Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا بات بنے !

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 10 th Dec.

یہ بات جگ ظاہر ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی مسلمانوں کو مین اسٹریم پولیٹکس سے دور رکھنا چاہتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ میونسپل کارپوریشن سے لیکر لوک سبھا انتخابات تک کسی مسلمان کو اپنا امیدوار نہیں بناتی ہے۔کسی انتخاب میںبی جے پی کے ذریعہ مسلمانوں کو امیدوار نہیں بنائے جانے کا سلسلہ2002 سے جاری ہے۔2022 کے گجرات اسمبلی انتخابات میں بھی بی جے پی نے اس تجربے کو کامیابی کے ساتھ دہرایا ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس بار مسلمانوں کی اچھی خاصی آبادی والے 11 اسمبلی حلقوں میں سے 9 پر بھگوا پرچم لہرا رہا ہے۔ یہی بات دہلی کے ایم سی ڈی انتخابات میں بھی دیکھی گئی۔ بی جے پی کے امیدواروں نے کئی مسلم اکثریتی علاقوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یوپی کے رام پوراسمبلی حلقہ میں تو تاریخ ہی رقم ہو گئی۔ یہاں پہلی بار کوئی غیر مسلم امیدوار کا میاب ہوا ہے اور وہ بھی 30 ہزار سے زائد مارجن سے۔فطری طور پر ان نتائج نے سیاسی مبصرین کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔
عام طور پر مسلمانوں کو بی جے پی کا ووٹر نہیں سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں یہ حیران کن ہے کہ بی جے پی نے مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی سیٹیں جیتی ہیں۔پھر یہ سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ بی جے پی نے انتخابی جیت کا ایسا کون سا فارمولہ ڈھونڈ لیا ہے کہ اس نے مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی اپنا پرچم لہرانا شروع کر دیا ہے۔کیا مسلمانوں نے سماجی سوجھ اور سیاسی بصیرت کھو دی ہے؟ کیا مسلمانوں کی اتحادی قوت زوال آمادہ ہو گئی ہے ؟ کیا مسلمان مفاد پرستی کے شکار ہو گئے ہیں ؟ کیا مسلمان سیاسی طور پر بیک وارڈ اور فاروارڈ کلاسزمیں منقسم ہو گئے ہیں؟ کیا جاہل مولیوں نےمسلکی خانوں میں بانٹ کر مسلمانوں کو سیاسی طور پر بھی کمزور کر دیا ہے؟ کیا حالات نے مسلمانوں کو بری طرح سے کنفیوزڈ کر دیا ہے ؟ یا بی جے پی اپنی حکمت عملی کی بدولت مسلمانوں کے درمیان اپنی ساکھ بنانے میں کامیاب ہو رہی ہے؟یہ وہ سوالات ہیں، جن پر غور کرنا تمام ذی شعور لوگوں کی ذمہ داری ہے۔
بات شروع کرتے ہیں گجرات سے۔ اس کے لیے دریا پور کی مثال لیتے ہیں۔ یہ مسلم اکثریتی اسمبلی سیٹ ہے۔ کانگریس 10 سال سے یہ سیٹ جیت رہی تھی۔ اس بار کانگریس نے اس سیٹ سے غیاث الدین شیخ کو میدان میں اتارا تھا۔ وہ بی جے پی کے کوشک جین سے ہار گئے۔ عام آدمی پارٹی نے بھی گجرات کے کم از کم 16 مسلم اکثریتی علاقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے۔ لیکن، کوئی بھی جیت درج نہیں کرسکی۔ایسا کیوں ہوا؟ اس سوال کا جواب ایک بچہ کو بھی معلوم ہے۔ایم پی اسد الدین اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم نے مسلم ووٹوں کوعام آدمی پارٹی کے ساتھ تقسیم کر دیا۔ یعنی جو ووٹ روایتی طور پر پہلے کانگریس کو جاتے تھے، وہ تین پارٹیوں میں تقسیم ہو گئے۔ اس طرح مسلم ووٹ کا کوئی مطلب نہیں رہا۔ اے آئی ایم آئی ایم نے اپنے امیدواروں کو زیادہ تر ان جگہوں پر کھڑا کیا جہاں مسلم آبادی کی کثافت زیادہ ہے۔ اس نے کچھ کیا یا نہ کیا، ووٹ ضرور کاٹے۔گجرات اسمبلی انتخابات نے اس بار یہ طے کردیا ہے کہ مسلم ووٹروں کی طاقت اب ختم ہو چکی ہے۔ مسلمانوں کے پاس متباد زیادہ ہو جانے کی وجہ سے طاقت کم ہو گئی ہے۔ مسلمان روایتی طور پرکسی ایک پارٹی کو ووٹ دیتے تھے۔ یہ بھی ایک حکمت عملی ہی تھی۔ مسلم ووٹرز جدھر کا رخ کرتے تھے، وہی پارٹی کامیاب ہوتی تھی۔ لیکن، اب ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔کہا جا سکتا ہے کہ دوسروں کو اتحاد و اتفاق کی دعوت دینے والےلوگ خود ذہنی انتشار کے شکار ہو گئے ہیں۔ مسلم ووٹرز کانگریس، عام آدمی پارٹی اور اے آئی ایم آئی ایم میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کر پا رہے ہیں۔ جب یہ تینوں بی جے پی کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں تو مسلمانوں کا ووٹ منقسم ہو جاتا ہے۔ اس سے مسلم ووٹرزکے ووٹوں کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔ اگر بی جے پی گجرات، یوپی، دہلی اور بہار کے مسلم اکثریتی علاقوں میں جیت جاتی ہے تو اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے، آسانی سے سمجھا جا سکتاہے۔
ایک رائے یہ بھی ہے کہ انتخاب کے وقت مسلم ووٹرز عموماََ الجھن کے شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ سنجیدگی کے ساتھ یہ طے ہی نہیں کر پاتے ہیں کہ کس پارٹی کو ووٹ دیناچاہئے۔ مسلم ووٹروں کی الجھن کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ کوئی بھی پارٹی ان کا اعتماد جیتنے میں کامیاب نہیں ہو پاتی ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کو چھوڑ کر، کانگریس، سماج وادی پارٹی اورعآپ سبھی’’ نرم ہندوتو‘‘ کے حامی نظر آتے ہیں۔اس صورت میں عام مسلمانوں کے لیے ایک اور دوسرے میں سے انتخاب کرنا بعض اوقات مشکل ہو جاتا ہے۔جبکہ بی جے پی کی طاقت’’سخت ہندتو ‘‘ پرٹکی ہے۔ ’’ہندتو‘‘ کے نام پر ملک کی اکثریتی آبادی کے ووٹ کو یکطرفہ کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔بہوجن سماج پارٹی کبھی ایک بڑی طاقت ہوا کرتی تھی۔ لیکن اب یہ کمزور ہو گئی ہے۔ پارٹی کا پورا ووٹ بی جے پی کی طرف شفٹ ہو چکا ہے۔ ساتھ ہی اس ووٹ بینک کے لیے بی جے پی نے پوری طاقت جھونک دی ہے۔ اس دوران بھگوا پارٹی نے اپنے دربار میں بڑے او بی سی طبقے کا بھی دل جیت لیا ہے۔اس سے مسلم ووٹ کی اہمیت تقریباََ ختم ہو گئی ہے۔ حالانکہ مسلم اکثریتی علاقوں میں اگر بھگوا جھنڈا لہرا رہا ہے تو اس کے ذمہ دار خود وہ مسلم ٹھیکیدار بھی ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں مسلمانوں کے درمیان سیاسی، سماجی اور مذہبی انتشار کی دیواربنے ہوئے ہیں۔اپنے سیاسی مستقبل کے تحفظ کے لئے سب سے پہلے ملک کے عام مسلمانوں کو ان ٹھیکیداروں کے نرغے سے آزاد ہونا پڑے گا۔بصورت دیگر بکھرے ہوئے تاروں سے مسلمانوں کا سیاسی مستقبل کبھی تابناک نہیں ہوسکتاہے۔
*******************************

About the author

Taasir Newspaper