Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

سب کو مل کر کام کرنا ہوگا !

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 2nd Dec.

چند دنوں پہلے وزیر اعلی نتیش کمار نے ایک بار پھر بہار کو خصوصی درجہ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اپنے دیرینہ مطالبے کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے بہار کی ترقی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ اگر اسے خصوصی ریاست کا درجہ مل جاتا تو بہار بھی ملک کی ترقی یافتہ ریاستوں کے زمرے میں آجاتا۔ وزیر اعلیٰ کے اس بیان کے بعد عظیم اتحاد کے وزراء اور دیگر لیڈروں نے بھی مرکزی حکومت سے بہار کو خصوصی درجہ دینے کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔ عظیم اتحاد کے لیڈروں کی طرف سے کئے گئے مطالبات کے ساتھ ہی نریندر مودی حکومت پر مرکز سے بہار کو ملنے والے فنڈز روکنے کا بھی الزام لگایا جا رہا ہے۔ عظیم اتحاد کے رہنماؤں کے اس الزام کے بعد بی جے پی نے بھی جوابی بیان دینے میں ذرا بھی تاخیر نہیں کی ہے ۔
سابق نائب وزیر اعلیٰ اور راجیہ سبھا ممبر سشیل کمار مودی کا کہنا ہے کہ حکومت بہار صرف مطالبہ کرتی ہے لیکن عمل نہیں کرتی ہے۔ سشیل کمار مودی کے مطابق حکومت بہار کی اسکیموں کے لئے زمین حاصل کرنے اور بروقت افادیت کا ثبوت فراہم کرنے میں ناکامی بہار کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ مرکزی حکومت نے دربھنگہ میں ایمس اور وکرم شیلا میں سنٹرل یونیورسٹی بنانے کا فیصلہ کیا، لیکن نتیش حکومت اس کے لیے بھی زمین فراہم نہیں کر اسکی۔ ایک طرف سشیل کمار مودی کا یہ الزام ہے کہ بہٹہ ، دربھنگہ اور پورنیہ ہوائی اڈوں کی توسیع بھی زمین کی عدم دستیابی کی وجہ سے پھنسی ہوئی ہے اور دوسری طرف وہ مرکزی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نریندر مودی کی حکومت بہار کی ترقی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ مرکزی حکومت بہار کےبنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے لاکھوں کروڑوں کی اسکیموں کو پوری فراخدلی کے ساتھ اور بغیر کسی امتیاز کے شروع کرنا چاہتی ہے۔ لیکن ریاستی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ وزرائے خزانہ کی میٹنگ میں حکومت بہار نے مرکز سے 20 ہزار کروڑ کے پیکیج کا مطالبہ کیا ہے۔ وہیں سال 2015 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے بہار کے لیے 1.5 لاکھ کروڑ کے خصوصی اقتصادی پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ اس میں سے 55 ہزار کروڑ روپے صرف سڑکوں کے منصوبوں کے لیے ہیں۔ لیکن ریاستی حکومت زیادہ تر پروجیکٹوں کے لیے زمین فراہم نہیں کر سکی۔ بہار میں سال 2024 تک 3 لاکھ کروڑ روپے کے منصوبے لاگو کیے جانے ہیں، جن میں 13 گرین فیلڈ ایکسپریس وے اور اقتصادی راہداری شامل ہیں۔
سابق نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی کے دعوے کے برعکس بہار کے موجودہ نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو مرکزی حکومت پر بہار کو نظر انداز کرنے کا الزام لگا رہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ جب سے بہار میں عظیم اتحاد کی حکومت بنی ہے، مرکز کی طرف سے کوئی تعاون نہیں کیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت سے رقم نہیںملنے کی وجہ سے ریاستی حکومت کو اضافی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تیجسوی یادو مرکز کی طرف سے بہار کو دیئے گئے خصوصی پیکیج کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ بہار کو کوئی خاص پیکیج نہیں مل رہا ہے۔ تیجسوی یادو سے پہلے بہار حکومت کے وزراء اور جے ڈی یو لیڈر بھی مرکزی حکومت پر ایسے ہی الزامات لگا چکے ہیں۔ دیہی امور کے وزیر شرون کمار کا یہ الزام ہے کہ منریگا کے لیے بھی مرکز سے رقم نہیں دی جا رہی ہے۔
ایسے میںاگر بہار سے مزدوروں کی نقل مکانی ہوتی ہے تو اس کی ذمہ دار مرکزی حکومت ہوگی۔جے ڈی یو اور آر جے ڈی کے الزامات کا جواب دینے کے لئے بی جے پی کے ریاستی صدر اور بتیا کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سنجے جیسوال نے بھی مورچہ کھول دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت نے 2600 کلومیٹر پی ایم جی ایس وائی فیز تھری اسکیم کو منظوری دی ہے،لیکن بہار کے نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو کہہ رہے ہیں کہ مرکز پیسہ نہیں دے رہا ہے۔ ڈاکٹر سنجے جیسوال کے مطابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو اس بات کا حساب دینا چاہیے کہ ان کی کتنی اسکیمیں وزیر اعلیٰ کے نام پر چلائی جاتی ہیں، جن کا فنڈ مرکز دیتا ہے۔
بہار کی ترقی کو لیکربر سر اقتدار عظیم اتحاد اور حزب اختلاف بی جے پی کے درمیان جاری زبانی جنگ یہی بتاتی ہے کہ بہار ابھی ترقی کے نام پر محض اقتدار کی سیاست کے دور سے گزر رہا ہے۔ گرچہ ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھار کرنے والے سبھی لیڈروں کا تعلق بہار ہے۔ کتنا اچھا ہوتا اگر ہمارے یہ سبھی رہنما پارٹی بیسڈ پولٹکس سے باہر نکل کر اپنی ریاست کی ہمہ جہت ترقی کے لئے متحدہ طور پر مرکزی حکومت مطالبہ کرتے۔یہ بات اپنے سبھی لیڈروں کو معلوم ہے کہ حکومت آنے جانے والی چیز ہے۔لیکن سیاست کے لئے بہار نےجو زمین فراہم کی ہے، اس زمین کا قرض کبھی ان سے زندگی بھر ادا نہیں ہو سکے گا۔لہٰذا، ابھی ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے بہار کو پس ماندگی کی دلدل سے باہر نکالنے کے لئے جماعتی سیاست سے اوپر اٹھ کر ہمارے سبھی رہنما باہم مل کر کام کریں۔محض اتنا سا دعویٰ کر دینے سے بہار کا بھلا نہیں ہو سکے گا کہ نتیش کمار اور تیجسوی یادو کے پاس صرف 2 سال کا وقت ہے اور 2025 میں یہاں بی جے پی کی حکومت بنے گی ، اتر پردیش کی طرح یہاں سے جرائم کا خاتمہ ہوجائے گا اور پھر صنعتی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔ دھیان رہے بہار کا قرض اتارنے کے لئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا !
**********************

 

About the author

Taasir Newspaper