Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

دنیا بھر سے

دنیا کو کسی فوجی اتحاد نہیں باہمی تعاون کی ضرورت: سیکرٹری جنرل شنگھائی تعاون تنظیم

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 13 th Dec.

شنگھائی ،13دسمبر:شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل ڑانگ منگ نے کہا ہے کہ کچھ عرب ممالک جیسے سعودی عرب، کویت، امارات، بحرین، مصر اور قطر ڈائیلاگ پارٹنر کے طور پر شنگھائی تعاون تنظیم کے خاندان کے رکن بن چکے ہیں اور دیگر بعض نے تنظیم میں بطور رکن الحاق کا عمل شروع کرنے کی منظوری حاصل کرلی ہے۔شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو خصوصی انٹرویو دیا اور انکشاف کیا کہ بعض عرب ملکوں کی جانب سے شنگھائی تنظیم میں مکمل رکنیت حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ڑانگ منگ نے کہا کہ شنگھائی کوآرڈینیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) کھلے پن کے اصول پر قائم ہے یعنی اس تنظیم کے دروازے خطے کے تمام ملکوں کیلئے اس وقت تک کھلے ہیں جب تک یہ ممالک اقوام متحدہ کے چارٹر اور شنگھائی تعاون تنظیم کے چارٹر کے اصولوں کا خیرمقدم کرتے یا اسے تسلیم کرتے ہیں۔ترکیہ جو نیٹو کارکن بھی ہے کی جانب سے شنگھائی تنظیم میں شمولیت کی درخواست پر اپنی رائے دیتے ہوئے ایس سی او کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ترکیہ بھی شنگھائی خاندان کا ایک ڈائیلاگ پارٹنر کے طور پر رکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا تاہم کوئی بھی رکن جو شنگھائی تنظیم میں مکمل رکن کے طور پر شامل ہونا چاہتا ہے اسے پہلے الحاق کی درخواست جمع کرانی ہوگی۔ ہم نے تاحال ترکیہ کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل ہونے کی درخواست موصول نہیں کی ہے۔کیا ایس سی او نیٹو کے ایک رکن ملک ترکیہ کی درخواست وصول کرلے گا؟ جواب میں ڑانگ منگ نے کہا کہ تنظیم تمام اراکین کی منظوری کے اصول پر کاربند ہے۔ اس لیے شنگھائی تنظیم میں شامل ہونے کی کسی بھی درخواست پر تنظیم کے اراکین کی طرف سے بحث کرکے طے کرنا چاہیے کہ یہ درخواست تنظیم کے اصولوں کے موافق ہے یا نہیں۔شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان کے کسی بھی سربراہی اجلاس کے آغاز سے پہلے میڈیا میں جو کچھ گردش کر رہا ہے، خاص طور پر سمرقند میں آخری سربراہی اجلاس کے وقت جو باتیں سامنے آئیں اور شنگھائی گروپ کے فریم ورک کے اندر نیٹو کے خلاف ایک نئے فوجی اتحاد کے طور پر ملٹری بلاک کے قیام کی بات کی گئی۔ اس تناظر میں بات کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل ایس سی او نے کہا تنظیم کے چارٹر پر واپس آنا ممکن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم چارٹر میں اعلان کرتے ہیں کہ شنگھائی تعاون تنظیم کوئی سیاسی یا فوجی اتحاد نہیں ہے اور تنظیم کے ارکان اس اصول پر کاربند ہیں اور آج دنیا کو کسی فوجی اتحاد نہیں تعاون کی ضرورت ہے۔ایس سی او کے رکن ممالک کو درپیش اہم ترین خطرات کے بارے میں بات کرتے ہوسے ڑانگ منگ نے کہا کہ ایس سی او کے رکن ممالک کو دہشت گردی، اقتصادی اتار چڑھاؤ اور عدم استحکام جیسے بڑے خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ تنظیم کے ارکان عالمی خاندان کے رکن ہیں اور وہ عالمی خاندان کے رکن ممالک کو درپیش تمام چیلنجز یا خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔یاد رہے کہ علیحدگی پسند تحریک اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے اور 1996 میں بیجنگ کی پہل پر “شنگھائی فائیو” تنظیم قائم کی گئی تھی۔ اس گروپ میں اس وقت چین، روس، تاجکستان، کرغیزستان اور قازقستان شامل تھے۔ ان ملکوں میں اعتماد اور سلامتی کو بڑھانے کی کوشش کی گئی تھی۔ 2001 میں ازبکستان کے اس تنظیم سے الحاق کے بعد تنظیم کی حیثیت اور نام بدل گیا اور چھ ممالک کے رہنماؤں نے “شنگھائی تعاون تنظیم” کے قیام کا اعلان کیا۔تنظیم کی توسیع 2017 میں ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ ساتھ ایران کے الحاق کے بعد ہوئی۔ ایران 2021 میں مکمل رکن بن گیا۔عرب ممالک کی اس تنظیم میں شمولیت کے لیے اقدامات کے آغاز کے ساتھ شنگھائی تنظیم ایک ایشیائی یورپی بلاک سے ایک عالمی بلاک میں تبدیل ہو جائے گی۔ اس تنظیم کا مقصد رکن ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مشترکہ تعاون کو بڑھانا ہے۔تنظیم کے اجلاسوں نے حال ہی میں بین الاقوامی اور علاقائی توجہ حاصل کی ہے کیونکہ ان اجلاسوں میں بہت سے سیاسی، اقتصادی اور سیکورٹی مسائل پر بحث کی گئی۔تنظیم ایک ایسے اجتماعی کشش کے عمل کی تلاش ہے جو رکن ممالک کی سلامتی، حفاظت اور استحکام کی ضمانت دیتا ہو۔ تنظیم اپنے مقاصد کو نہ تو نیٹو جیسے عسکری اور نہ ہی یورپی یونین جیسے سیاسی مقاصد جیسا قرار دیتی ہے۔ تنظیم اپنے ارکان کو درپیش کسی بھی سکیورٹی چیلنج کا سامنا کرنا چاہتی اور تجارتی تعلقات کو گہرا کرنے، ان کے درمیان تعاون کو بہتر بنانے، علاقائی استحکام اور سماجی ترقی کے ذریعے اپنی معیشت کو مضبوط بنانا چاہتی ہے۔بہت سے ماہرین کے مطابق اس تنظیم کو مغربی اثر و رسوخ اور نیٹو جیسے اتحادیوں کے سامنے ایک مشترکہ چینی روسی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper