Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

فیفا ورلڈ کپ : میسّی کی ضد کی جیت

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 19th Dec.

فیفا ورلڈ کپ 2022کا فائنل مقابلہ 18 دسمبر کی رات میںقطر کی راجدھانی دوحہ میں اختتام پذیر ہوا اور اِدھراپنے وطن عزیز بھارت میں کولکتہ سے لے کر کیرالہ اور گوا تک بھارتی فٹ بال شائقین نے ورلڈ کپ میں ارجنٹائن کی جیت کا اس طرح جشن منایا گویا ارجنٹائن نے نہیں بلکہ خود بھارت نے ورلڈ کپ جیت لیا ہے۔ اُدھر جیسے ہی شوٹ آؤٹ کے ذریعہ 2-4 گول سے ورلڈ کپ کی جیت اور ہار کا اعلان ہوا، بیشتر غیر یورپی ملکوں کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی جیت کا جشن منانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کولکتہ سے لے کر کیرالہ اور گوا تک مختلف شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے خوب آتش بازی کی۔ کولکتہ میں کئی مقامات پر لوگ ارجنٹائن کی ٹیم کا لباس پہنے ہوئے نظر آئے۔ کچھ شائقین اس قدر جذبات سے مغلوب تھے کہ مارے خوشی کے آنکھوں سےآنسو جاری تھے اور لوگوں میں مٹھائیاں تقسیم کر رہے تھے۔کیرالہ کی سڑکیں ایسے لگ رہی تھیں جیسے یہ کیرالہ نہیں بلکہ ارجنٹائن ہے۔ بچے ہوں ، بوڑھے یا عورتیں، سب ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگے ہوئے تھے اور آتش بازی کر رہے تھے۔ وہ ارجنٹائن کے اسٹار لیونل میسی کے نام پر نعرے لگا رہے تھے۔تروننت پورم سے لے کر کوچی تک ارجنٹائن کے حامیوں نے جیت کا زبردست جشن منایا۔ کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین، قائد حزب اختلاف وی ڈی ساتھیسن، اسمبلی اسپیکر ایم بی راجیش، مختلف ریاستی وزراء، قانون ساز، فلمی ستاروں جیسے مموٹی اور موہن لال نے بھی ارجنٹائن کو جیت پر مبارکباد دی ہے۔گوا میں بھی ہزاروں کی تعداد میں فٹ بال کے شائقین نے ورلڈ کپ کا فائنل میچ دیکھا ۔ مختلف مقامات پر چھوٹے پروجیکٹر لگائے گئے تھے۔گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت سمیت کئی سیاست دانوں نے ارجنٹائن اور میسی کو جیت پر مبارکباد دی ہے۔حالانکہ بھارت نہ تو فیفا ورلڈ کپ 2022 میں کھیل رہا تھا اور نہ ہی اس کا اس ٹورنامنٹ سے کوئی تعلق تھا۔
ٹورنامنٹ شروع ہونے کے بعد سے ہی نہ جانے کیوں بھارتی شائقین اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ میسی ہی یہ ورلڈ کپ جیتے گا۔ کرکٹ کا بھگوان کہے جانے والے سچن تندولکر کا نام بھی اس بحث میں آرہا تھا ،جنھوں نے 2011 میں بھارت کو ورلڈ چیمپئن بنانے کے بعد ہی کرکٹ کو الوداع کہہ دیا تھا۔ لیکن جب سعودی عرب سے پہلے میچ میں ارجنٹائن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو میسی کے مداح حیران رہ گئے تھے۔ کسی کو یقین نہیں تھا کہ میسی کی موجودگی میں دنیا کی نمبر تین ٹیم کے سامنے ارجنٹائن کی ٹیم اس طرح ہتھیار ڈال دے گی، لیکن یہ شکست ایک وارننگ تھی۔ مسلسل 36 میچ جیتنے کے بعد یہ شکست خطرے کی گھنٹی کے طور پر کام کرتی رہی۔ اس شکست کے بعد ارجنٹائن نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور جب فرانس کو پنالٹی شوٹ آؤٹ میں 4-2 سے شکست ہوئی تو ارجنٹائن کی یہ فتح صرف میسی کی ہی نہیں بلکہ ان لاکھوں مداحوں کی بھی تھی، جو سوشل میڈیا پر مسلسل میسی کی حمایت کر رہے تھے۔
2014کے فائنل میں جرمنی نے ارجنٹائن کو شکست دی تھی تو میسی کے شائقین کو فطری طور پر بڑی مایوسی ہوئی تھی۔ 2018 میں جب کوپا امریکہ (انٹر نیشنل مینس فٹ بال چمپئن شپ ) کےراؤنڈ آف 16 میں فرانس نے ارجنٹائن کو شکست دی تھی تو ایسا لگ رہا تھا کہ میسی کی عظمت یہیں دم توڑ دیگی۔لیکن میسی بھی پرعزم تھے۔ان کو یہ ضد تھی کہ جب تک جیت حاصل نہیں ہو جاتی تب تک ہمت نہیں ہارنی ہے۔ شاید اسی ضد کا یہ کمال ہے کہ 2018 میںپنالٹی مس کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے والے میسی کے سر پر فٹ بال کے عالمی چیمپئن کا تاج ہے۔ 1978 اور 1986 کے بعد ارجنٹائن نے 2022 میں تیسری بار فیفا عالمی خطاب جیتا ہے۔ ارجنٹائن کی اس جیت کے ساتھ ہی گزشتہ چار ورلڈ کپ پرسے یورپی بادشاہت کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا۔ الغرض ارجنٹائن اور عظیم فٹبال کھلاڑی ڈیاگو میراڈونا کے عالمی چیمپئن بننے کے بعد 1986 میں پیدا ہوئےلیونل آندریس میسّی کا 2022 میں عالمی چمپئن کے خطاب جیت کر فٹبال کی دنیا کو الوداع کہنا واقعی ناقابل فراموش واقعہ ہے۔
***********

About the author

Taasir Newspaper