Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ملک بھر سے

سپریم کورٹ نے نوٹ بندی کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 8 th Dec.

نئی دہلی ، 07 دسمبر: سپریم کورٹ کے جسٹس ایس عبدالنذیر کی سربراہی میں بنچ نے نوٹ بندی کے خلاف دائر درخواستوں پر تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔ سماعت کے دوران، درخواست گزار نے نوٹ بندی کے فیصلے پر تنقید کی ، پھر مرکزی حکومت نے فیصلے کا دفاع کیا۔
سینئر وکیل پی چدمبرم نے عرضی گزاروں کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ نہ تو آر بی آئی کا مرکزی بورڈ اور نہ ہی مرکزی کابینہ نوٹ بندی کے نتائج سے واقف ہے۔ چدمبرم نے کہا کہ حکومت نے یہ فیصلہ لینے سے پہلے پرانے اور نئے نوٹوں کے بارے میں کچھ نہیں سوچا۔ کوئی ڈیٹا اکٹھا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا نوٹ بندی کا فیصلہ 24 گھنٹے کے اندر لیا جا سکتا ہے ؟ چدمبرم نے کہا تھا کہ نوٹ بندی کے بعد زیادہ تر نوٹ واپس آ گئے تھے۔ نوٹ بندی کے لیے اپنایا گیا عمل قانونی خلاف ورزی ہے۔
چدمبرم نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ نوٹ بندی جیسے اقدامات کالے دھن کو باہر لانے کے لیے کیے گئے ، لیکن 2000 روپے کے نوٹ کے آنے کے بعد کالا دھن ذخیرہ کرنا آسان ہو گیا ہے۔ چدمبرم نے سینئر وکیل آنجہانی رام جیٹھ ملانی سے متعلق ایک کیس کی مثال دیا تھا جس میں انہوں نے اپنے دعویٰ کو صحیح ثابت کرنے کے لئے کہا تھا کہ ایک سوٹ کیس میں ایک کروڑ روپے آ سکتے ہیں۔ چدمبرم نے کہا کہ دوہزار کا نوٹ آنے کے بعد جیٹھ ملانی کو ایک کروڑ رکھنے کے لئے آدھا سوٹ کیس ہی بہت ہوتا ہے۔ چدمبرم نے کہا تھا کہ نوٹ بندی کے وقت 86.4 فیصد نوٹ لے لیے گئے ۔ اگر کل وہ 99.9 فیصد نوٹ لے لیں تب کیا ہوگا؟ کیا عدالت کے پاس طاقت نہیں ہے؟ یہ درست یا غلط معاشی پالیسی لگتی ہے، لیکن اس پر ہمارے دلائل سننے کے بعد فیصلہ کیا جانا چاہیے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل آر وینکٹرمنی نے کہا کہ 2016 سے پہلے بھی ملک میں دو بار نوٹ بندی کی گئی تھی۔ پہلی نوٹ بندی 1946 میں ہوئی اور دوسری نوٹ بندی 1978 میں ہوئی۔ نوٹیفکیشن کے سیکشن 4 کے مطابق رعایتی مدت دی جا سکتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ درخواست گزاروں کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے کہ نوٹ بندی نے این آر آئیز کی توہین کی ہے۔ نوٹ بندی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد پارلیمنٹ نے اس پر بحث کی۔ پارلیمنٹ نے بھی مکمل بحث کے بعد اس کی منظوری دی۔
جسٹس ایس عبدالنذیر کی سربراہی والی بنچ نے 12 اکتوبر کو اس معاملے میں دائر تمام 59 درخواستوں پر نوٹس جاری کیا تھا۔ سماعت کے دوران چدمبرم نے کہا تھا کہ یہ معاملہ علمی نہیں ہے۔ اٹارنی جنرل آر وینکٹرمنی نے ان کی دلیل پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ ایک تعلیمی عمل ہے۔
سپریم کورٹ نے پانچ ججوں کی بنچ کے لیے آٹھ سوالات مقرر کیے تھے۔ عدالت نے آئینی بنچ کے سامنے جو سوالات رکھے ان میں سے پہلا سوال یہ تھا کہ کیا نوٹ بندی کا فیصلہ آر بی آئی ایکٹ کی دفعہ 26 کی خلاف ورزی ہے؟ دوسرا کیا 8 نومبر 2016 اور اس کے بعد نوٹ بندی کے نوٹیفکیشن غیر آئینی ہیں۔ تیسراکیا نوٹ بندی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہے جیسے مساوات کا حق اور آئین کی طرف سے ضمانت دی گئی تجارت کی آزادی۔ چوتھا کیا نوٹ بندی کا فیصلہ بغیر تیاری کے نافذ کیا گیا، جب نہ تو نئی کرنسی کا کوئی مناسب انتظام تھا اور نہ ہی پورے ملک میں نقدی پہنچانے کا۔ پانچواں سوال یہ ہے کہ کیا بینکوں اور اے ٹی ایم سے رقم نکالنے کی حد مقرر کرنا حقوق کی خلاف ورزی ہے؟
چھٹا سوال یہ ہے کہ کیا ڈسٹرکٹ کوآپریٹو بینکوں میں پرانے نوٹ جمع کرنے اور نئے روپے نکالنے پر پابندی درست نہیں ہے؟ ساتواں سوال کہ کیا کوئی سیاسی جماعت مفاد عامہ کے لیے پٹیشن دائر کر سکتی ہے یا نہیں۔ آٹھواں اور آخری سوال یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ حکومت کی معاشی پالیسیوں میں مداخلت کر سکتی ہے؟ جسٹس ایس عبدالنذیر کے علاوہ آئینی بنچ میں جسٹس بی آر گوائی ، جسٹس اے ایس بوپنا ، جسٹس وی راما سبرامنیم اور جسٹس بی وی ناگرتنا شامل ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper