Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

راجستھان : ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ کے لئے چیلنج

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 4 th Dec.

آج 4دسمبر ہے۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق راہل گاندھی کی ’’بھارت جوڑو یاترا ‘‘آج مدھیہ پردیش سے نکل کر راجستھان کی سرحد میں داخل ہو جائے گی۔ سب سے پہلے یہ یاترا ایم پی کی سرحد سے متصل راجستھان کے جھالاوار ضلع کے چونلی گاؤں میں داخل ہوگی۔ مانا جا رہا ہےکہ ’’بھارت جوڑو یاترا ‘‘ کا استقبال کرنے کے لئےراجستھان پوری طرح تیار ہے۔ سی ایم اشوک گہلوت اور ان کے سیاسی حریف سچن پائلٹ فی الحال پرسکون ہوگئے ہیں۔لہٰذا،ان کے گروپ کے لیڈروں نے بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ دوسری طرف راہل گاندھی کی اس یاترا کو روکنے اور مخالفت کرنے کی دھمکی دینے والے ’’گجر آرکشن سنگھرش سمیتی‘‘ کے صدر وجے بنسلا نے بھی یاترا کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے راجستھان میں راہل گاندھی کی یاترا کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔
’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ راجستھان میں 15 دنوں تک جاری رہے گی۔ان 15 دنوں میں یہ راجستھان سے کوٹہ، بنڈی، ٹونک، سوائی مادھوپور، دوسہ اور الور یعنی سات اضلاع کی 18 اسمبلی سیٹوں کا احاطہ کرے گی۔ اس میں جھالاواڑ کی جھلراپٹن، کوٹہ کی رام گنج منڈی، لاڈپورہ، کوٹا شمالی اور جنوبی اسمبلی سیٹیں شامل ہیں۔ اس کے بعد یہ یاترا بنڈی ضلع کی کیشاورائی پٹن اسمبلی سیٹ کے راستے ترک ضلع میں داخل ہوگی۔ اس دوران یہ یاترا دیولی اور اونیارہ اسمبلی حلقوں سے گزرے گی۔ اسی طرح بھارت جوڑو یاترا سوائی مادھوپور اسمبلی حلقہ سے بامن واس اور لالسوٹ پہنچ کر دوسہ میں داخل ہوگی۔ یہ ضلع کے دوسہ، لالسوت، سیکرائی اور بندیکوئی اسمبلی حلقوں سے ہوتے ہوئے الور پہنچے گی۔ ضلع کے الور رورل، الور رام گڑھ، راج گڑھ اور لکشمن گڑھ اسمبلی حلقہ سے ہوتے ہوئے 19 دسمبر کو ریاست ہریانہ میں داخل ہو گی۔
راجستھان کانگریس نے ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘کے لیے خصوصی تیاریاں کی ہیں۔ ریاست کے تمام اضلاع میں یاترا کا لائیو ٹیلی کاسٹ کیا جائے گا۔ ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر ایل ای ڈی سکرینیں لگائی جائیں گی۔ جہاں کثیر تعداد میں لوگوں کے بیٹھنے کا انتظام بھی کیا گیا ہوگا۔
بھارت جوڑو یاترا میں راجستھان سے بھی 500 ریاستی یاتریوں کا انتخاب کیا گیا ہے، جو یاترا میں راہل گاندھی کے ساتھ ہوں گے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، مزدور اور سماج کے دیگر تمام طبقات کے لوگ بھی یاترا میں شرکت کریں گے۔
راہل گاندھی کی ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ ریاست کے جن سات اضلاع کی 18 اسمبلی سیٹوں کا احاطہ کرے گی، ان میں سے زیادہ تر سیٹوں پر گرجر اورمینا کا غلبہ ہے۔ساتھ ہی کچھ سیٹوں پر دونوں برادریوں کا مساوی غلبہ ہے۔ جس کی وجہ سے اس پورے علاقے میں سچن پائلٹ کا دبدبہ زیادہ نظر آتا ہے۔ اس وقت ان 18 سیٹوں میں سے 12 پر کانگریس اور چھ بی جے پی کے پاس ہیں۔
’’بھارت جوڑو یاترا ‘‘کے شایان شان استقبال کے لئے راجستھان کانگریس کمیٹی پچھلے کئی دنوں سے تیاریوں میں مصروف تھی۔یاترا بہتر ڈھنگ سے انجام تک پہنچے ، اس کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ اشوک گہلوت اور سچن پائلٹ کے درمیان فی الحال سکون کا ماحول نظر آرہا ہے لیکن پس پردہ داؤ پیچ کا سلسلہ جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ’’بھارت جوڑو یاترا ‘‘ کے لئے جن کمیٹیوں کی تشکیل عمل میں آئی ہے، ان میںزیادہ تر لیڈر اشوک گہلوت کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ پرمود جین بھیا سمیت اشوک گہلوت کے قریبی لوگ دورے کے دوران اہم انتظامات کو سنبھالنے والوں میں شامل ہیں۔ ریاستی صدر گوویندر سنگھ دوتاسرا کئی وزراء اور عہدیداروں کے ساتھ گزشتہ تین دنوں سے جھالاواڑ میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف سچن پائلٹ کے حامی اپنے لیڈر کی الگ تصویر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یاترا کے راستے میں پائلٹ کی تصویر کے سینکڑوں پوسٹر اور ہورڈنگز لگائے گئے ہیں۔ سچن پائلٹ کی حمایت میں نہ صرف گجر بلکہ مینا برادری کے کئی لیڈر بھی انہیں وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے مسلسل لابنگ کر رہے ہیں۔ حالانکہ راہل گاندھی کے دورے کے دوران سبھی کو تحمل سے کام لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔حالانکہ وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کا دعویٰ ہے کہ آج بھی ان کی حمایت میں 102 ایم ایل اے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ گہلوت دھڑے کے کئی ایم ایل اے سچن پائلٹ کو وزیر اعلیٰ بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ سے بلا شبہہ راہل گاندھی کی ایک نئی شبیہ ابھر کر عوام کے سامنے آئی ہے۔ ساتھ ہی اس دوران کانگریس سے بچھڑے ہوئے کئی وفادار ساتھیوں کی بھی گھر واپسی ہوئی ہے۔لیکن 15 دنوں تک راجستھان میں جاری رہنے والی یہ ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ اگر راجستھان کانگریس کے مذکورہ دونوں اہم لیڈروں کی آپسی رنجشوں کو ہمیشہ کے لئے دور کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو مانا جائے گا کہ یہ اپنے مقصد میں کامیاب ہے۔اور یہی امیج قائم کرنا ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ کے لئے چیلنج بھی ہے۔
************************

About the author

Taasir Newspaper