Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ریاست

انجمن باغ و بہار ،بھاگل پور میں یاد کئے گئے نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ مرزا غالب

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 27th Dec.

27دسمبر2022 ء) بھاگل پور، پریس ریلیز) انجمن باغ و بہار ،برہ پورہ،بھاگل پور کے زیر اہتمام نجم الدلہ دبیرالملک نظام جنگ مرزا غالب کے یوم پیدائش پر جوثر ایاغ کی صدارت میں ڈاکٹرخالدہ ناز کی رہائش گاہ پر ایک ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا ۔اس موقع پر انجمن کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد پرویز نے کہا کہ مرزا غالب اْردو کے تنہا بلند پایہ اور خوش نصیب اد یب و شاعر ہیں جن کے بارے میں لکھنے کا سلسلہ ایک صدی سے زائد عرصے سے جاری ہے۔انکی شاعری اعلی فکری شاعری کا نمونہ ہے ،وہ آج بھی میرے آپ کے درمیان ہیں ،انکے مصرے ہمیں اْنہیں بھولنے نہیں دیتے اور انکی کلام کی سب سے بڑی خصوصیت انسان پرستی ہے۔اْردو مکتوب نگاری میں انہوں نے ایک نیا اسلوب دیا،خط کی زندگی کو حرارت بخشی،سادہ اور عام فہم زبان کا استعمال کیا وہ خط نہیں لکھتے تھے بلکہ بات چیت کرتے تھے۔آگے ڈاکٹر محمد پرویز نے انکے حیات و کارنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انکا اصل نام اسد اللہ خاں بیگ عرف مرزا نوشہ اور تخلص اسد اور بعد میں غالب۔27دسمبر1797ء آگرہ میں پیدا ہوئے اور وفات 1869ء دلی میں۔دادا کا نام قونان بیگ خاں،والد عبد اللہ بیگ خاں، والدہ کا نام عزت النساء،چچا کا نام نصراللہ بیگ خاں،بھائی کا نام مرزا یوسف،بہن خانم اور اہلیہ کا نام مرزا الہی بخش کی صاحبزادی امرائو بیگم ۔ انہوں نے آگرہ کے مشہور معلم خلیفہ محمد معظم سے تعلیم پائی۔انہوں نے 1812ء دہلی،1926لکھنوء،بنارس،پٹنہ،1828ء کلکتہ اور 1829ء واپس دہلی پھر رام پور کا سفر کیا۔نواب یوسف حسین کی دعوت پر رام پور گئے۔ انکو پینشن نواب احمد بخش خاں فیروز پور جھرکہ کے خزانے سے ملتی تھی۔رشید احمد صدیقی نے کہا کہ :”مغلیہ حکومت نے ہمیں تین چیزیں دیں تاج محل،اْردو اور مرزا غالب۔انکی تصانیف میں پنچ آہنگ،مہر نیم روز،ماہ نیم روز،دستبو،قاطع برہان،کلیات فارسی،سبد چین وغیرہ فارسی زبان میں ہے۔اْردو تصانیف میں عود ہندی ، اْردو معلی،مکاتیب غالب،قادر نامہ(مختصر رسالہ)نکات غالب،رقعات غالب،قصیدے (چار ہیں)،گہربار،باد مخالف،چراغ دیر، در صفت انبہ(مثنویاں)ہیں۔دیوان غاب کا پہلا ایڈیشن 1941ء میں شائع ہوا تھا۔انکے حیات میں ہی انکی نثری تصانیف اردو و فارسی دواوین کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے تھے اور آج بھی ہو رہے ہیں جو اْردو ادب کا بڑا ورثہ ہے۔انکو آم بہت پسند تھا جس کے لئے انہوں نے بتیس اشعار کی مثنوی بھی لکھی ہے۔اس موقع پر جوثر ایاغ نے کہا کہ مرزا غالب اردو شعر و ادب میں ہی نہیں بلکہ عالمی ادب میں انکی عشقیہ شاعری کو ایک بلند مرتبہ حاصل ہے۔شہزور اختر نے کہا کہ مرزا غالب ایک عظیم فنکار ہی نہیں بلکہ ایک رنگا رنگ،پہلودار شخصیت کے مالک بھی ہیں۔ ڈاکٹرخالدہ ناز نے کہا کہ مرزا غالب کو اپنی متصوفانہ شاعری پر بڑا ناز تھااور اس میں شک بھی نہیں کہ انہوں نے تصوف کے مضامین بہت دلکش پرائے میںادا کیا ہے ۔ محمد ارشد پرویزنے کہا کہ مرزا غالب کی شاعری فارسی سے شروع ہوئی اور اردو پر ختم ہوئی۔ ڈاکٹر سیدہ تفسیر فاطمہ نے کہا کہ مرزا غالب نے اپنے خطوط میں بے تکلفانہ زبان کا استعمال کیا اور انکے خط کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے سامنے بیٹھ کر بات کر رہے ہوں۔ ڈاکٹر نغمہ بیگم نے کہا کہ مرزا غالب ہمارے تہذیبی شعور کا حصہ بن گئے ہیں۔ محمد شاداب عالم نے کہا کہ مرزا غالب شاعر ہی نہیں تھے بلکہ اردو نثر کے بھی استاد تھے۔ڈاکٹر ارشد رضا نے کہا کہ مرزا غالب نے خطوط اور شاعری دونوں میں طنزو ظرافت سے خوب کام لیا۔ ڈاکٹر حبیب مرشد خاں نے کہا کہ مرزا غالب کی شاعری میں مضامین کا جو تنوع ہے کسی دوسرے کے یہاں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ڈاکٹر صدیق نے کہا کہ مرزا غالب پر صرف برصغیرہند و پاک میں ہی نہیںبلکہ دنیا کی دوسرے ملکوں میں بھی بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور لکھا جا رہا ہے محمدسہیم الدین نے کہا کہ مرزا غالب کے خطوط کا پہلا مجموعہ میرٹھ سے شائع ہوا۔ نشست میں شامل محمد بلال الدین،محمد تاج الدین،صبیحہ کوثر،نوشین جہاں نے غالب کے شاعری کے حوالے سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

About the author

Taasir Newspaper