Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

جیت کا جشن بی جے پی کا حق ہے

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 9 th Dec.

گجرات اسمبلی کی 182 میں سے 156 سیٹوں کی جیت کا چرچا ہر طرف ہے۔ اس دھماکے دار جیت کا جشن اگر بی جے پی منا رہی ہے تو یہ اس کا حق بھی ہے۔بی جے پی پچھلے 27 برسوں سے گجرات پر حکومت کر رہی ہے۔اب اس کی حکومت کی عمر میں مزید 5 برسوں کا اضافہ ہو گیا ہے۔بی جے پی کے لئے گجرات وقار کا مسئلہ بھی تھا۔ اپنے اس گڑھ کو بچانے کے لئے پارٹی نے بڑی محنت کی تھی۔شاید ہی کوئی گھر ہوگا ، جہاں بی جے پی کے کارکنان نہیں پہنچے ہوں اور گھر والوں کو ’’راشٹر واد‘‘،’’ ہندتو‘‘ اور ’’ عالیشان رام مندر کی تعمیر‘‘ اور ’’جموں کشمیر سے دفعہ 370 کے خاتمے کا ذکر نہیں کیا ہو۔گجرات کی انتخابی لڑائی کو بی جے پی نے شروع سے ہی ’’ہندتو بنام غیر ہندتو‘‘ کے ایجنڈے پر لڑنے کی حکمت عملی مرتب کی تھی۔یوپی کی طرز پر کسی بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں یا۔ان دس اسمبلی حلقوں سے تعلق رکھنے والے لیڈروں کو بھی نہیں ،جہاں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ بے روزگاری، مہنگائی اور معاشی بدحالی جیسے تمام کامن ایشوز بہت پیچھے چھوٹ گیے۔ الغرض گجرات کے عوام نےوزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو اپنا ہیرو تسلیم کرتے ہوئے ایسی پولنگ کردی کہ پچھلے تمام رکارڈ ٹوٹ گئے۔یہی وجہ ہے کہ اس تاریخی کامیابی کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی اور ملک کے دوسرے بڑے لیڈر گجرات کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نہیں تھک رہے ہیں۔
گجرات میں ووٹنگ سے بہت پہلے کچھ لوگ قیاس آرائی کر رہے تھے کہ اس بار بی جے پی کو انٹی انکمبنسی متاثر کر سکتی ہے۔اس کا فائدہ براہ راست کانگریس کومل جائے گا۔لیکن انتخابی مہم کے دوران ’’ عام آدمی پارٹی ‘‘ اور مجلس’’ اتحاد الملسلمین ‘‘ کی موجودگی یہ اشارہ دینے لگی تھی کہ ان کی وجہ سے کانگریس کو نقصان ہو سکتا ہے۔مگرجب وقت آیا تو یہ واضح ہو گیا کہ ان غیر پی جے پی پارٹیوں کی باہمی رسہ کشی نے صرف کانگریس کو ہی نقصان نہیں پہنچایابلکہ ووٹوں کے بڑے نقصان میں وہ خود بھی برابر کے حصہ دار ہو گئے۔نتیجہ جو ہوا وہ سب کو معلوم ہے۔ 2017 کے مقابلے میں بی جے پی کو 57 سیٹوں کو فائدہ ہوااور وہ 99 سے سیدھے 156 پر پہنچ گئی جبکہ کانگریس 77 سیٹوں سے سیدھے 17 پر آ گئی۔سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ بی جے پی کے فائدے اور کانگریس کے نقصان کے پیچھے بالواسطہ طور پر ’’ عام آدمی پارٹی ‘‘ کا کم اور مجلس’’ اتحاد الملسلمین ‘‘ کا زیادہ ہاتھ ہے۔
