Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ریاست

مسلمان روزگاراور تعلیم کی طرف قابل رشک قدم بڑھائیں: مولاناغلام رسول بلیاوی

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 14 th Dec.

جہیزکی لعنت کینسرکی طرح ہے اس سے دور رہیں : مولاناسیف اللہ علیمی
ادارہ شرعیہ تحریک بیداری واصلاح معاشرہ کانفرنس بیتیامیں ہزاروں ہزار لوگوں نے کی شرکت
بیتیا ( 14 دسمبر2022)
حسب پروگرام 13 دسمبر2022  بروزمنگل ملک کےمسلمانوں کامضبوط ومستحکم نمائندہ ادارہ مرکزی ادارہ شرعیہ پٹنہ کا ایک نورانی قافلہ صدرمحترم،سابق ممبرآف پارلیمنٹ مولاناغلام رسول بلیاوی کی قیادت وسربراہی میں چمپارن کی سرزمین پر پہونچاجہاں پہ قاضی شریعت ادارہ شرعیہ بیتیا،مخصوص علماء اور ذمہ داروں نے گلدستہ وپھول دے کرمہمانوں کااستقبال کیا۔نمازمغرب وعشاء کے درمیان شہرکے مختلف ذمہ داران سے اصلاح معاشرہ وموجودہ صورت حال پرتبادلہ خیال ہوا۔نمازعشاکے بعدٹاؤن ہال شہربیتیامیں عظیم الشان اصلاح معاشرہ کانفرنس وادارہ شرعیہ تحریک بیداری کانفرنس کاآغاز قرآن مقدس کی تلاوت سے ہوا۔اس تحریک بیداری کانفرنس میں بیتیا اور قرب وجوار کے اضلاع سے سینکڑوں علما اور ہزاروں ہزار عامۃ المسلمین نے شرکت کی۔نہایت ہی شان وشوکت کے ساتھ اپنے ۔موضوع مقصدکے تعلق سے پروگرام رواں پذیرہوا علماء وخطباء شعرا یکے بعددیگرے دئے گئے موضوع پر نہایت ہی مبسوط اور جامع گفتگوفرمائ۔کانفرنس کے چیف گیسٹ اور تحریک کے قائدوسربراہ مرکزی ادارہ شرعیہ کے قومی صدر،سابق ممبرآف پارلیمنٹ مولاناغلام رسول بلیاوی نے جم غفیرسے نہایت ہی نکات آفریں اور دل سوز،ذہن ساز گفتگوفرماتے ہوئے کہاکہ آج ملک میں مسلمانوں کی شرح تعلیم چار فیصدسے بھی کم ہے اورملازمتوں میں ایک فیصدسے کم ہے اسی طرح سے روزگارمیں تجارت میں دوفیصدسے کم ہے جبکہ پورے بھارت کے جیلوں میں مسلم بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے یہ ایک ایساکڑوا سچ ہے جس کی طرف ہرحساس ذہن وفکر کاشخص فکروتدبرکرنے پرمجبورہورہاہے۔غازی ملت علامہ غلام رسول بلیاوی نے کہاکہ آج مسلم معاشرے کی زمینیں 70فیصدبک گئیں ہیں وہ کسی تجارت کے لئے نہیں بلکہ مطالبہ جہیزسے مجبورہوکر بیٹیوں کی شادی کرنے کے لئے جیسے تیسے بک گئیں۔آج ہمارا معاشرہ تعلیمی،مذہبی،سماجی،اقتصادی،معاشرتی،ملی اورفلاحی اعتبارسے ہرقوم سے پسماندہ ہے۔مولانابلیاوی نے کہاکہ آج ملک میں مسلم اقلیت محفوظ نہیں ہے ان کے مذہبی جذبات کو کوئ ٹھیس پہونچادیتاہے اورکوئ بھی گروپ اس کی لینچنگ کرجاتاہے سرکاریں یونہی تماشائی بنی رہتی ہے۔انہوں نے علماء اور عامۃ المسلمین سے کہاکہ اب ضرورت آن پڑی ہے کہ ہرمحاذ میں ترقی کے منازل طئے کرنے کے لئے حساسیت کے ساتھ قدم سے قدم ملاکرعمل کے میدان میں اتریں۔اورقوم وملت کی نئ نسلوں کے مستقبل روشن کریں۔مجمع عام سے علامہ غلام رسول بلیاوی کی تقریرسے متاثرہوکر236 غیرشادی شدہ نوجوانوں نے جہیزڈیمانڈنہ کرنے کاعہدکیااورسینکڑوں گارجینوں نے اس اعلان کااستقبال کرتے ہوئے دئیے گئے ہدایت پرعمل کرنےکابھی عزم کیا۔علماء اور ائمہ مساجدنے بھی اصلاح معاشرہ اورتحریک بیداری کے تعلق سے اپنابھوپور تعاون  دینے اور گھرگھر تک تحریک کوپہونچانے کی یقین دہانی کرائ۔
کلکتہ سے تشریف لائے علامہ سیف اللہ علیمی نے کہاکہ نمازکی پابندی کے ساتھ نمازکی حفاظت کرناسیکھیں اوراپنے معاشرے کومنشیات سے پاک ومنزہ کریں۔انہوں نے تحریک ادارہ شرعیہ سے ہرشخص کومنسلک رہ کر اصلاح معاشرہ کی تکمیل میں اہم کردار نبھائیں۔
ادارہ شرعیہ کے مہتمم مولاناسیداحمدرضانے کہاکہ ادارہ شرعیہ ملک وملت کے خدمات میں صف اول میں رہاہے جنہوں نے ہندوستان جس خطے میں جب جب زلزلے یاسیلاب وفسادات ہوئے اس سلگتے ہوئے ماحول میں بھی معاشرے کی اعانت کی حالیہ دنوں میں تریپورہ کی خدمات بے مثال ہیں واحدادارہ شرعیہ وہ مسلم تنظیم ہے جس نے مرحلہ وار ریلیف پہونچایا جلائ گئ مسجدوں کی تعمیرنوکی جو تاہنوزجاری ہے۔این آرسی،سی اےاے،ٹرپل طلاق میں سڑک سے سدن تک اورعدالت عظمی تک سرگرم ہے۔
مولانا ڈاکٹر مفتی امجدرضاامجدنے کہاکہ ماضی کی تاریخ میں بادشاہت،روزگار،تعلیم،ہنر،عدل وانصاف کے میدان میں جوتاریخی رہی ہیں ان تاریخوں کوہمیں بھولنانہیں چاہیے آج اپنے بچوں کواس معیارکابھی علم دیناچاہئے جس سے مستقبل کی تاریخ روشن ہوجائے۔
مولانانعمان اخترفائق الجمالی نے کہاکہ علم وہ لازوال نعمت ہے جس کی تقسیم سے کم نہیں ہوتی بلکہ اس میں اضافہ ہی ہوتاہے۔مجمع عام کومولاناقطب الدین رضوی،مفتی غلام حسین  ثقافی،مفتی احسن رضا،مفتی نسیم القادری، مفتی غلام مجتبی،مفتی تعظیم الدین نے بھی خطاب کیا۔جب کہ ہندوستان کے مشہورشاعر حضرت دلکش رانچوی،توقیرالہ آبادی،اکبرحسین،اخترضیاء،مولاناعمران رضا ،شادمظفرپوری نے خوبصورت اورموضوع سے متعلق کلام پیش کیا۔تحریک بیداری کانفرنس کو کامیاب کرنے میں مولاناخالدمصباحی،قاضی شریعت مولاناامیرالدین،مولاناسیدجمال صابر،مولانامحمدرضابرکاتی،مولانامعراج مصباحی،حکیم محمداسلم،مولاناارشادعلیمی،جہانگیراشرفی،شہزادعالم رشیدی،مولاناعظیم الدین،مولاناشمشاد،حافظ اکرام الہدی،جناب نظام الدین،جہانگیر،محمدارشاد،زاہدحسین، وغیرہ نے اہم کردار نبھایا۔مجمع عام میں کالی باغ،ندارت چوک،بسیریا،اجین ٹولہ،ماہٹولی،جمدارٹولہ،نرکٹیاگنج،سکٹا،شیوراجپور،چکھونا،بجولیا،اجاہا،چندپٹیا،بگہا،نوتن،مہدیا،پوکھریا،چھوگریا،رام نگر اورموتیہاری سے کافی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ واضح ہوکہ مرکزی ادارہ شرعیہ کے زیراہتمام بہارکے 34ضلعوں میں جھارکھنڈکے 24 ضلعوں میں اور دیگراہم مقامات میں اگلے 6ماہ میں مرحلہ وار تحریک بیداری واصلاح معاشرہ کانفرنس منعقدہورہی ہے۔جس کے لئے علماومشائخ واسکالرزپر مشتمل ایک نورانی قافلہ مولاناغلام رسول بلیاوی کی قیادت میں دورے پر ہے جس کاپہلادن چمپارن کے ٹاؤن ہال میں کانفرنس سے آغازہوا۔کانفرنس کااختتام صلاۃ وسلام اوردعاپرہوا۔14 دسمبرکوبعدنمازفجر شہرکے دیگرمحلوں میں پہونچااور وہاں کے معاشرتی حالات کاجائزہ لیا۔پھریہ قافلہ نرکٹیاگنج گیاجہاں مختلف ذمہ داران سے ملاقات کر اصلاح معاشرہ بالخصوص مسئلہ ارتداد،لعنت جہیز،منشیات سے دوری،اچھی تربیت واخلاق،فروغ اردو اوردیگرموضوعات پر راہ نماہدایات جاری کئے۔اور دارالقضاءادارہ شرعیہ چمپارن کی کارکردگی کودیکھکر خوشی کااظہارکیا۔اخیرمیں ادارہ شرعیہ جھارکھنڈکے ناظم اعلی مولاناقطب الدین رضوی نے 10 نکاتی قرارداد پیش کیاجسے تمام علماء ومشائخ وعامۃ المسلمین نے تائیدوحمایت کی۔جو قرارداد مندرجہ ذیل ہے۔
(1)ادھر چندسالوں سےملک کے اکثروبیشترحصےمیں دشمنان اسلام نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرناشروع کردیاہے اوران کے خلاف کوئ ڑھوس کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے ان کے حوصلے بلندہورہے ہیں ان کے اقوال وعوامل سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہورہے ہیں مسلمان کسی بھی حال میں اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں  گستاخی نہیں کرسکتااب ہمارے وطن میں یہ ضروری ہوگیاہے کہ جو عناصرپیغمبراسلام کی شان میں ذرہ برابر بھی گستاخی کرے ان کوکڑی سزادی جائے لہذا آج کااجلاس ہندوستان کے تمام ریاستی حکومتوں اورمرکزی حکومت سے پرزورمطالبہ کرتاہے کہ تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کےلئے قانون بناکرمجرموں کوکیفرکردار تک پہونچانےکاٹھوس قدم اٹھایاجائے۔
(2)  اس پرفتن دور میں بھارت کے اکثروبیشترحصے میں مسلم اقلیت کے افرادکوموب لینچنگ کے ذریعہ اوردیگرمنصوبوں کے تحت سخت اذیتیں پہونچاتے ہوئے شرپسندعناصروں کامسلم اقلیت پرحملہ،عزت وآبرو اورجان ومال کے در پہ ہوگئے ہیں ایسی صورت میں مرکزی حکومت سے مانگ کی جاتی ہے کہ وہ مسلم سیکیورٹی ایکٹ نافذکراقلیتوں کے جان ومال کی حفاظت یقینی بنائے۔
(3) ملک میں اکثریتی فرقہ کے مذہبی جذبہ کوبھڑکاکر،دلت۔مسلم  اور دیگراقلیتوں کے خلاف مذہبی منافرت پیداکر فضامکدرکی جارہی ہے ایسے عناصرپر تعزیرات ہندکے دفعات نافذکرکےایسے عناصرکوکیفرکردارتک پہونچایاجائے۔
(4)  پورے بہارمیں مسلم اقلیت کی تعداد ملازمت اوراقتدارمیں گھٹتے جاناتشویشناک ہے۔اقلیت کی اتنی بڑی آبادی کونظراندازکرترقی کے مراحل طئے نہیں کئے جاسکتے۔لہذا مسلم اقلیت کے سماجی،معاشرتی،تعلیمی،فلاحی پسماندگی کے مدنظرآبادی کے تناسب میں ملازمت اور اقتدار میں حصہ داری کو یقینی بنایاجائے۔
(5)  زبان اردو ملک کی تاریخ،ثقافت اور تہذیب وتمدن کاایک معیارہے اورصوبہ بہارکی ثانوی زبان بھی۔لیکن اس زبان اردوکے فروغ وارتقاء کے لئے کوئی مضبوط پہل نہیں ہورہی ہے جس کانتیجہ ہے کہ پرائمری،مڈل،ہائ اسکول اور کالجوں میں زبان اردو دم توڑ رہی ہے بایں وجہ جہاں محبان اردو کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہرمحاذ پرزبان اردوکی ترویج ملحوظ نظررکھیں۔وہیں جن اسکولوں میں اردویونٹ نہیں ہے وہاں اردویونٹ قائم کی جائے اور جن جن تعلیمی اداروں میں اردویونٹ توہے لیکن اساتذہ نہیں ۔وہاں پر اساتذہ کی تقرری ہو درسی کتابیں بزبان اردو دستیاب ہوں اور زبان اردوکو روزگار سے جوڑا جائےاورمحبان اردو دکانوں ،سرکاری دفاتر،تعلیمی اداروں سرکاری ہوں یاغیرسرکاری اردومیں نام پلیٹ مہم کو جاری رکھیں۔
(6) مسلم معاشرے میں جہیزکامطالبہ بڑھتاجاتارہاہے یہ ایک بڑی لعنت ہے فضول خرچی بھی اس قدربڑھ رہی ہے جو سماج کوتناہی کے دہانے پرپہونچارہی ہے۔مطالبہ جہیزاورشادیات میں فضول خرچی کی وجہ سے بیٹیوں کےماں باپ یاگارجینوں کی زمینیں جیسے تیسے بک رہی ہیں اور مسلم معاشرے سے ایک بڑا اثاثہ ختم ہورہاہے۔آج کا یہ اجلاس مسلم سماج کے ہرخاص وعام سے ہدایت کرتاہے کہ وہ شادیات کوسستاکریں اور مطالبہ جہیزکی لعنت سے خود بھی بچیں اوردوسروں کوبھی  چائیں۔جہیزکے ڈمانڈاورفضول خرچی کوروکنے کے لئے ہرچھوٹی بڑی تنظیمیں آغازکریں۔
(7) سماج کے نئ نسلوں میں منشیات کے بڑھتے رجحان ہرشخص  کوپریشان کررہاہے اسی طرح ارتداد کی شرح بڑھتی جارہی ہے بالخصوص دیہی وشہری علاقوں کی ناسمجھ مسلم لڑکیاں غیروں کے دام فریب میں آکر اپنامذہب اسلام چھوڑنے پرمجبور ہورہی ہیں لہذا ضروری ہے کہ منشیات سے پاک وصاف سماج کے لئے اور ارتداد سے سدباب کے لئے ہرمحلے میں تحریک بیداری شروع کی جائے۔
(8) مسلم معاشرہ میں دینی وعصری تعلیم کی شرح روزبروز گھٹتی جارہی ہے جس سے مسلم معاشرہ مزیدپسماندگی کی غارمیں پہونچ رہاہے۔لہذا کم کھائیں گے لیکن بچوں کوپڑھائیں گے پر عمل کرتے ہوئے ائمہ مساجد،علمائے کرام،انجمن اور کمیٹیوں کے ذمہ داران اور بااثر حضرات اس جانب خصوصی توجہ فرمائیں اور ہرسال قابل رشک تعلیمی شرح کے اضافے میں اہم کردار نبھائیں۔
(9) بیتیا چمپارن میں ضلع پرشاشن مسلم اقلیت کی بہترتعلیم وتربیت کےلئے لاجنگ اورفوڈنگ کے ساتھ الپسنکھیک بوائزہاسٹل اورالپسنکھیک گرلس ہاسٹل کی تعمیرکر ہرسہولت فراہم کریں۔
(10) چمپارن کے ہرایک ایک کونے کونے میں قومی ہم آہنگی اور بھائ چارے کاماحول قائم ہے اس پرمضبوطی کے ساتھ ثابت قدم رہیں اور ہرحال میں امن وشانتی کوقائم رکھنااپناسماجی فریضہ سمجھیں۔

About the author

Taasir Newspaper