Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

سب کی نظر اُسی جانب ہے

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 27th Dec.

7 ستمبر کو تمل ناڈ کے کنیا کماری سےشروع، راہل گاندھی کی ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘اپنی دو تہائی سے زیادہ مسافت طے کر کے 24 دسمبر کو دہلی پہنچی تھی۔ملک کے جنوبی سرے سے دارالحکومت تک 3 ہزار کلومیٹر سے زائد کا لمبا فاصلہ طے کرکے دہلی پہنچنے پر راہل گاندھی نے کہا، ’’جب میں کنیا کماری سے نکلا تو مجھے ایک بات معلوم ہوئی کہ اس ملک میں نفرت نہیں ہے، اس میں صرف محبت ہے۔نفرت صرف میڈیا دکھاتا ہے۔ اس یاترا میں ہندو مسلم سکھ عیسائی تمام مذاہب کے لوگ ایک ساتھ چل رہے ہیں۔ امیر، غریب، کسان، مزدور سب چل رہے ہیں۔ اس سفر میں ایک بھارت ہے۔’’بھارت جوڑو یاترا ‘‘بے روزگاری، مہنگائی، خوف اور نفرت کے خلاف ہے، لیکن مرکزی حکومت کی تمام پالیسیاں خوف پھیلانے کے لیے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کسان، مزدور، نوجوان سب خوفزدہ رہیں۔ مگر ہم نفرت کے اس بازار میں محبت کی دکان کھولنے آئے ہیں۔وہ نفرت پھیلاتے ہیں اور ہم محبت بانٹتے ہیں۔ہم سبھی کو گلے لگاتے ہیں۔‘‘واضح ہو کہ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ ابھی دہلی میں موقوف ہے۔ اگر ملک میں کورونا نہیں بڑھتا ہے تو یہ یاترا اپنے پروگرام کے مطابق 3 جنوری سے دوبارہ شروع ہوگی اور 26 جنوری کو جموں و کشمیر میں اختتام پذیر ہوگی۔
راہل گاندھی اور کانگریس کے دوسرے تمام لیڈر’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ یاترا کے سیاسی مقاصد سے انکار کرتے رہے ہیں، لیکن بیشتر سیاسی مبصرین اسے سچ ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔پوری یاترا کے دوران جو کچھ بھی کہا گیا ا س کو لوگ سیاست سے جوڑ کر دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مہنگائی پر تشویش ہو، بے روزگاری ہو، چینی تجاوزات پر جارحانہ تنقید ہو یا نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھولنے کا نعرہ ہو ، اسے موجودہ سیاست سے الگ نہیں کیا جا سکتا ہے۔اسے براہ راست نریندر مودی حکومت اور بی جے پی کو ہدف تنقید بنائے جانے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقوں اور میڈیا میں بھی اس دورے کے سیاسی اثرات پر خوب گفتگو ہو رہی ہے۔
اس یاترا کو انتخاب سے جوڑ کر دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ 2017کے گجرات اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ ہاردک پٹیل، الپیش ٹھاکر اور جگنیش میوانی تینوں نوجوانوں کی حمایت سے کانگریس77 سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی اور بی جے پی کو 99 سیٹوں تک محدود کر دیا ۔ اس کے بعدبی جے پی نے اگلے انتخابات کی تیاری میں جٹ گئی اورکانگریس خاموش بیٹھ گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ الپیش اور ہاردک2022 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے دربار میں نظر آئے۔ ظاہر ہے، کانگریس نے گجرات میں کسی معجزے کی امید چھوڑ دی تھی، اس لیے تجربہ کار ویربھدر سنگھ کے انتقال کے بعد اسے ہماچل سے بھی زیادہ امیدیں نہیں رہ گئی تھیں۔ اسی لیے دونوں ریاستوں کو پچھلے انتخابات کے وقت نہ تو یاترا کے راستے میں رکھا گیا اور نہ ہی وہاں کانگریس نے کوئی جارحانہ مہم چلائی۔اس کے باوجود ’’ بھارت جوڑو یاترا ‘‘ کا سیاسی ایجنڈا صاف نظر آرہا ہے۔ کانگریس تمل ناڈو میں ڈی ایم کے کی قیادت والی مخلوط حکومت کا حصہ ہے۔ وہاں سے 39 لوک سبھا ممبران اسمبلی منتخب ہوئے ہیں، اور وہاں بی جے پی کی پوزیشن اچھی نہیں ہے۔
کیرالہ ان ریاستوں میں سے ایک ہے ،جہاں سیاست دو فریقی نہیں بلکہ دو قطبی ہے۔ وہاں لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ کی حکومت ہے، لیکن کانگریس کی قیادت میں متحدہ جمہوری محاذ وہاں اہم اپوزیشن میں ہے۔ امیٹھی سے مایوس راہل گاندھی نے کیرالہ کے وایناڈ سے پچھلا لوک سبھا الیکشن لڑا اور جیتا۔ مانا جا رہا ہے کہ کانگریس جو کہ شمالی بھارت میں بی جے پی کو روکنے میں ناکام رہی ہے، اب جنوب پر زیادہ دائو لگا رہی ہے۔کیوں کہ کانگریس کیرالہ میں اپنے لیے بہتر امکانات دیکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ راہل گاندھی کی یہ یاترا اس چھوٹی سی ریاست میں بھی 18 دن کی تھی ۔تلنگانہ ، آندھر پردیش اور مہاراشٹر پر بھی کانگریس کی نظر ہے۔اس لئے ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ کے دوران ان پر خاص توجہ دی گئی ہے۔
مدھیہ پردیش میں، جیوترادتیہ سندھیا کے انحراف کی وجہ سے کانگریس کی حکومت گر گئی تھی، لیکن راجستھان میں اس کی حکومت جاری ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں اگلے سال اسمبلی انتخابات بھی ہیں۔ اسی لیے راہل کی یاترا مدھیہ پردیش میں 16 دن اور راجستھان میں 18 دن کی تھی ۔ ہریانہ میں اسمبلی انتخابات 2024 میں ہونے والے ہیں، لیکن اہم اپوزیشن پارٹی کے طور پر کانگریس اقتدار کی امید کر رہی ہے۔ اس لیے وہاں بھی 11 دن کا سفر پروگرام رکھا گیا ہے۔دہلی سے یہ یاترا اتر پردیش اور پنجاب ہوتے ہوئے جموں و کشمیر جائے گی ، جہاں ممتاز لیڈر غلام نبی آزاد نے کانگریس کو الوداع کہا اور بعد میں اپنی علاقائی پارٹی تشکیل دے دی ہے۔اگلے سال وہاں بھی انتخابات کا امکان ہے۔وہاں کانگریس اوربی جے پی دونوں کو علاقائی پارٹیوں کی بیساکھی کی ضرورت ہوگی۔ ظاہر ہے راہل گاندھی کی’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ انتخابی سیاست سے بالکل الگ نہیں ہے، لیکن وہ اپنے مقصد میں کتنا کامیاب ہوں گے اس کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ وہ بھارت کو جوڑنے کے عمل میں کانگریس کو کس حد تک متحد کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔’’ بھارت جوڑو یاترا‘‘ کے اختتامی مرحلے میں اب سب کی نظر اسی جانب ہے۔

About the author

Taasir Newspaper