Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ملک بھر سے

زخمی کرکٹر رشبھ پنت کو دہلی یا ممبئی شفٹ کرنے کی تیاری

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 31st Dec.

دہرادون،31دسمبر:ٹیم انڈیا کے وکٹ کیپر بلے باز رشبھ پنت جمعہ کو دہلی سے روڑکی اپنے گھر جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہو گئے تھے۔ وہ دہرادون کے میکس اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ جمعہ کو ان کے چہرے کی پلاسٹک سرجری ہوئی ہے۔ پنت کو ماتھے، دائیں کلائی، دائیں گھٹنے، ٹخنے اور انگوٹھے پر چوٹیں آئیں۔ ان کے دائیں گھٹنے میں لگامینٹ پھٹ گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق ہندوستان کا کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی ا?ئی) پنت کے علاج میں کوئی لاپرواہی نہیں کرنا چاہتا ہے۔ انہیں دہرادون سے ممبئی منتقل کیا جا سکتا ہے، تاکہ بی سی سی آئی کی میڈیکل ٹیم کی نگرانی میں ان کے لگامینٹ کا علاج ہو سکے۔ یہی نہیں، ضرورت پڑنے پر بی سی سی آئی انہیں علاج کے لیے بیرون ملک بھی بھیج سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دہلی کرکٹ ایسوسی ایشن کی ٹیم دہرادون کے لیے روانہ ہوگئی ہے، وہ میکس اسپتال کے ڈاکٹروں سے بات کرے گی۔ ڈی ڈی سی اے اسے ممبئی منتقل کرنے کے لیے ڈاکٹروں سے مشورہ کرے گا۔کرکٹر رشبھ پنت کو دہرادون سے دہلی یا ممبئی منتقل کیا جا سکتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پنت کے گھر والے دہلی میں علاج کرانا چاہتے ہیں۔ تاہم اب بی سی سی آئی اس ساری پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ بی سی سی آئی پنت کی انجری کے حوالے سے کسی قسم کی لاپرواہی نہیں کرنا چاہتا۔ بورڈ اپنے اسٹار کھلاڑی کی جلد بازیابی کے لیے ایکشن میں آگیا ہے۔ ضرورت پڑنے پر انہیں بیرون ملک بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، بی سی سی آئی نے میکس اسپتال سے کہا ہے کہ پنت کے لگامینٹ کی پوری ذمہ داری اب بورڈ کی میڈیکل ٹیم کی ہوگی۔رشبھ پنت طویل عرصے تک کرکٹ سے دور رہ سکتے ہیں۔ انہیں لگامینٹ کی چوٹ سے ٹھیک ہونے میں تقریباً نو سے دس ماہ لگ سکتے ہیں۔ لگامینٹ فائبرس کا ایک ایسا گروپ ہے، جو دو ہڈیوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ جب اس میں کوئی چوٹ لگ جائے تو زخم بھرنے میں کافی وقت لگتا ہے۔ ایسی صورتحال میں وہ طویل عرصے تک کرکٹ سے باہر رہ سکتے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper