Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

اداریہ

قیاس آرائیوں کا دور ختم

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 8 th Dec.

 

کل دہلی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کے نتائج سامنے آگئے تھے۔آج ہماچل پردیش اور گجرات اسمبلی انتخابات کے نتائج کا انتظارختم ہونے والا ہے۔ ہماچل پردیش میں 12 نومبر کو 68 سیٹوں پر ووٹنگ ہوئی تھی۔ جب کہ گجرات میں یکم اور 5 دسمبر کو دو مرحلوں میں 182 سیٹوں پر ووٹنگ ہوئی تھی۔ دونوں کے نتائج آج آنے والے ہیں۔ووٹوں کی گنتی شروع ہونے کے لگ بھگ تین گھنٹوں کے بعد دھیرے دھیرے یہ بات واضح ہونے لگے گی کہ کہاں کس کی حکومت بن سکتی ہے۔ووٹوں کی گنتی صبح آٹھ بجے سے شروع ہونے والی ہے۔
مذکورہ دونوں اسمبلیوں کے انتخابی نتائج کے حتمی اعلان کے قبل ہی ایگزٹ پول کے رجحانات آچکے ہیں۔ کئی ایجنسیوں نے سروے کر کے لوگوں کا ذہن جاننے کی کوشش کی ہے۔ تمام ایگزٹ پولز کا تجزیہ بھی سامنے آچکا ہے، جس کے مطابق گجرات میں بی جے پی حکومت سازی میں سب سے آگے نظر آرہی ہے تو ہماچل پردیش میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہے۔آخر آخر تک بازی کسی کے بھی حق میں جا سکتی ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ گجرات اسمبلی انتخابات میں پی ایم مودی اورمرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سمیت بی جے پی کے کئی بڑے لیڈروں نے سخت محنت کی تھی۔ ایسے میں ایگزٹ پول کا قیاس بی جے پی کے لیے راحت بخش ہے۔ تمام ایگزٹ پولز نے بی جے پی کو واضح اکثریت کی پیشین گوئی کی ہے۔ کانگریس کو دوسرا اور عام آدمی پارٹی کو تیسرا مقام مل سکتا ہے۔ پول آف دی پولزکے مطابق بی جے پی کو 133، کانگریس کو 38، عام آدمی پارٹی کو آٹھ اور دیگر کو تین سیٹیں مل سکتی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ گجرات اسمبلی سیٹوں کی کل تعداد 182 ہے۔ اس میں 40 سیٹیں محفوظ ہیں۔ 27 سیٹیں درج فہرست قبائل کے لیے اور 13 سیٹیں درج فہرست ذاتوں کے لیے مخصوص ہیں۔ اسمبلی میں اکثریت کی مطلوبہ تعداد 92 ہے۔ 2017 کے انتخابات میں برسراقتدار بی جے پی بمشکل حکومت بچانے میں کامیاب رہی تھی۔ دو دہائیوں میں پہلی بار بی جے پی کی سیٹوں کی تعداد دو ہند ے میں سمٹ کر 99 رہ گئی تھی ۔ کانگریس نے 2017 کے انتخابات میں 77 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی، جب کہ بھارتیہ ٹرائبل پارٹی (بی ٹی پی) نے، جو کانگریس کے ساتھ اتحاد میں لڑی تھی، نے 2 اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) نے 1 سیٹ جیتی تھی۔ آزاد امیدواروں نے تین نشستوں پر قبضہ جمایا تھا ۔ دلت لیڈر جگنیش میوانی نے وڈگام سے کانگریس کی حمایت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ 2012 کے مقابلے 2017 میں بی جے پی کو 16 سیٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ وہیں کانگریس نے 77 سیٹیں جیتی تھیں۔ کانگریس کو 2012 کے مقابلے میں 16 سیٹوں کا فائدہ ہوا تھا۔
دوسری جانب اگزٹٹ پولز کے رجحانات میں ہماچل پردیش میںکانٹے کی ٹکر دیکھی جا رہی ہے۔ اس ریاست کا یہ بھی رواج ہے کہ یہاں ہر پانچ سال بعد حکومت بدلتی ہے۔اس بار کئی ایگزٹ پولز بھی اس طرف اشارہ بھی کر رہے ہیں، لیکن وہ کسی بھی پارٹی کی یک طرفہ جیت نہیں دکھا رہے ہیں۔صرف ایک کو چھوڑ کر،باقی سبھی ایجنسیاں بی جے پی کو آگے دکھا رہی ہیں۔ اگر پول آف دی پولز کی بات کی جائے تو ہماچل میں بی جے پی کو 35، کانگریس کو 30 اور دیگر کو تین سیٹیں مل سکتی ہیں۔ ۔بیشتر ایجنسیوں کے مطابق یہاں عام آدمی پارٹی کا کھاتہ بھی نہیں کھلنے والا ہے۔پچھلے یعنی 2017 کےاسمبلی انتخابات کی بات کریں تو بھارتیہ جنتا پارٹی ہماچل میں 44 سیٹیںحاصل کرکے اقتدار میں آئی تھی۔ وہیں کانگریس 21 سیٹیں حاصل کرکے اپوزیشن میں بیٹھی تھی۔ ان کے علاوہ ایک سیٹ سی پی ایم کے اور دو سیٹیں دیگر کے حصے میں آئی تھیں۔
ادھر ہماچل اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہونے کے قبل سے ہی کانگریس جیت کا دعویٰ کر رہی ہے۔ کانگریس کے کچھ لیڈر وں نے توو زیر اعلیٰ بننے کے لئے لابنگ بھی شروع کر دی ہے۔ دوسری طرف بی جے پی بھی حکومت سازی کے لئے تال ٹھوک رہی ہے۔ جبکہ ہماچل کی یہ روایت رہی ہے کہ بر سر اقتدار پارٹی انتخاب کے بعد دوبارہ اقتدار میں نہیں آتی ہے۔کانگریس کو شاید ریاست کی اسی سیاسی روایت پر زیادہ بھروسہ ہے۔ بی جے پی یہاں شروع سے ہی اس روایت کو توڑنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ دونوں پارٹیوں کے باغی امیدوار، جو 18 سیٹوں پر آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ رہے ہیں، دونوں پارٹیوں کی دعویداری میں سیندھ لگا سکتے ہیں۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہماچل پردیش کی نئی حکومت بنانے میں آزاد امیدواروں کا رول ہی فیصلہ کن ثابت ہو جائے۔ بہر حال دونوں ریاستوں کی اسمبلی سیٹوں کے لیے ووٹوں کی گنتی آج صبح 8 بجے شروع ہورہی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ گیارہ ، ساڑھے گیارہ بجے سے جیت اور ہار کے رجحانات سامنے آنے لگیں گے اور دو بجے کے بعد عوام کے اس فیصلے کا انتظار ختم ہو جائے گا، جس کے سلسلے میں پچھلے کئی دنوں سے قیاس آرائیوں کا دور جاری تھا۔
**************************

About the author

Taasir Newspaper