Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

دنیا بھر سے

جرمنی میں ایرانی شہریوں کی احتجاجی بھوک ہڑتال، ایرانی مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 17 th Dec.

برلن،17دسمبر:جرمنی میں ایرانی شہریوں کے ایک احتجاجی گروپ کی بھوک ہڑتال جمعہ کو مکمل ہو گئی ہے۔ ان بھوک ہڑتالیوں نے ایرانی کرد بائیس سالہ مہسا امینی کی زیر حراست ہلاکت کے بعد امینی اور ایران میں مارے جانے والے دیگر افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر کئی روز تک بھوک ہڑتال کی۔ بھوک ہڑتال کا یہ سلسلہ کم از کم پانچ دن اور زیادہ سے زیادہ چوبیس دن تک مختلف افراد نے جاری رکھا۔ایران سے تعلق رکھنے والے ان بھوک ہڑتال کرنے والے مظاہرین نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ بھوک ہڑتال کے دوران کچھ نہیں کھائیں گے صرف پانی پر گذارہ کریں گے۔ ان کی یہ ہڑتال ایرانی قونصل خانے کے باہر جاری رہی۔اس دوران ایرانی کمیونٹی کے لوگوں نے ان کی دیکھ بھال کی اور ان کی صحت کو گرنے سے بچانے کے لیے ڈاکٹروں کا بندوبست کیا۔ ایرانی مظاہرین میں شامل ایک خاتون نے کہا۔ ہم سب ایک بڑے خاندان کے افراد کی طرح ایک دوسرے کا خیال رکھ رہے ہیں۔’واضح رہے سولہ ستمبر سے ایران میں مہسا امینی کی پولیس کی حراست میں ہونے والی ہلاکت کے بعد مسلسل احتجاج کیا جارہا ہے۔ اس دوران سینکڑوں احتجاجی مارے جا چکے ہیں اور ہزاروں گرفتار ہو کر جیلوں میں جا چکے ہیں۔ تاہم یہ احتجاج کا سلسلہ رکنے نہیں پارہا ہے۔ایرانی رجیم کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک اور امریکہ ان مظاہرین کی مدد کر رہے ہیں اور ایران میں فساد پیدا کر کے اسے عدم استحکام سے دوچار کیا جارہا ہے۔ جبکہ ایرانی مظاہرین نے آہستہ آہستہ اپنے ان مظاہروں کو اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد قرار دے دیا ہے۔دوسری جانب مغربی ممالک اور امریکہ نے ایرانی حکومت، اس کے کئی وزرا، اعلیٰ فوجی و سول حکام پر پابندیاں لگا دی ہیں اور ایرانی مظاہرین کے ساتھ اظہار یگانگت کیا ہے۔ جرمنی میں موجود ایرانی شہریوں نے بھی مسلسل اس احتجاج میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں ایرانی مظاہرین نے اپنے احتجاج کا مقام ایرانی قونصل خانے کے سامنے بنایا ہے۔ اس مقصد کے لیے قونصل خانے کے باہر ایرانی مظاہرین نے خیمے اور کیمپ لگا رکھے ہیں۔ان مظاہرین میں سے آٹھ نے چند روز قبل بھوک ہڑتال کا فیصلہ کیا تھا۔ جو بخوبی جاری رہی اور جمعہ کے روز مکمل ہو گئی۔ بھوک ہڑتال کرنے والوں نے اس دوران صرف پانی پی کر گذارا کیا۔13 دنوں پر پھیلی بھوک ہڑتال مکمل کرنے والے ایک ایرانی حسین زندی نے کہا ‘مجھے یہ تحریک ایران میں قتل کیے گئے نوجوانوں سے ملی۔ جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ یہ سب لوگ پرامن طریقے سے اپنی جنگ لڑ رہے تھے۔’53 سالہ احسان عباسی اس گروپ نے نسبتا بڑی عمر کے لوگوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے بھوک ہڑتال کی۔ انہوں نے مزید کہا ‘میرا ہدف یہ ہے کہ ایران کو فرینکفرٹ میں اپنا قونصل خانہ بند کرنے پر مجبور کر دوں۔’انہوں نے چوبیس روز قبل سے بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ اب ان کا کہنا تھا ‘میرا جسم کافی ٹھنڈا ہو گیا ہے۔ وہ یہ کہتے ہوئے خود کو ہیٹر کے نزدیک لے جارہے تھے، جمعہ کے روز احسان عباسی نے بھی بھوک ہڑتال مکمل کی ہے۔ان بھوک ہڑتالیوں کا خٰیال رکھنے والے گروپ میں شامل فاریبا نے کہا ‘ہم سب نے ایک بڑے خاندان کی طرح ایک دوسرے کا خیال رکھا ہے۔ واجح رہے اسی گروپ نے بھوک ہڑتال کرنے والون کو ڈاکٹر فراہم کیے جو روزانہ ان کا طبی معائنہ کرتے رہے۔ایک 55 سالہ ایرانی شہری نے کہا ‘ہم نے پچھلے تین ماہ کے دوران ایران میں دیکھا ہے یہ پچھلے چالیس برسوں میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پوری ایرانی قوم متحدہ ہو گئی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper