Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

فیصلہ آنے والا وقت کرے گا

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 29th Dec.

لوک سبھا انتخابات 2024 کو لے کر ایک طرف جہاں وزیر اعلیٰ نتیش کمار بہار کے دورے پر نکل رہے ہیں۔ وہیں دوسری طرف نئے سال کے پہلے ہفتے میں بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا بہارپہنچ کر انتخابی بگل پھونکنے والے ہیں۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں، جب نتیش کمار این ڈی اے کے ساتھ تھے، تب بی جے پی اور جے ڈی یو اتحاد نے بہار میں لوک سبھا کی 40 میں سے 39 سیٹیں جیت کر تاریخ رقم کی تھی۔ لیکن اس بار نتیش کمار لالو پرساد یادو کی راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ ہیں۔ اس لیے اس بار بی جے پی کی پوری توجہ بہار پر مرکوز ہے۔
لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر اپنی پارٹی کی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ نتیش کمار جنوری کے پہلے ہفتے میں بہار کا دورہ شروع کرنے والے ہیں۔ اب تک کے پروگرام کے مطابق وزیر اعلیٰ کا بہار دورہ 5 جنوری سے شروع ہوگا۔وزیر اعلیٰ سب سے پہلے ضلع مغربی چمپارن کے ہیڈ کوارٹر بتیا جائیں گے۔ وہاں سرکاری منصوبوں کےعمل در آمد کا جائزہ لیں گے۔ ساتھ ہی وہاں کے لوگوں سے مل کر جاننے کی کوشش کریں گے کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات کو لے کر ان کے تئیں عوام کی رائے کیا ہے۔ظاہر ہے 2020 کے اسمبلی انتخابات میں بہار کے عوام نے بی جے پی اورجے ڈی یو اتحاد کو ووٹ دیا تھا۔ لیکن اب جبکہ نتیش کمار نے بی جے پی کو چھوڑ کرآر جے ڈی ، بائیں بازو اور کانگریس کو ساتھ لے کر بہار میں عظیم اتحاد کی حکومت بنالی ہے۔ ایسے میںبہار کے لوگوں کی ان کے بارے میں کیا رائے ہے، یہ جاننا ان کے لئے ضروری ہے۔ اس کے علاوہ بہار میں شراب پر پابندی کے قانون کو لے کر لوگوں کے درمیان پھیلائی جا رہی گمراہی کو بھی وہ دور کرنے کی کوشش کریں گے۔
اِدھرکچھ دن پہلے بہار بی جے پی نے پٹنہ میں پسماندہ، انتہائی پسماندہ محاذ اور لوک سبھا کے انچارجوں کے ساتھ میٹنگ کی تھی۔ اس میٹنگ کے بعد آئندہ لوک سبھا انتخابات کے پیش نظرریاست کے ہر لوک سبھا حلقہ کے لیے ایک انچارج اور کوآرڈینیٹر کا تقرر کیا گیاہے۔ اب 3 جنوری 2023 کو بی جے پی کے قومی صدر جگت پرکاش نڈا بہار کا دورہ کر رہے ہیں۔اطلاع کے مطابق وہ ویشالی میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے بہار کے تمام لوک سبھا حلقوں میں ایک ریلی کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ریلی کا آغاز ویشالی کے گورول سے ہوگا، جس کا افتتاح قومی صدر جے پی نڈا ہی کریں گے۔ دیگر لوک سبھا حلقوں میں ہونے والی ریلیوں میں بی جے پی کے بڑے لیڈر اور وزراء شریک ہوں گے۔
واضح ہو کہ اگست 2022 میں، جب نتیش کمار نے بی جے پی کو چھوڑ کر بہار میں کانگریس اور آر جے ڈی کے ساتھ مل کر عظیم اتحاد کی حکومت بنائی تھی، اس کے ٹھیک ایک ماہ بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بہار پہنچے تھے۔ اس وقت امت شاہ کے مسلم اکثریتی علاقہ سیمانچل کے دورے کو لے کر خوب سیاست ہوئی تھی۔ تب امت شاہ نے اپنی پارٹی کے لیڈروں کو یہ منتر دیا تھا کہ جب ہم بنگال میں صرف دو سیٹوں سے 73 سیٹیں حاصل کر سکتے ہیں اور آسام جیسی ریاست میں حکومت بنا سکتے ہیں، تو بہار میں بھی ایسا ہو سکتا ہے۔امت شاہ نے کہا تھا کہ بی جے پی کے لیے بہار کو فتح کرنا آسان ہے،کیونکہ یہاں جنگل راج کی چھاپ اور بدعنوانی کا بول بالا ہے، جسے عوام کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ اس کے لیے تنظیمی سطح پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ پارٹی کے ذمہ داروں اور کارکنوں کو مزید محنت کرنے کی ضرورت ہوگی۔ سیمانچل علاقے میں کارکنوں سے ملاقات کے دوران مرکزی وزیر داخلہ نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ وہ بہار آتے رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر مہینے میں دو دو بار بہار کا دورہ کریں گے۔اس درمیان یہ سننے میں آ رہا ہے کہ جنوری کے آخری یا فروری کے پہلے ہفتےمیں امت شاہ کے بہار دورے کا پروگرام بن سکتا ہے۔بی جے پی سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ جے پی جینتی کےموقع پر امت شاہ 11 اکتوبر کو بہار آئے تھے لیکن اس کے بعد گجرات اور ہماچل پردیش کے انتخابات میں مصروف ہونے اور پھر دسمبر میں پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کی وجہ سے ان کے بہار دورے کا پروگرام نہیں بن سکا۔
اب جہاں ایک طرف وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا بہار دورہ شروع ہو رہا تو وہیں دوسری طرف بی جے پی اپنے لئے بہار کی زمین کو ہموار کرنے کی کوشش میں ابھی سے جٹ گئی ہے۔ بی جے پی ابھی حال ہی میں بہار کے مکامہ ، گوپال گنج اور کڑھنی اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج کو اپنے لئے لٹمس ٹسٹ مانتے ہوئے یہ دعوی کر رہی ہے کہ 2024 میں بھی وہ اتنی ہی سیٹیں جیتے گی، جتنی اس نے 2019 میں حاصل کی تھیں۔لیکن عظیم اتحاد کا اپنا الگ دعویٰ ہے۔اس کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ اس بار سیکولر ووٹوں کو بکھرنے سے روکنے کے لئے پوری کوشش کی جائے گی۔مگر سیاسی مفادات کے سامنے یہ کوشش کہاں تک کامیاب ہوگی، اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرسکے گا۔
***************************

About the author

Taasir Newspaper