وجہ چاہے جو بھی ہو لیکن اس بار گجرات میں کانگریس کی حالت جتنی خراب ہوئی ہے، اس سے پہلے کسی انتخاب میں اتنی بری کارکردگی کبھی نہیں دیکھنے کو ملی تھی۔ یہ بات پوارا بھارت جانتا ہے کہ گجرات میں اسمبلی کی 10 ایسی سیٹیں ہیں، جہاں مسلمانوں کی تعداد نسبتاََ زیادہ ہے۔ اسی طرح گجرات میں تقریباً 10 فیصد مسلم ووٹ ہیں۔جن کا اثر 30 اسمبلی سیٹوں پر پڑتا ہے۔ ان میں کچھ سیٹیں ایسی بھی ہیں جہاں مسلم ووٹروں کی تعداد 40 فیصد سے زیادہ ہے۔ ان 10 سیٹوں میں جمال پور کھڈیا، دانیلمڈا، دریا پور، واگرا، بھروچ، ویجل پور، بھوج، جمبوسر، باپو نگر اور لمبیات سیٹیں شامل ہیں۔مگراس بار کے نتائج کے تجزیہ سے جو باتیں ابھر کر سامنے آتی ہیں، ان میں ایک یہ بھی ہے کہ بیشتر حلقوں میں کئی کئی مسلم امیدوار میدان میں تھے۔ ان میں بیشتر آزاد امیدوارہی تھے۔ لمبایت اسمبلی سیٹ پر 44 امیدوار قسمت آزما رہے تھے جن میں 36 مسلم تھے۔ یہاں سے بی جے پی کی سنگیتا بین راجندر پائل 52 فیصد ووٹ لیکر آسانی سے جیت گئیں۔سیاسی شعور کی کمی کی وجہ سے اس بار صرف ایک مسلم امیدوار اسمبلی میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا ہے ۔ وہ ہے کانگریس کا عمران کھیڈا والا۔ 2017 میں دو مسلمان وانکا نیر سے ایم اے پیر زادہ اور دریا پور سے غیاث الدین شیخ اسمبلی میں پہونچے تھے۔ اس بار دونوں ہار گئے۔ مسلمانوں کی بھاری آبادی والی سیٹ گودھرا ہے، جہاں سے بی جے پی امیدوار چندرا سنہ راول جی کامیاب ہوئے ہیں۔انہوں نے ہی بلقیس بانوں کے مجرموں کو سنسکاری برہمن بتا یا تھا۔ وہ اس حلقے سے چھ بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔یہ بات بھی سب کو معلوم ہے کہ بی جے پی اپنی سیاسی حکمت عملی کے تحت گجرا ت کے کثیر آباد مسلم حلقوں سے بھی ایک عرصے سے کسی بھی مسلم کو اپنا امیدوار بنانے سے گریز کرتی چلی آ رہی ہے۔ گجرات انتخابات کی تاریخ میں پہلی بار بی جے پی نے 1998 میں ایک بار مسلم امیدوار کھڑا کیا تھا، جن کا نام عبدالقاضی قریشی تھا۔حالانکہ وہ انتخاب نہیں جیت سکے تھے۔ انہیں کانگریس امیدوار اقبال ابراہیم نے ہرا دیا تھا۔ اس بار مجلس اتحاد المسلمين نے مسلمانوں کے اثر والی 19 میں سے 13 سیٹوں پر امیدوار اتارے تھے، لیکن کہیں بھی انکا اثر نظر نہیں آیا۔تقریباََ ہر جگہ ان کی ضمانت ضبط ہوئی۔یعنی ان کی پوزیشن ووٹ کٹوا کی بھی نہیں رہ گئی تھی۔ ہاں، کچھ لوگوں کا الزام ہے کہ انتخابی مہم کے دوران انھوں نے اپنی تقریر کے ذریعہ شاید لا شعوری طور پر ووٹوں کو یکطرفہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ایسے میں یہ کیوں نہیں کہا جائے کہ جیت کا جشن بی جے پی کا حق ہے۔
********************

 

About the author

Taasir Newspaper