسے میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ بی جے پی وکاسیل انسان پارٹی(وی آئی پی) سے بچ کر نکلنے اور عظیم اتحاد کے رہنما اے آئی ایم آئی ایم کی ہرانے والی طاقت کو کمزور کرنے کے لئے کون سی تدبیر اختیار کرتےہیں۔لیکن یہ طے ہے کہ مقابلہ کانٹے کا ہوگا ، جس میںسیاسی جماعتوں کےمقدر کا بھی اہم رول ہو سکتا ہے۔
************

About the author

Taasir Newspaper