Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ملک بھر سے

اپنے والد کو گردہ عطیہ کرکے بیٹی ہونے کاحق پورا کیا :اچاریہ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 30th Dec.

پٹنہ ،30دسمبر : حال ہی میں ان کی بیٹی روہنی آچاریہ نے بہار کے سابق وزیر اعلی لالو یادو کو اپنا ایک گردہ عطیہ کیا ہے۔میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ اپنے والد کو گردہ عطیہ کر کے انہوں نے بطور بیٹی اپنا فرض پورا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم بالکل ٹھیک محسوس کر رہے ہیں۔ آپ کی دعائیں کام کر رہی ہیں۔روہنی اچاریہ نے کہاہم نے پاپا (لالو یادو) کو ڈاکٹروں کو دکھانے کے لیے یہاں بلایا تھا۔ ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ گردے کی پیوند کاری ٹھیک ہو جائے گی۔ جب ڈاکٹر یہ بتا رہے تھے تو میں بھی وہاں موجود تھا۔ میرا پہلا ردعمل یہ تھا کہ میں اپنا گردہ عطیہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ میرے شوہر اور بہنوئی بھی ساتھ تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ہمارے ٹیسٹ ہوئے۔ میں گردے کے لیے سب سے پرفیکٹ میچ تھا، دوسری سوچ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ سب جانتے ہیں کہ میرے والد میرے لیے کتنے اہم ہیں۔ میرے بچے بھی نانا نانی کی اہمیت کو جانتے ہیں۔ سب نے میرا ساتھ دیا۔ میرے بچے جذباتی ہو گئے۔ وہ کہنے لگے ماما آپ موٹی ہیں نانا جی کو گردہ نہیں دے سکتیں۔ بچے کہنے لگے ہم گردہ دیں گے۔مجھے یہ پسند آیا کہ میرے والدین نے جو قدریں مجھے دیں، وہ میرے بچوں میں بھی آئیں۔ خاندان کا ہر فرد گردہ عطیہ کرنا چاہتا تھا۔روہنی اچاریہ نے بتایا کہ ’’میرا عمل شروع ہوچکا تھا، میں یہیں تھی۔ بہار کے لوگ ہمارا خاندان ہیں، ان کی طرف سے بھی پیغامات آرہے تھے کہ ہم گردہ دیں گے۔ میرا گردہ میچ ہو گیا۔ والدین ہمارے لیے خدا ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے گھر میں لڑکوں اور لڑکیوں میں کوئی امتیاز نہیں تھا۔ پاپا نے ہم سے اونچی آواز میں بات نہیں کی۔ بھائی ڈانٹتے تھے مگر ہمیں نہیں۔ ہمارے پاس یہ اقدار ہیں۔ میں کیوں نہیں یہ سوال تھا کہ میں کیوں نہیں دے سکتی۔ میں نے کہا جب میں پیچھے ہٹوں تو کوئی آئے۔ میرے بچے مجھ سے سیکھیں، میں یہی چاہتی تھی ۔روہنی آچاریہ نے کہا، ’’میں لڑکیوں سے کہوں گی کہ تعلیم کے زور پر سب کو غلط ثابت کریں۔ اس میں معاشرے کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا، خاندان کا کردار ہوتا ہے، ہم نے بچپن سے یہی دیکھا اور سیکھا ہے۔ قدامت پسند ذہنیت کی وجہ سے لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ لڑکیاں سب کچھ کر سکتی ہیں۔ میرے والدین نے بیٹیوں میں کبھی فرق نہیں کیا، یہاں سب برابر ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میری موت کے بعد میرے اعضاء عطیہ کردیئے جائیں۔ عطیہ کوئی بری چیز نہیں ہے۔ آپ لوگوں کو موت کے بعد بھی زندگی دے رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’انسانی سمگلنگ ہوتی ہے، معصوم بچے اور بیٹیاں ماری جاتی ہیں، اعضاء نکال کر بیچے جاتے ہیں۔ یہ سب بند ہونا چاہیے۔ عطیہ سے بڑی کوئی نیکی نہیں۔ آپ جتنا بھی پڑھ لیں، والدین کی خدمت نہیں کریں گے تو اچھے شہری کیسے بنیں گے۔

About the author

Taasir Newspaper