Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

دنیا بھر سے

برطانیہ نے چھ چینی سفارت کاروں کو ملک سے نکال دیا

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 17 th Dec.

لندن ،17دسمبر:برطانیہ نے رواں ہفتہ چھ چینی سفارت کاروں کو ملک سے نکال دیا ہے۔ان چینی سفارت کاروں پر الزام ہے کہ انہوں نیاس سال اکتوبر میں مانچسٹر میں واقع چینی قونصل خانے کے باہر جمع مظاہرین پر تشدد کے واقعہ میں کردار ادا کیا تھا۔برطانوی پالیمان کے ارکان اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بدھ کے روز کی اس خبر کو خوش آئئد قرار دیا۔ اگرچہ بعض نے برطانوی حکومت کی جانب سے فوری ردعمل نہ ہونے پر تنقید بھی کی۔برطانوی وزیر خارجہ جیمز کلیورلی نے بدھ کے روز ایک اعلان میں بتایا تھا کہ، ’’چینی قونصل جنرل سمیت سفارت خانے کے چھ افسران کو اکتوبر میں پیش ا?نے والے شرمناک واقعے کے باعث یو کے سے نکالا جا رہا ہے۔‘‘جیمز کلیورلی نے مزیدکہا کہ برطانوی عہدہ داروںے درخواست دی تھی کہ چینی سفارت خانے کے ان افسران کا سفارتی استثنا ختم کیا جائے، تاکہ مانچسٹر کی پولیس ان سسے اکتوبر 16 کے روز پیش ا?نے والے پرتشدد واقعے کے باریمیں تفتیش کر سکے۔ جاری ہونے والی ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو میں جیمز کلیورلی یہ کہتے ہوئے سنے جاسکتے ہیں کہ، ’’ہم سب نے مانچسٹر میں واقع چینی سفارت خانے کے باہر ریکارڈ کی گئی ہوئی وہ ناخوشگوار ویڈیو فوٹیج دیکھی تھی۔ ہم نے چینی سفارت خانے کو اس بارے میں مطلع کیا تھا اور انہیں ایک ڈیڈ لائین دی تھی جس کا ا?خری دن ا?ج تھا۔ ہم نے ان سے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ ہمیں اس پر اقدامات نظر ا?نے چاہئیں۔‘‘بعد ازاں مظاہرین میں سے ایک شخص کو اہلکار ر زبردستی قونصل خانے کے انددھکیلتے ہوئے نظر ا?ئے جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس شخص کی شناخت باب چین بتائی جاتی ہے اور وہ ہانک کانگ سے برطانیہ منتقل ہوا تھا۔مانچسٹر کی پولیس نے اس واقعے کے بعد ایک بیان میں بتایا تھا کہ ’’ہمیں اس شخص کی سلامتی کے بارے میں خطرہ تھا، اس لیے پولیس اہلکار مداخلت کر کے اس شخص کو سفارت خانے کی حدود سے باہر لے آئے۔‘‘چین کے لندن میں واقع سفارتی مشن نے ردعمل میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نسے کہا کہ زینگ شی یوان نے ’’اپنی معیاد پوری کر لی تھی اور حال ہی میں جاری ہونے والے احکامات کی روشنی میں وہ چین واپس چلے گئے ہیں۔‘‘اس واقعے میںسامنے آنے والی کسی ویڈیو میں یہ نظر نہیں آتا کہ اس جھگڑے کے دوران چینی عملہ تشدد کا نشانہ بناتھا۔اسی دوران آسٹریلیا کے میڈیا نے رپورٹ کیا ہیکہ مانچسٹر میں واقع چینی قونصل خانے کے عملے کے ان اہلکاروں میں سے ایک ، 2020 میں فجی میں اپنی تعیناتی کے دوران تائیوان کے سفارتی عملے کے ساتھ جھگڑے میں بھی ملوث تھا۔چین نے فجی کیواقعے میں بھی کسی غلط کردار کے الزام کی تردید کی ہے۔چین نے حالیہ واقعے کو معمول کی کارروائی سے تعبیر کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ برطانوی میڈیا نے زینگ شی یوان کے ملک سے نکلنے کے واقعے کو پولیس کی تفتیش سے بچنے کے لیے ملک سے ’’فرار‘‘ سے تشبیہ دی ہے۔ہکنزرویٹو اور لیبر پارٹیوں کے کئی معروف برطانوی قانون سازوں سمیت انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ زینگ شی یوان کو ملک سے بہت پہلے ہی نکال دیا جانا چاہئے تھا۔

About the author

Taasir Newspaper