Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ریاست

ہند۔ نیپال سرحد سے پاکستانی خاتون گرفتار ، اے ٹی ایس کھنگال رہی موبائل کنکشن

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 6th Nov.

پٹنہ، 6 نومبر:بہار میں ہند۔ نیپال سرحد سے متصل کشن گنج ضلع سے پولیس نے مشترکہ کارروائی میں پاکستانی خاتون کو گرفتار کیا تھا۔ اس سے بہار اے ٹی ایس پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ پوچھ گچھ کے دوران معلوم ہوا ہے کہ یہ خاتون پاکستان کی رہائشی ہے۔ لیکن خاتون نے امریکہ اور کیلیفورنیا کی شہریت لے رکھی ہے۔
خاتون سے ضبط کی گئی سامان کی چھان بین کی گئی تو چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا۔ خاتون سے برا?مد ہونے والے امریکی پاسپورٹ پر اس کا نام فریدہ ملک لکھا ہوا ہے۔ ثنا اختر کا نام دہلی سے باگڈوگرا جانے والی فلائٹ ٹکٹ میں ہے جو ان کے پاس سے برآمد ہوا ہے۔ اے ٹی ایس کی ٹیم ہند-نیپال سرحد سے گرفتار مشتبہ خاتون سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ خاتون مکمل طور پر مشکوک بتائی جا رہی ہے۔ ان کے دو نام سامنے آٓٓٓرہے ہیں۔ اس وقت خاتون کشن گنج جیل میں بند ہے۔ ہند-نیپال سرحد کے قریب کیا خاتو ن کا کوئی تعلق ہے؟ اس سے اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اس سے پانچ ایئرلائن کمپنیوں کے چھ بورڈنگ پاس ملے ہیں۔ اس میں ایک قطر ایئرویز، ایک تارا ایئر، ایک یونائیٹڈ ایئر لائن، ایک ایئر انڈیا اور دو انڈیگو کے بورڈنگ پاس ملے ہیں۔ اس کے علاوہ خاتون سے تین موبائل ، تین میموری کارڈ ، چیک ، ڈرائیونگ لائسنس اور پاکستان چھوڑنے کے سرٹیفکیٹ کی کاپی بھی ملی ہے۔
اے ٹی ایس کے خصوصی ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق مشتبہ خاتون سے ضبط کیے گئے موبائل فون کے ذریعے اس کا رابطہ ٹریس کیا جا رہا ہے۔ اس نے کب ، کس سے اور کہاں بات کی؟ اے ٹی ایس درحقیقت کئی سوالوں کی تفتیش کر رہی ہے۔ ایک سوال ہے کہ خاتون نیپال کیوں جا رہی تھی؟ اس نے وہاں جانے کے لیے یہ راستہ کیوں چنا؟ اس کے پاس بھارت اور نیپال کا ویزا بھی نہیں ہے۔ اس سے صاف ہے کہ وہ نیپال میں غیر قانونی طور پر دراندازی کی تیاری کر رہی تھی۔ اس سے پوچھ گچھ کے دوران یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ تقریباً 11 ماہ سے اتراکھنڈ کی جیل میں بند رہی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper