Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

دنیا بھر سے

سعودی اور یوکرینی قیادت کے درمیان سیاسی بات چیت جاری ہے: یوکرینی سفیر

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 4 th Dec.

ریاض،3دسمبر: سعودی عرب میں یوکرین کے سفیر پیٹرینکو اناتولی نے تصدیق کی ہے کہ یوکرین کی قیادت اور سعودی عرب کے درمیان سیاسی بات چیت کا سلسلہ بتدریج جاری ہے اور صدر زیلنسکی اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان مسلسل رابطے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ تین موضوعات ایسے ہیں جو ہمیشہ ایجنڈے میں موجود رہتے ہیں، جن میں امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں، اقتصادی تعاون اور انسانی امداد اور یوکرین کے اس جنگ سے نکلنے کے بعد مستقبل کے لیے مزید مواقع تلاش کرنا شامل ہیں۔ انٹرویو میں یوکرین کے سفیر نے کہا کہ روس کے ساتھ جنگ کے بعد معاشی بحالی ہو جائے گی ، ہم سعودی عرب میں اپنے شراکت داروں کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات میں ہم بہت سے مثبت مواقع دیکھ رہے ہیں۔ میں اپنے صدر اور سعودی ولی عہد دونوں کی قیادت کی تعریف کرتا ہوں۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمارا مستقبل پہلے سے بہتر ہے۔یوکرینی سفیر نے جنگ کے خاتمے اور بحران کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے سعودی عرب کی جانب سے ادا کیے گئے کردار کی ستائش کی۔ انہوں نے یوکرینی مہاجرین کیلئے 10 ملین ڈالر کی امداد میں سعودی کردار کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ یوکرین کی حکومت کو اس امداد سے سامان اور ادویات کی فراہمی، تیل اور گیس کی مصنوعات حاصل کرنے میں فائدہ ہوا ہے۔ روسی افواج کے میزائل حملوں کے بعد تباہ شدہ انفراسٹرکچر میں سردیوں کے مشکل حالات میں ان فوائد کی یوکرینی عوام کو شدید ضرورت تھی۔پیٹرینکو اناتولی نے مزید کہا کہ 2021 تک ہم نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی شراکت داری میں ٹھوس نتائج حاصل کیے ہیں۔ ہم سعودی عرب کو گروپ 20 کے ایک ملک کے طور پر دیکھتے ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ جزیرہ نما عرب میں اس کا قائدانہ کردار ہے جو یوکرین کے مفاد میں ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو جاری رکھنے کے لیے موجودہ حالات میں یوکرین مشکل وقت کا سامنا کر رہا ہے۔ ہم یوکرین کو سعودی عرب کی طرف سے فراہم کی جانے والی انسانی امداد کو سمجھتے اور اس کی تعریف کرتے ہیں۔سعودی عرب میں یوکرین کے سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین طویل مدت میں غذائی تحفظ کا ضامن رہے گا جیسا کہ پہلے تھا، بحیرہ اسود میں اناج کی ترسیل کی معطلی کی وجہ سے دو نئے اناج کی ترسیل کے ذرائع پر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ انتہائی مشکل مقامات اور حساس ضروریات والے شمالی افریقہ، مشرق وسطیٰ کے ملکوں اور جنوبی سوڈان کو 11 ملین اناج کی فراہمی کے لیے جولائی میں اقوام متحدہ اور ترکی کے زیر اہتمام اقدامات کئے گئے تھے۔انہوں نے بات جاری رکھی اور گویا ہوے کہ یہ یوکرین کے صدر زیلنسکی کی طرف سے شروع کیے گئے نئے یوکرینی اقدام کے علاوہ کی بات ہے۔ صدر کے 14 نومبر کو جاری فرمان کے مطابق یوکرین سے براہ راست ان ممالک کو یوکرینی غلہ پہنچانا ہے جو مشکل حالات سے دوچار ہیں۔ ان ملکوں میں جزیرہ نما عرب کا خطہ اور بالخصوص یمن شامل ہے جہاں مشکل حالات اور قحط کی وجہ سے 17 ملین سے زیادہ افراد مشکل حالات میں زندگی کاٹ کر رہے ہیں۔اناتولی پیٹرینکو نے یوکرین کی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی برادری اور سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے اناج کے اقدام کو عملی جامہ پہنانے میں مدد کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی قیادت میں بہت سے عرب ممالک کے یوکرین میں اہم زرعی منصوبے ہیں اور ہم ان کی بہت قدر کرتے ہیں اور ان میں مزید سرمایہ کاری چاہتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری اقتصادی شراکت داری کے فوائد میں سے ایک ہے۔ریاض میں یوکرین کے سفیر نے ایک عالمی اقدام شروع کرنے کا اعلان کیا جس کے ذریعے یوکرین کے عوام کے خلاف نوے سال قبل آنے والے عظیم قحط “ہولوڈومور” کے متاثرین کی یاد میں امداد تقسیم کی جائے گی تاکہ یوکرین کی حکومت کو دنیا کے مشکل خطوں میں ضرورت مند لوگوں کے لیے خوراک کی حفاظت کے بارے میں پیغام پہنچایا جا سکے۔پیٹرینکو اناتولی نے مزید کہا کہ “اناج کی عالمی مانگ تقریباً 70 ملین ٹن ہے۔ ہم نے درحقیقت 11 ملین فراہم کر دیے ہیں اور ہم مزید فراہم کر سکتے ہیں۔ اسی لیے یوکرین کی حکومت نے دوسرا اقدام شروع کیا اور ہم بین الاقوامی برادری پر زور دیتے ہیں ہمارے ملک سے براہ راست گندم لی جائے۔اناتولی نے زور دے کر کہا کہ روسی صدر کے پاس یہ حیثیت نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کروڑوں لوگوں کی قسمت اور ان کے کھانے کے حصے کا فیصلہ کرے۔ ہم مشکل حالات کی روشنی میں یہ اناج انسانیت کی خدمت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔یوکرین کے سفیر نے کہا کہ یوکرین امن کا خواہاں ہے اور یوکرین کے عوام اپنے وطن میں امن بحال کرنے اور وطن اور اس کے بچوں کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں اور یہ وہ چیز ہے جس کے ساتھ یوکرینی قوم کھڑی ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کی بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھرپور حمایت دیکھنے میں آئی ہے۔ اسی وجہ سے سعودی عرب نے بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی۔انہوں نے کہا اگر 5 شرائط پوری ہو جائیں تو مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں، یہ شرائط صدر زیلنسکی نے واضح کی ہیں، جن میں سے پہلی یوکرین کی سرزمین سے روسی افواج کا انخلا ہے، دوسری اقوام متحدہ کے چارٹر کی اہم شقوں کا احترام ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ روس یوکرین کو بنیادی ڈھانچے سے لے کر عام شہریوں اور ریاستی معیشت تک پہنچنے والے نقصان کی ادائیگی کا پابند ہوگا۔ چوتھا جنگی جرائم کے مرتکب افراد کو جوابدہ ٹھہرایا جانا ہوگا۔ آخر میں اس سانحے کو دوبارہ نہ ہونے سے روکنے کے لیے حفاظتی ضمانتوں کا ایک نظام قائم کرنا ہوگا۔اناتولی نے کہا کہ روس کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے یوکرین کی طرف سے عائد کردہ شرائط کو کم کرنے اور تیز کرنے کے لیے کوئی بین الاقوامی دباؤ نہیں ہے۔ یکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی زبردست حمایت کی جارہی ہے لہذا ایک بہت بڑا بین الاقوامی اتحاد ہمارے پیچھے کھڑا ہے جو ہماری آزادی اور امن سے رہنے کے ہمارے حق کی حمایت کرتا ہے۔مغربی ممالک بالخصوص امریکہ کی طرف سے فراہم کی جانے والی فوجی مدد کے بارے میں سعودی عرب میں یوکرین کے سفیر نے کہا کہ روس ہمارا فوجی دشمن ہے اور اس کی تعداد تمام عسکری پہلوؤں میں یوکرین کی فوج سے زیادہ ہے ، اس کے پیش نظر ہم نے اپنے تمام فوجیوں کو متحرک کر دیا ہے۔ اور ساتھ میں ہم قومی اور بین الاقوامی وسائل کے ساتھ جدید ہتھیاروں کے نظام کو حاصل کرنے کے لیے متحرک ہیں۔اناتولی نے مزید کہا کہ ہمیں امریکہ اور دیگر یورپی اور شمالی امریکی ممالک کے ساتھ اپنے تعاون کے حوالے سے ایک تاریخی تجربے کا سامنا ہے جنہوں نے یوکرین کو دفاعی ساز و سامان فراہم کیا ہے۔ ہمیں اپنی فتح پر یقین ہے، کیونکہ سب سے اہم عنصر ہتھیار نہیں بلکہ وطن اور عوام کی حفاظت کے لیے بہادر، محب وطن اور وفادار لوگ ہیں۔یوکرین کے سفیر نے روسی جنگ میں ایرانی کردار کے بارے میں کہا کہ ہم نے شروع سے ہی ایران پر واضح کر دیا ہے کہ ہم روسی افواج کو بغیر پائلٹ فضائی نظام فراہم کر کے یوکرین کے خلاف کسی بھی ایرانی مداخلت کی مذمت کرتے ہیں۔لیکن بدقسمتی سے انہوں نے ہماری بات پر عمل نہیں کیا جس کی وجہ سے ہمیں کیف سے ایرانی سفیر کو نکالنے پر مجبور ہونا پڑا۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مہلک ایرانی ہتھیاروں کی روس کو ترسیل بند کرائے کیونکہ یوکرین کے عوام روس کو ان ہتھیاروں کی فراہمی اور ایران کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔اناتولی نے مزید کہا کہ ہم اس معاملے پر کام کر رہے ہیں اور اسے اقوام متحدہ کے سامنے لائیں گے تاکہ اس پر روشنی ڈالی جا سکے اور عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی جا سکے۔یوکرین کی انٹیلی جنس معلومات کے حساب سے ایرانی ڈرونز کے زیادہ تر حصے امریکی اور یورپی کمپنیوں اور دیگر اتحادی ممالک کے تیار کردہ ہیں، اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سعودی عرب میں یوکرین کے سفیر نے کہا کہ اب تک ہم نے تقریباً 400 ایرانی ساختہ ڈرونز کو روکا ہے۔ ہمارے پاس یوکرین کے خلاف جنگ میں ایرانی کردار کے بارے میں جامع معلومات موجود ہیں۔ جہاز رانی سے متعلق پہلو سمیت ہم جانتے ہیں کہ مواد کیسے پہنچا۔ ہم کیمیائی اور تکنیکی خصوصیات سے بھی آگاہ ہیں۔ جب کسی بھی خوف کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ہم اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ ملکر کام کرتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کسی بھی غلطی کو جلد از جلد درست کیا جائے اور اسے دہرایا نہ جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کی حکومت ابھی تک اس مسئلے سے نمٹ رہی ہے۔ ایرانی حکام کو چاہیے کہ وہ روس کو ہتھیاروں کے نظام کی فراہمی اور یوکرین کے خلاف جنگ میں شامل ہونا بند کر دیں۔

About the author

Taasir Newspaper