دہلی ایم سی ڈی الیکشن میں مسلم اکثریتی علاقوں میں دیکھا گیا جوش و خروش

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 6 th Dec.

نئی دہلی،5دسمبر:دہلی ایم سی ڈی انتخابات کے لیے ووٹنگ کو لے کر دہلی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں کافی جوش و خروش تھا۔ اگرچہ صبح کے وقت سردی کی وجہ سے شروع میں ووٹنگ کی رفتار قدرے سست تھی لیکن جیسے جیسے دن چڑھتا گیا، ووٹروں کی پولنگ پوتھوںکی طرف آمد و رفت میں اضافہ ہوتا گیا۔ خاص بات یہ بھی تھی کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں تقریباً تمام پولنگ بوتھوںپر خواتین ووٹر بڑی تعداد میں نظر آئیں۔ کئی بوتھوں پر مردوں سے زیادہ خواتین قطار میں کھڑی نظر آئیں۔شمال مشرقی دہلی کے علاقوں کے زیادہ تر بوتھوں پر ووٹر دوپہر کے بعد ہی ووٹ ڈالنے پہنچے۔ صبح کے وقت ووٹنگ کی سست رفتار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جعفرآباد کے زینت محل میں واقع ایک اسکول کے بوتھ پر صبح 9 بجے تک 1060 میں سے صرف 12 لوگوں نے ووٹ ڈالے۔ دریں اثناء ایک اور بوتھ پر 1208 ووٹرز میں سے صرف 18 ووٹر صبح اپنا ووٹ ڈالنے آئے تھے۔ تاہم دوپہر 12 بجے کے بعد ان تمام پولنگ مراکز پر ووٹنگ کی رفتار اچانک بڑھ گئی۔ سیلم پور کے ساتھ ساتھ کھجوری خاص کے بوتھ جہاں مسلم ووٹروں کی تعداد زیادہ ہے، دوپہر دو بجے تک 35-40 فیصد ووٹنگ ہو چکی ہے۔دوسری طرف پرانی دہلی میں ووٹنگ کی پرانی روایت اس بار نظر نہیں آئی۔ مسلم اکثریتی علاقوں میں صبح سے ہی بوتھوںپر ووٹروں کی لمبی قطار لگی ہوئی تھی، لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا۔ چاندنی محل، مٹیا محل، جامع مسجد، بلی ماران، چاندنی چوک اور دریا گنج کے کئی بوتھوں پر صبح دو سے تین گھنٹے تک ویران نظر آئے اور صرف چند لوگ ہی ووٹ ڈالنے کے لئے نکلے۔ دوپہر 12 بجے کے بعد ہی ووٹنگ کی رفتار تیز ہوئی اور خواتین کی بڑی تعداد ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکلی۔ تاہم گزشتہ انتخابات کے مقابلے اس بار یہاں ووٹروں کی تعداد بھی کم دیکھی گئی۔جنوبی دہلی کے شاہین باغ، اوکھلا، جامعہ نگر، تیمور نگر، ابوالفضل انکلیو میں ووٹنگ کے لیے کافی جوش و خروش دیکھا گیا۔ صبح 10 بجے سے ہی لوگ پولنگ ایجنٹس کی میزوں پر جمع ہونا شروع ہو گئے۔ تنگ گلیوں میں کئی پولنگ بوتھوںکے باہر کافی سرگرمیاں رہیں۔ خواتین اور بزرگوں کی بڑی تعداد اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ ووٹ ڈالنے کے لیے پہنچی۔ مقابلہ کرنے والے امیدواروں نے پولنگ کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے یہاں مختلف پولنگ مراکز کا دورہ بھی کیا۔ ووٹروں کو ان کے گھروں سے پولنگ بوتھ تک لے جانے کے لیے کئی ای رکشے بھی لگے ہوئے تھے۔ یہاں کے بیشتر پولنگ بوتھوں میں دوپہر 2 بجے تک 30 فیصد سے زیادہ ووٹنگ ہو چکی تھی۔