Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

انتخابی قانون میں تبدیلی زیر غور

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 6 th Dec.

سننے میں آیا ہے کہ گجرات اور ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں پر نیا قانون بنانے کی تیاری پوری کرلی ہے۔الیکشن کمیشن ایک ضابطۂ اخلاق بنائے گا، جس کے تحت تمام سیای جماعتوں کو یہ بتانا پڑے گا کہ انتخابی منشور میں کئے گئے وعدوں کو پوارا کرنے کے لئےفنڈ کا انتظام کیسے کیا جائے گا۔اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے 4 اکتوبر 2022 کو تقریباً 60 قومی اور علاقائی سیاسی جماعتوں سے تجاویز طلب کی تھیں۔ ابھی تک صرف 8 جماعتوں نے کمیشن کو اپنے جوابات بھیجے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے انتخابات سے قبل رائے دہندگان کو مرعوب کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں کےذریعہ جاری کئے جانے والے منشور کے رہنما اصولوں میں تبدیلیاں کرے گا جو ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کا حصہ ہیں۔ اس سے انتخابی وعدوں پر مالی شفافیت بڑھے گی اور رائے دہندگان کو اپنے لیڈر کے انتخاب کے سلسلے میں فیصلہ کرنے میں مدد ملے گی۔ ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ میں یہ ترامیم میگھالیہ، ناگالینڈ، تریپورہ اور کرناٹک میں 2023 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے ہو سکتی ہیں۔ اس کے بعد پارٹیوں کو انتخابی وعدوں کے اخراجات کے ذرائع کا اعلان کرنا ہوگا۔
قابل ذکرکہ ہماچل پردیش اور گجرات اسمبلی انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے یہ نشاندہی کی تھی کہ دنیا بھر میں لوگوں کو رجھانے والے رجحان کی وجہ سے جمہوریتوں کو شدید مائیکرو اکنامک بحران کا سامنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے اخراجات کے ذرائع کے بارے میں انکشاف کے لیے ایک معیاری فارمیٹ پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق سیاسی جماعتوںکو انتخابی منشور بنانے کا پورا حق ہے۔ لیکن اس میں مستند اور درست معلومات ہونی چاہئیں۔ کمیشن نے اس سلسلے کا ایک نیا فارمیٹ تیار کیا ہے، جسے ایم سی سی کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس میں رقم کی معقولیت اور اس کے ذرائع اور قرض لینے پر بجٹ مینجمنٹ ایکٹ کی حدود میں خرچ کی معقولیت جیسی چیزیں شامل کی گئی ہیں۔الیکشن کمیشن نے ’’ مفت کی ریوڑی‘‘ کی تعریف کرنے یا اسے انتخابی وعدے سے الگ کرنے کے معاملے میں ملوث ہونے سے گریز کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی وعدوں پر پارٹیوں سے شفافیت کی ضرورت کے علاوہ، تیار کئے گئے معیاری فارمیٹ میں بر سر ا قتدار سیاسی جماعت کو اپنی مالی حالت پر رپورٹ کارڈ پیش کرنے کی بھی ضرورت ہوگی۔
ابھی ہماچل پردیش اور گجرات کے ساتھ ساتھ دیگر کئی ریاستوں میں ضمنی انتخابات پروسس میں ہیں۔ ایسے میں کمیشن کے ذریعہ انتخابی وعدوں کی مالی شفافیت کی پہل سے کسی سیاسی جماعت کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ظاہر ہے بی جے پی سیاسی جماعتوں کے ذریعہ مفت کی سہولیات فراہم کرنے کے وعدوں کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہے۔ ایسے میں یہ مانا جا رہا ہے کہ نیا قانون بنانے کے معاملے میں قدرے توقف کرکے الیکشن کمیشن نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کا کام کیا ہے۔ ساتھ ہی جلدی بازی سے کام نہیں لئے جانے کی وجہ سےسیاسی جماعتوں کو بھی اپنی تجاویز دینے کے لیے کافی وقت مل گیا ہے۔ اتنا وقت ملنے کے بعد بھی 60 میں سے صرف 8 جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے سامنے اپنی تجاویز پیش کی ہیں۔
واضح ہو کہ الیکشن کمیشن نے 4 اکتوبر کو تمام تسلیم شدہ قومی اور علاقائی سیاسی جماعتوں کو ایک خط لکھا تھا۔ خط میں کہا گیا تھا کہ اگر سیاسی جماعتیں کوئی انتخابی وعدہ کرتی ہیں تو انہیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ اگر وہ اقتدار میں آئیں تو وہ اس وعدے کو کیسے پورا کریں گی، اس پر کتنا خرچ آئے گا؟ پیسہ کہاں سے آئے گا؟ اس کے لیے کیا وہ ٹیکس بڑھائیں گے یا نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ کریں گے، اسکیم کے لیے اضافی قرض لیں گے یا کوئی اور طریقہ اختیار کریں گے؟ انتخابی منشور میں ایک طے شدہ پروفارما ہوگا، جس میں نہ صرف پارٹیوں کے انتخابی وعدے دیے جائیں گے بلکہ ان کی تکمیل کیسے کی جائے گی، اس کی تفصیلات بھی دی جائیں گی۔سیاسی جماعتوں کو بتانا ہو گا کہ ریاست کی مالی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ وعدے کیسے پورے ہوں گے ؟ الکشن کمیشن کے اس خط کا جواب 19 اکتوبر تک ہی دینا تھا لیکن اب تک صرف8 سیاسی جماعتوں نے ہی اپنی تجویزالیکشن کمیشن کو فراہم کی ہے۔ ان 8 تجاویز میں سے محض دو ہی الیکشن کمیشن کے ارادے کے حق میں ہیں۔ کانگریس، سی پی ایم، سی پی آئی، ڈی ایم کے، اے اے پی اور اے آئی ایم آئی ایم اس کے خلاف ہیں۔ ان جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے انتخابی وعدوں کے بجٹ کا مطالبہ کرنے کے دائرہ کار پر بھی سوال اٹھایا ہے۔اب دیکھنا یہی ہے کہ اس پرالیکشن کمیشن حتمی طورپر کون سا فیصلہ لیتا ہے۔
**********************

About the author

Taasir Newspaper