Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

عوام ہی مالک ہیں

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 8 th Dec.

حالیہ انتخابات کے نتائج نے بھی یہ بتا دیا ہےکہ عوام ہی مالک ہیں۔سیاسی جماعتوں کے بڑے بڑے دعوے اور داؤ پیچ دونوں دھرے کے دھرے رہ گئے۔ گجرات اسمبلی کے اراکین کے انتخاب کےلئے ہوئی ووٹنگ کے بعد گزشتہ منگل کو مختلف سروے ایجنسیوں کے ذریعہ بی جے پی کی حکومت بننے کی پیشین گوئی کی جا رہی تھی، تب اس سلسلے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بہار کے وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمارنے بے ساختہ اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا ’’ عوام مالک ہیں۔سبھی کو جمعرات کے روز اعلان کئے جانے والے حتمی نتائج کا انتظار کرنا چاہئے ۔‘‘ کل عوام کے فیصلے کا اعلان ہو گیا۔لیکن اس اعلان سے ایک دن قبل یعنی بدھ کے روز معلنہ، دہلی میونسپل کارپوریشن کے انتخابی نتائج کو بھی حالیہ عوامی فیصلے کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
7 دسمبر کو دہلی میونسپل کارپوریشن ( ایم سی ڈی) انتخابات کے نتائج جب سامنے آئے تھے تبھی سےمنفی تبصرے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگے تھے۔ اور جب یہ فائنل ہو گیا کہ 250 وارڈوں کے لئے 4 دسمبر کو ہوئی ووٹنگ کے نتیجے نے بی جے پی کا ساتھ نہیں دیا ہے اور اقتدار کی کرسی عام آدمی پارٹی کے پاس چلی گئی ہے تو ’’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس ‘‘ کے حوالے مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی باتیں ہوا میں گشت کرنے لگی تھیں۔ ایک سیاسی جماعت کے آئی ٹی سیل کے کارکنان کے تبصروں میں جس طرح جارحیت تھی، اس سے لگ رہا تھا کہ وہ کسی غیر جمہوری ملک کے لوگ ہیں۔اور جب یہ واضح ہو گیا تھا کہ 7 کانگریس سے ، 6 عام آدمی پارٹی سے اور ایک آزاد امیدوار کی حیثیت سے کل 14 مسلمان ایم سی ڈی کے لئے منتخب ہوئے ہیںتو پھر یہ افواہ پھیلانے کی کوشش ہونے لگی کہ کثیر آبادمسلم علاقوں کے رائے دہندگان نے عام آدمی پارٹی کے بجائے کانگریس کی حمایت کی ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے منفی لفظوں کے تیر سے شاید یہ احساس کرانے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ بھارت کے مسلمان اپنے نہیں بلکہ کسی کرایے کے ملک میں رہتے ہیں۔مگر حقیقت یہی ہے کہ عوام تو عوام ہیں۔ وہ ہندو ہیں اور نہ مسلمان، صرف عوام ہیں۔جو دوسرے مذاہب کے ماننے والے ہیں یا جو کسی بھی مذہب میں یقین نہیں ر کھنے والے ہیں، سب کے سب عوام ہیں۔ بھارت کے آئین نے سب کو برابر کے حقوق دے رکھے ہیں ۔لیکن جنھیں بھارت کے آئین میں یقین نہیں ہے، وہ سوشل میڈیا پر اس طرح کی باتیں کر تے ہیں جیسے ان کے آبا واجداد نے ہی اس ملک کو آزادی دلائی ہے۔
کل یعنی 8 دسمبر کو جب گجرات اور ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوا تو پوری دنیا نے مجموعی طور پر یہ محسوس کیا تھا کہ بھارت کے عوام بے حد سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔انھوں نے نہ تو کسی کو زیادہ مایوس کیا ہے اور نہ کسی کو مغرور ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔کہیں کسی کو آسمان دیا ہے تو کہیں اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ کر اسے اوقات میں رہنے کی تاکید کی ہے۔ جس کانگریس کے پاس کھونے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا تو ہماچل پردیش کے عوام نے حسب روایت بی جے پی سے چھین کر پوری ریاست ہی اسے سونپ دی ہے۔ادھر دہلی کے عوام نے ملک میں سیاسی توازن کو برقرار رکھنے کے لئےاپنے میونسپل کارپوریشن کو عام آدمی پارٹی کے حوالے کر دیا ہے۔گجرات کے عوام نے ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی ریاست کو دھماکے دار ڈھنگ سے ساتویں بار بی جے پی کے حوالے کر دیا ہے۔ملک کی دیگر کئی ریاستوں میں ہوئے ضمنی انتخابات میں بھی ملک کے عوام نے دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے جیت اور ہار کے مجموعی تناسب کو تقریباََ برابر رکھا ہے۔ ضمنی انتخابات میں اتر پردیش کے دو اسمبلی سیٹیں بی جے پی کو دیکر ایک لوک سبھا سیٹ سماجوادی کے حوالے کئے جانے کا فیصلہ سیاسی شعور رکھنے والے عوام کا ہی ہو سکتا ہے۔بہار کے کڑھنی اسمبلی سیٹ کو وہاں کے عوام نے بی جے پی کے حوالے کرکے گوپال گنج کی تاریخ دہرائی ہےساتھ ہی عظیم اتحاد کی تمام حلیف جماعتوں کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ سیاست میں ضد اور ضرورت سے زیادہ کنفیڈنس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔جہاں اتحاد ہوگا، سب کو ساتھ لیکر چلنے کا حوصلہ ہوگا اور سب کو عزت دی جائے گی، کامیابی وہیں رہے گی، کیوں کہ عوام سب جانتے ہیں، پورے کھیل پر عوام کی نظر ہوتی ہے اورجمہوری نظام میں در اصل عوام ہی مالک بھی ہوتے ہیں۔
***************************

 

About the author

Taasir Newspaper