Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

کھیل

فیفا ورلڈ کپ 2022: مراکش نیرقم کی تاریخ ، سیمی فائنل میں پرتگال کو شکست

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 11 th Dec.

دوحہ 11 دسمبر:مراکش نے فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2022 کے تیسرے کوارٹر فائنل میں پرتگال جیسی مضبوط ٹیم کو شکست دے کر تاریخ رقم کر دی ہے۔ ٹیم نے پرتگال کو 1-0 سے شکست دی اور آخری 4 میں پہنچنے والی پہلی افریقی ٹیم بن گئی۔ میچ کا واحد گول کرنے والے یوسف عن نصری اپنا چھٹا ورلڈ کپ کھیلنے والی مراکش کی ٹیم کی فتح کے ہیرو رہے۔ سیمی فائنل میں اب مراکش کا مقابلہ دفاعی چیمپئن فرانس سے ہوگا۔
مراکش کی ٹیم نے قطر میں جاری ورلڈ کپ میں اب تک کھیلے گئے تمام میچز شاندار دفاعی حکمت عملی کے ساتھ جیتے ہیں۔ ٹیم نے پرتگال کے خلاف دفاعی اور جوابی حملے کئے۔ میچ کے دوران پرتگال کے پاس گیند کا 65 فیصد وقت تھا لیکن ٹیم بہت ان مواقع کر بہتر استعمال نہیں کر سکی ۔ پرتگالی کوچ سینٹوس نے اس میچ میں رونالڈو کو بھی بلایا۔
پہلے ہاف کے اختتام سے عین قبل نصری نے ہیڈر سے گول کر کے مراکش کو 1-0 سے آگے کر دیا۔ دوسرے ہاف میں کوئی گول نہ ہونے پر سینٹوس کو 51ویں منٹ میں رونالڈو کو میدان میں لانا پڑا۔ 37 سالہ کھلاڑی نے اپنی تیز رفتاری کے باعث مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن شاید قسمت نے بھی پرتگال کا ساتھ نہیں دیا۔ میچ میں 8 منٹ کا انجری ٹائم بھی دیا گیا اور اس دوران مراکش کے ولید چیڈیرا کو ریڈ کارڈ دکھا کر باہر بھیج دیا گیا۔ لیکن پرتگال 10 کھلاڑیوں کے ساتھ مراکش کو کھیلنے سے نہ روک سکا۔
میچ کے بعد جہاں پرتگالی کھلاڑی اور بالخصوص رونالڈو آنسوؤں میں ڈوبے ہوئے دیکھے گئے وہیں مراکش کے کھلاڑیوں اور شائقین نے ٹیم کے تاریخی نتیجے پر خوب جشن منایا ، مراکش نے اس ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ گروپ مرحلے میں بیلجیئم اور کروشیا جیسی ٹیموں کے ساتھ مراکش کی ٹیم سرفہرست تھی۔ یہ ٹیم اس سال کے ورلڈ کپ کی ان چند ٹیموں میں سے ایک تھی جو ورلڈ کپ کا ایک بھی گروپ میچ نہیں ہاری۔ اس کے ساتھ ہی 1966 میں تیسرے نمبر پر آنے والی پرتگالی ٹیم دوسری اور آخری بار سال 2006 میں سیمی فائنل میں پہنچی تھی۔ اس شکست کے بعد ان کا انتظار مزید طویل ہو گیا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper