Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

دنیا بھر سے

اخلاقی پولیس کا خاتمہ توٹھیک،لیکن ایران خواتین کے ساتھ بہترسلوک نہیں کررہا: امریکا

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 7 th Dec.

واشنگٹن،6دسمبر:امریکا کے محکمہ خارجہ نیایران کے اپنی نام نہاد اخلاقی پولیس کوختم کرنے کی خبروں کو مستردکردیا ہے اورکہا ہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے خواتین کے ساتھ سلوک کو بہتر بنانے کے کوئی آثار نہیں ملے ہیں۔اختتام ہفتہ پر میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ ایران نے اخلاقی پولیس کوختم کردیا ہے لیکن بعد میں ایران کے سرکاری میڈیا نے اس بات کی تردید کی ہیکہ مذہبی پولیس کو ختم کر دیا گیا ہے۔گشت ارشاد کے نام سے معروف اس پولیس فورس کو 2006 میں قائم کیا گیا تھا اور اس کو لازمی حجاب سمیت سخت ضابطہ لباس کی تعمیل کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے العربیہ کو بتایا کہ ہم نے رپورٹس دیکھی ہیں لیکن ایرانی حکام کے مبہم دعووں پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ایرانی حکومت کی جانب سے خواتین کے ساتھ سلوک کوبہتربنانے کے کوئی آثار نظرآئے ہیں؟ اس پر اس عہدہ دار نے کہا:’’افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے ایسا کچھ بھی نہیں دیکھا ہے جس سے یہ ظاہرہوتا ہوکہ ایران کی قیادت خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ اپنے سلوک کو بہتر بنا رہی ہے یا پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کو روک رہی ہے۔واضح رہے کہ ایران میں وسط ستمبر سے حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔یہ مظاہرے تہران میں 22 سالہ مہساامینی کی مبیّنہ طورپر حجاب کے لازمی قانون کی پاسداری نہ کرنے پر گرفتاری اور پھر پولیس کے زیرحراست موت کے ردعمل میں شروع ہوئے تھے۔ایرانی سکیورٹی فورسز کی کریک ڈاؤن کارروائیوں میں سیکڑوں مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں۔بائیڈن انتظامیہ نے انسانی حقوق اورمظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی وجہ سے ایرانی اداروں اور حکام کے خلاف پابندیاں عاید کی ہیں۔محکمہ خارجہ کے عہدہ دار نے کہا کہ ایران میں خواتین کوسخت ضابط? لباس ، تشدد اور ہراساں کیے جانے سے پاک ہونا چاہیے۔ایران کے عوام کو ریاستی حکام کے ہاتھوں دھمکیوں اور تشدد سے آزاد ہوکر پرامن طریقے سے اظہارخیال کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔

About the author

Taasir Newspaper