Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

دنیا بھر سے

اگلے موسم بہار کے دوران چینی صدر شی کے دورہ روس کا امکان

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 31st Dec.

ماسکو،31دسمبر:روس کے صدر ولادی میر پیوتن نے امید ظاہر کی ہے کہ چین کے صدر شی موسم بہار میں روس کے سرکاری دورے پر آئیں گے۔ 2023 کے موسم بہار میں صدر شی کا یہ دور یوکرین پر روسی حملے کا ایک سال مکمل ہونے کے بعد کی تاریخوں میں متوقع ہے۔اس متوقع دورے کو چین کی طرف سے روس کے ساتھ یوکرین حملے کے حوالے سے عوامی سطح پر ایک اظہار یکجہتی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔متوقع دورے کا ذکر دونوں ملکوں کے درمیان ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران سامنے آیا، جس میں صدر پیوتن نے کہا ‘پیارے چئیرمین! ہم آپ کی سرکاری دورے پر ماسکو آمد کی توقع اگلے موسم بہار کے ساتھ کرتے ہیں۔ یقیناً یہ دورہ دنیا کے لیے روس اور چین کی قربت کے اظہار کا باعث بنے گا۔آٹھ منٹوں پر محیط اس ویڈیو کانفرنس کی گفتگو میں صدر پیوتن نے کہا ‘روس اور چین کے یہ تعلقات اس اہمیت کو بڑھاتے ہیں جو عالمی استحکام کی ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تعاون کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ صدر شی کی طرف سے جواب جو کہ اس کانفرنس کی مجموعی دورانیے کے ایک چوتھائی حصے پر مبنی تھا کہا گیا ‘چین، روس کے ساتھ اسٹرٹجک تعلقات بڑھانے کو تیار ہے۔ خصوصاً یہ صورت حال جسے دنیا میں بڑے پیمانے پر مشکل صورت حال کہا جا رہا ہے۔’واضح رہے جب سے روس نے 24 فروری سے یوکرین پر حملہ کیا ہے روس اور چین کے درمیان تعلقات لا محدود ہو گئے ہیں۔ ایک طرف جہاں مغربی ممالک روس پر پابندیاں لگا رہے ہیں، دوسری جانب چین روس کی فوجی کارروائی کی مذمت بھی نہیں کر رہا ہے۔ چین صرف امن کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔چین کے لیے روس کی توانائی سے متعلق برآمدات نمایاں طور پر بڑھ گئی ہیں۔ روس اس وقت چین کے اکیلے سب سے بڑے تیل فراہم کرنے والے ملک کے طور پر موجود ہے۔ تاہم چین اس امر کی احتیاط بھی کرتا ہے کہ روس کو براہ راست کوئی ایسی چیز فراہم نہ کی جائے جو چین کے خلاف مغربی ممالک کی پابندیوں کا سبب بن جائے۔ماہ ستمبر میں ازبکستان میں ہونے والی سربراہی ملاقات کے دوران اپنے شراکت دار چین کی یوکرین حملے سے پیدا صورت حال پر تشویش کو تسلیم کیا تھا۔

About the author

Taasir Newspaper