Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ملک بھر سے

بینک ملازم کروڑوں روپے لے کر فرار

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 28th Dec.

آگرہ،28دسمبر: اتر پردیش میں آگرہ کے سکندرا علاقے میں کیش کلیکشن کمپنی کا ملازم 1 کروڑ 37 لاکھ روپے لے کر فرار ہوگیا۔ نگر کے سپرنٹنڈنٹ پولیس وکاس کمار نے کہا کہ ملزمین کو پکڑنے کے لیے کئی پولیس ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نگرانی کی بھی مدد لی جا رہی ہے اور سی سی ٹی وی کیمروں کو بھی چیک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ برکس انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کا ملازم منگل کو 1.36 کروڑ روپے لے کر فرار ہو گیا۔ ملازم ہر روز نقد رقم جمع کرانے جاتا تھا لیکن منگل کو بینک نہیں پہنچا۔ شام تک کمپنی کے اہلکار کو بینک کا میسج نہ آنے پر منیجر نے ملازم کو فون کیا، فون بند تھا۔ اس کے بعد کمپنی منیجر نے رات کو رکاب گنج تھانے میں مقدمہ درج کرایا۔اس کے ساتھ ہی معاملے کی جانچ میں شامل پولیس نے بینک کے سی سی ٹی وی کیمرے بھی چیک کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کئی بڑی کمپنیوں کے کیش کلیکشن کا کام کمپنی کرتی ہے۔ رکاب گنج میں واقع بینک آف بڑودہ میں روزانہ کیش جمع کیا جاتا ہے۔ صدر سلطانپور کا رہائشی وویک کمپنی میں کام کرتا ہے۔ بینک میں نقد رقم جمع کرنا وویک کی ذمہ داری ہے۔کمپنی کے مینیجر شیشوپال یادو نے بتایا کہ منگل کی دوپہر 12 بجے وویک بینک کے لیے 1.37 کروڑ روپے لے کر دفتر سے نکلا۔ گاڑی میں وویک کے علاوہ 4 دیگر سیکورٹی اہلکار بھی تھے۔ سیکیورٹی اہلکار نقدی سے بھرے ڈبوں کو بینک کے اندر رکھ کر واپس چلے گئے۔ وویک ڈبوں کے ساتھ تھا۔پولیس نے جب بینک کے سی سی ٹی وی کیمروں کو چیک کیا تو ملازم ڈبے سے پیسے نکال کر اپنے بیگ میں رکھتے ہوئے نظر آتا ہے۔ وہ ساری رقم تھیلے میں بھر کر فرارہو گیا۔ اس سلسلے میں بینک منیجر نے رکاب گنج تھانے میں مقدمہ درج کرایا ہے۔ برکس انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ ٹورینٹ پاور، ووڈافون، ڈی ایچ ایل، بلیو ڈاٹ وغیرہ جیسی کمپنیوں کے کیش کلیکشن کا کام کمپنی کرتی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper