Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

…… احساس زیاں جاتا رہا

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 30th Dec.

اللہ نے آج تک جتنی بھی قومیں بنائی ہیں، ان تمام نے عروج و زوال کو دیکھا ہے۔ اسکی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ انھوں نے جیسا کچھ کیا ہے اسی طرح کے نتیجے ان کے سامنے آئے ہیں۔ چاہے وہ بنی اسرائیل ہو یا قوم عاد، ثمود و لوط۔ظاہر ہے ان تمام نے اپنے باطل نفس کی پیروی کی، جسکا نتیجہ انھیں بھگتنا پڑا۔ایسا بھی نہیں ہےکہ امت مسلمہ نے کبھی عروج کا زینہ نہ چڑھا ہو۔یہ امت ابتدائی دور سے ہی عروج پر تھی۔اس نے ایسی شخصیات کو جنم دیا ،جنھوں نے اپنے میدانِ میں نمایاں کارنامے انجام دئیے ۔انھوں نے جس میدان میں اپنا قدم رکھا وہاں ایسے کارنامے انجام دئیے، جنکی مثالیں تاریخ آج تک دینے سےقاصر ہے۔ فلکیات، کیمیاء، نفسیات، فلسفہ، سرجری گویا بہت سی مثالیں ہیں، جو مسلمانوں کے عروج کی داستان بیان کرتی ہیں۔مگر افسوس آج پوری دنیا کے مسلمان زوال آمادگی کے شکار ہیں۔ یہ زوال آمادگی بھی کوئی بے سبب نہیں ہے۔اسکی بھی وجہیں ہیں، جن پر بیشتر لوگوں کی توجہ نہیں ہے۔
انتہائی غور و فکر کرنے والی ایک اہم بات یہ ہے کہ آج امت مسلمہ نے اس نعمت کو فراموش کردیا ہے، جو کتابِ ہدایت کے طور پر نازل ہوئی تھی۔ وہ کتاب تمام انسانوں کے لئے ہدایت ہے۔ لیکن آج وہ کتاب طاقوں کی زینت بنی ہوئی ہے۔وہ محض مرحومین کے ایصال ثواب کے کے موقع پر پڑھنے اور پڑھوانے تک کے لئے مخصوص کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امت نے دین کی روح کو ذہنوں سے خارج کردیا ہےاور دوسری شکست خوردہ اقوام کی طرح اپنے دین اسلام کو اپنی سہولت کے مطابق اپنا لیا ہے۔آج یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ جو دین زندگی کے ہر شعبہ کے لئے مکمل نظام حیات بن کر آیا تھا وہ صرف مسجد کی چار دیواری میں مقید ہوکر رہ گیاہے۔
عام طور مسلمان اختلافی مسائل کو اصل مسئلہ پر زیادہ ترجیح دیتے ہوئے آپس میں افراط و تفریط کا شکار ہوکر’’ ولا تفرقو‘‘ کے حکم کو نظر انداز کر دیاہے۔اسی کا آج نتیجہ ہے کہ باطل قوموں نے ہم پر اس طرح حملہ کرنا شروع کر دیا ہے،جس طرح اللہ کے نبی محمدﷺ نے کہا تھا کہ ’’دنیا کی قومیں تم پر اس طرح ٹوٹ پڑےگی، جیسے بھوکے بھیڑئیے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں‘‘ اور آج حال یہ ہوگیا ہے کہ عالمی سطح پر مسلمانوں کی کوئی طاقتور اور نمائندہ آواز نہیں ہے ،جس کا نتیجہ ہے کہ تقریباََ پوری دنیا کے مسلمان پریشان ہیں۔باطل طاقتیں مسلمانوں کے ہاتھ جڑ سے اکھاڑ نے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مگر اس امت کے لوگوں کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ وہ ابھی یہ طے نہیں کر پائے ہیں کہ نماز میں ہاتھ کہاں باندھا جائے۔
ابتداء میں بھی یہ بات کہی جاچکی ہے کہ مسلمانوں نے جس میدان میں قدم رکھا، کامیابی ان کے قدم چومتی رہی۔انھوں نے ایسےایسے کارنامے انجام دئیے، جن کا بدلہ امت کئی صدیوں تک ادا نہیں کرسکتی، لیکن آج اس تیز رفتار دور میں مسلمان سرد مہری اور سست روی کے شکار ہیں۔ جس قوم کو شروع ہی ’’اقراء ‘‘ کی تعلیم دی گئی ہو، وہی قوم آج علم کے معاملے میں کوسوں دور ہے۔ایسے میں ترقی کی منزلیں تو دور ، حصول علم کے معاملے میں ہی سب سے نچلے پائیدان پر کھڑی ہے۔ اس کی وجہ سے دل و دماغ کند ہونے کے ساتھ ساتھ علم کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا راستہ بھی بند ہو گیا ہے۔ نتیجے کے طور پرہم سائنس کی ایجادات اور انکشافات اور نئی تحقیقات کے اعتبار سے پس ماندہ ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ نئی سائنسی اور صنعتی طاقت کو بھول گئے۔ ہم نے خلافت ارضی کے تقاضے پورے کیے اورنہ ایجادات و اختراعات کے ذریعہ اہل دنیا کے لیے راحت رسانی کا انتظام کیا، ہم نے نہ موٹر کی ایجاد کی نہ ٹرین نہ ہوائی جہاز نہ پانی کے جہاز نہ راکٹ نہ بجلی نہ بجلی کے آلات ۔ جب ایجادات کی دنیا میں ہمارا حصہ تھا اور ہم نے تمدنی سہولتیں اہل دنیا کو عطا کیں تو دنیا میں ہمارا دبدبہ تھا۔دوسری قومیں مسلمانوں سے ڈرتی تھیں، لیکن اب کایا پلٹ چکی ہے ۔سائنس اور صنعت میں دوسری قومیں ہم سے بہت آگے نکل چکی ہیں اور ایجادات وانکشافات میں ہمارا ان کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ علم الکیمیاء ‘علم حیاتیات‘ علم نباتات، علم طبیعیات، علم فلکیات ،میڈیکل سائنس اور اسلحہ سازی اور صنعت و حرفت اور ٹکنولوجی تو دور ہم سچ بولنے، دوسروں کی مدد کر نے، انسانی تقاضوں کو پورا کرنے سے بھی آج قاصر ہیں۔ عزم واستقلال‘ ضبط وتحمل ، کام کی لگن اورفرض شناسی، روادری، انصاف، ہمدردی، حصول علم اور ایثار و اخلاقی صفات ہیں سے بھی ہم محروم ہوتے چلے گئے۔ظاہر ہے کسی قوم میں اگر یہ صفات نہیں ہوں گی تووہ قوم کبھی زندہ نہیں رہ سکتی ہے۔مگر افسوس ہے کہ ہم احساس زیاں سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔
***********

 

 

About the author

Taasir Newspaper