Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ریاست

خدا بخش لائبریری میں ہندی تنقید پرلکچر اور کتابوں کی نمائش

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 15 th Dec.

پٹنہ: ۱۵؍دسمبر۲۰۲۲ء : ہندی زبان قدیم زمانے سے ہی ہندستان کے عوامی رابطے کی زبان رہی اور یہ پورے ہندستان کے ثقافتی تنوع اور قومی ایکتا کی کڑی بھی رہی ہے۔ تحریک آزادی کے دوران ہندی نے تمام ہندستانی زبانوں کے درمیان پُل کا کام کیا تھا۔خدا بخش لائبریری میں اردو کے ساتھ ساتھ ہندی کے نئی نسل کے طلبا و طالبات کو خصوصی طور پر جوڑنے کے لئے مسلسل پروگرام منعقد کئے جاتے رہے ہیں ۔ اس سے پہلے ہندی ناول، ہندی خودنوشت، ہندی سفرنامے، ہندی شاعری پر کتابوں کی نمائش اور لکچر کا اہتمام کیا جاچکا ہے۔آج ہندی تنقید پر کتابوں کی نمائش اور لکچر کا انعقاد کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر شائستہ بیدار، ڈائرکٹر خدا بخش لائبریری نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ ہندی ہمارے دل کے بہت قریب تر ہے۔ اس کو مقبول عام بنانے کی کوشش ہونی چاہئے۔ اس کی صورت یہی ہے کہ جب ہم آسان ہندی میں ادب کی تخلیق کرنے لگیں گے توخود بخود ہندی مقبول عام ہو جائے گی۔ ہندی ایک عالمی زبان ہے اس کی وسعت اور پھیلاؤ کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ موجودہ دور میں انگریزی اور چینی زبان کے بعد یہ دنیا کی تیسری زبان ہے جو سب سے زیادہ بولی جاتی ہے۔ہندی اردو کو آسان بنانے میں میڈیا کا بڑا رول ہے، ہم اس کے لئے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا صرف دل اس کا مذہب ہے۔ بات دل سے نکلے اور دل تک پہنچے، وہی زبان دل کی زبان ہوتی ہے اور ہندی اردو ایسی ہی زبانیں ہیں جو بولو تو اردو، وہی ہندی لیکن بس لکھاوٹ الگ، ایک کو دیوناگری، دوسری کو اردو کہتے ہیں۔انھوں نے فرمایا کہ خدا بخش لائبریری کے بنیادی مقاصد میں ایک اہم مقصد ہندی داں طبقہ کو اردو سے اور اردو داں حضرات کو ہندی سے قریب کرنا بھی ہے۔ اس تعلق سے لائبریری نے بڑے اہم کام کئے۔لائبریری نے گزشتہ سالوں میں جو ہندی کتابیں شائع کی ہیں ان میں اہم ترین ’’ہندی کی سب سے پرانی ڈکشنری‘‘ (1674)، شاد عظیم آبادی کی ’’نقش پائیدار‘‘ کے نام سے بہار کی تاریخ، ’’خدا بخش اور علیگڑھ یونیورسٹی میں ہندو مخطوطات‘‘ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دلدار کے دوہے، منموہن کی باتیں،مدن موہن مالویہ از مولانا مودودی، اقبال ہندوستان اور پاکستان،مہاتما گاندھی کا سندیش،مولانا ابوالکلام آزاد کی یاد میں، تحریک آزادی میں بہار کے مسلمانوں کا حصہ، ہندی محاوروں کا درلبھ کوش، ہندوؤں کے تیوہار، ہندو دھرم بہار میں، عقائد ہندواں،گیتا اور قرآن وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اسی ضمن میں دنکر کی مشہور زمانہ کتاب سنسکرتی کے چار ادھیائے کا اردو ترجمہ کرایا گیا ہے جو جلد ہی شائع ہونے والا ہے۔ ہندی تنقید کے موضوع پر منعقد پروگرام کے مہمان خصوصی معروف فکشن نگار اور ناقدڈاکٹرشاہد جمیل نے بڑی تفصیل سے حوالوں کے ساتھ ہندی تنقید پر گفتگو کی۔ موصوف نے تحریر، تخلیق اور لا زوال فن پارہ کے امتیاز کو بتاتے ہوئے تنقیدی عمل اور رویہ پر روشنی ڈالی۔ موصوف نے نوجوان کو ترغیب دی کہ وہ خدا بخش لائبریری میں موجود ہندی کی بے حد قیمتی کتابوں کا ضرور مطالعہ کریں اور مستفید ہوں۔ اپنی تقریر میں ڈاکٹر ناگیندر کی مرتبہ کتاب بھارتیہ کاویہ میں سرو دھرم سم بھاؤ، ڈاکٹر نیلم ورما کی کتاب مسلم کتھاکاروں کا ہندی یوگ دان کی خوب تعریف کی۔ ناقد کے اندر دیانت داری لازمی ہے، وہ کسی بھی تخلیق کے عیب و ہنر کو پیش کرکے قاری کے لئے مطالعہ کا راستہ ہموار کر دیتا ہے۔ اس کا کام ایک بہترین مالی سا ہوتا ہے جو پودے کو تراش خراش کر گلشن کو خوشنما بنا دیتا ہے۔اس موقع پرجناب ہردے نرائن، جناب اکبر رضا جمشید اور ڈاکٹر شتروگھن نے بھی اپنے گراں قدر خیالات پیش کئے اورطلبا و طالبات نے پورے انہماک کے ساتھ اس لکچر کو سنا اور اس سے فائدہ اٹھایا۔

About the author

Taasir Newspaper