Pin-Up Казино

Не менее важно и то, что доступны десятки разработчиков онлайн-слотов и игр для казино. Игроки могут особенно найти свои любимые слоты, просматривая выбор и изучая своих любимых разработчиков. В настоящее время в Pin-Up Казино доступно множество чрезвычайно популярных видеослотов и игр казино.

ریاست

منڈوس طوفان تمل ناڈو ساحل سے ٹکراکر کمزور پڑ گیا، بنگلورو‘ حیدرآباد اور ممبئی میں بھی اثر

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 11 th Dec.

حیدرآباد؍چنئی،11 دسمبر: خلیج بنگال میں بنا طوفان ’منڈوس‘ کل نصف شب کے بعد پڈوچیری اور آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹہ کے درمیان مہابلی پورم کے قریب ساحل کو عبور کر کے کمزور پڑ گیا۔ محکمہ موسمیات نے کہا کہ طوفان آج صبح کمزور ہو کر شدید طوفان کی شکل اختیار کر گیا ہے جس کے نتیجہ میں جنوبی ساحلی آندھرا، رائلسیما اور شمالی ساحلی آندھرا میں کئی مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش ہورہی ہے۔ طوفان منڈوس کے اثر کی وجہ سے اے پی کے ساحل پر 65 سے 75 کلومیٹرفی گھنٹے کی رفتار سے طوفانی ہوائیں چل رہی ہیں۔ ساحلی آندھرااور رائلسیما کے اضلاع میں کئی مقامات پر شدید بارش ہوئی۔ حکام صورتحال کا وقتاً فوقتاً جائزہ لے رہے ہیں اور طوفان کی شدت کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔کئی اضلاع میں تیز ہواؤں سے درخت اکھڑ گئے۔موسلا دھار بارش کی وجہ سے ارمبکم کی ایم ایم ڈی اے کالونی میں سڑکوں پر پانی جمع ہو گیا۔ چنائی میں تقریباً 200 چھوٹے اور بڑے درخت جڑوں سے اکھڑ گئے۔ چنگل پٹو کے ڈی ایم نے کہا کہ بجلی کے کھمبوں کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔ چنائی کے کمشنر گگندیپ سنگھ نے کہا کہ پہلے سے چوکس رہنے کی وجہ سے چنائی میں بڑا نقصان ٹل گیا۔محکمہ موسمیات نے کہا کہ سمندری طوفان مندوس کے لینڈ فال کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ ٹاملنا ڈو میں تباہی مچانے کے بعد سمندری طوفان جنوبی آندھرا پردیش کی طرف بڑھ گیا ہے۔ کئی اضلاع میں تیز ہواؤں کے باعث سینکڑوں درخت جڑوں سے اکھڑ گئے۔ چنائی کے ٹی نگر علاقے میں ایک موٹی دیوار گرنے سے تین گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔محکمہ موسمیات کی وارننگ کے پیش نظر اتوار تک 13 اضلاع میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔طوفان کا اثر چنائی کے علاوہ بنگلورو‘ حیدرآباد اور ممبئی میں بھی محسوس کیا جارہا ہے۔سمندری طوفان منڈوس کا نام متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے رکھا ہے۔ عربی میں اس کا مطلب خزانہ ہے۔

About the author

Taasir Newspaper