Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

دنیا بھر سے

قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس، دہشت گردی کی روک تھام کے لیے حکمتِ عملی پر مشاورت

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 30th Dec.

اسلام آباد،30دسمبر:پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وزیرِ اعظم ہاؤس میں جمعے کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں ملک میں امن و امان کی صورتِ حال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔اجلاس میں وفاقی وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار ، وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور دیگر عسکری حکام شریک ہیں۔اسلام آباد سے وائس آف امریکہ کے نمائندے علی فرقان کے مطابق اجلاس میں خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے بڑھتے واقعات اور کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) کی سرگرمیاں بھی اجلاس میں زیر غور آئیں گی۔وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے گزشتہ ہفتے وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ناگزیر ہے لیکن اس کا فیصلہ قومی سلامتی کمیٹی کرے گی۔قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب خیبر پختونخوا میں کالعدم ٹی ٹی پی، بلوچستان میں عسکریت پسند علیحدگی پسند تنظیموں اور پڑوسی ملک افغانستان پر سرحد پار سے حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔جمعرات کو تشدد کا تازہ ترین واقعہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کے سرحدی علاقے میں پیش آیا جس میں عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں تین سیکیورٹی اہل کار ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر آئی ٹین فور میں حال ہی میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد شہر کے فائیو اسٹار ہوٹلز میں دہشت گردی کے خدشات کے پیشِ نظر پولیس نے نیا سیکیورٹی پلان جاری کردیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے پاس کوئی منظم علاقہ موجود نہیں ہے لیکن ان کی کارروائیاں صوبہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور حتیٰ کہ اسلام آباد تک پھیل گئی ہیں۔ ایسے میں سیکیورٹی فورسز کے لیے ان کی روک تھام بڑے چیلنج سے کم نہیں۔پاکستان کی جانب سے یہ الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ ٹی ٹی پی کی قیادت افغانستان میں موجود ہے جہاں سے وہ پاکستان میں حملوں کے احکامات جاری کرتی ہے۔ ان حملوں کو روکنے کے لیے ماضی قریب میں افغان طالبان کی ثالثی میں مذاکرات بھی ہوتے رہے ہیں جو سود مند ثابت نہیں ہو سکے۔

About the author

Taasir Newspaper